Chitral Times

Dec 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زرا سوچۓ…….صنف نازک……. تحریر: ہما حیات، چترال

شیئر کریں:

    اگرچہ 16 سال کی تعلیم نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے سر کے بال بھی سفید کر دیۓ ہیں۔ دوسرے مسائل سے لڑ جانے کے بعد ڈگری کے حصول کے لئے میری جنگ تو کرونا کے ساتھ اب بھی جاری ہے لیکن جنہوں نے ڈگریاں حاصل کی ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے اس کی امیدیں بھی ڈوبتی نظر ارہی ہیں۔

ہمارے یہاں پہلا مسلۂ تو تعلیم حاصل کرنے کا ہے، اس کے بعد چترال جیسے علاقے میں اسے ذریعۂ معاش بنانا بھی جوۓ شیر لانے کے مترادف ہے۔ایسے میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ٹیچنگ اسامیوں کے اعلان نے نوجوانوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اتنی خوشی کہ منہ سے بے اختیار نکلا “ماشاءاللہ”۔

ٹیچنگ اسامیوں کا جو اعلان ہوا ہے ان میں زیادہ تر پوسٹ مرد حضرات کے لئے اور صرف 10 پوسٹ خواتین کے لئے مختص ہیں۔ اب یہ جو 10 پوسٹ ہیں یہ بھی تورکھو یو سی میں موجود ہیں جبکہ لاسپور، چرون اور یارخون کے علاقوں کے لئے کوئی اسامیاں موجود نہیں۔ 

اول بات تو یہ کہ چترال کی زیادہ تر خواتین تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے پاس نہ صرف اچھے اداروں کی ڈگریاں ہیں بلکہ انہوں نے یہ ڈگریاں بھی اعلیٰ پوزیشن سے حاصل کی ہیں۔ اب ان ڈگریوں کے ساتھ وہ چاندی کے بال چھپائے گھروں میں تو نہیں بیٹھ سکتے۔ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے لئے سب سے موزوں پیشہ بھی ٹیچنگ کو جاناجاتا ہے اور کیونکر نہ ہو؟   روزبروز کے بڑھتے ہوئے ، دل دہلانے والے واقعات نے ان کی شخصیت کو متاثر جو کیا ہے۔

اب ایسے میں تحفظ کے ساتھ اگر روزگار کا موقع بھی مل جائے تو اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے؟ اس لئے حکومت کو چاہئیے کہ وہ اتنا عرصہ لینے کے بعد کم ازکم 100 میں سے 50 فیصد نوجوانوں کے لیے خواہ وہ مرد ہو یا خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ پوسٹ کا اعلان کرے۔ اور پھر زرا سوچۓ۔۔۔ اپ کے بیٹے تو محنت مزدوری بھی کر سکتے ہیں لیکن اپ کی بیٹیاں صنف نازک ہیں۔ 


شیئر کریں: