Chitral Times

Dec 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

علم کی اہمیت ۔۔۔۔۔۔ تحریر : جنید ایوب رومی

شیئر کریں:

بقول اقبال
اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا
ہے خون فاسد کے لئے تعلیم مثل نیشتر


جب سے دنیا وجود میں آئی ہے علم کا سلسلہ اس دنیا میں چلتا ارہا ہے۔ مختلف زمانے اور ادوار میں اللہ تغالی نے اپنے انبیاء کے زریعے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے لوگوں کو ترغیب دیتے رہے ۔ حتی کہ نبی اخرازمان صلی اللہ و غلیہ و الہ وسلم کا دور ایا۔ تو ہم علم کی اہمیت کو اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ و تبارک قران مجید میں ارشاد فرماتا ہے
ترجمہ : بیشک اپ کو مغلم بنا کر بھیجا گیا ۔۔۔
اور ساتھ ہی ارشاد نبوی ہے ۔ “علم حاصل کرنا ہر مسلماں مرد اور عورت پر فرض ہے”۔
علم ایک ایسا خزانہ ہے جسکو جتنا بھی خرچ کیا جائے اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے ۔ علم کے بغیر زندگی ادھوری ہے ۔ اور یہ علم ہی مرہون منت ہے کہ اج انساں چاند تک رسائ کو ممکن بنا دیا اور اپنے ہر مشکل کام کو سہل کر دیا ۔۔


مہینون کی مسافت کو گھنٹون میں محیط کیا اور گھر بیٹھے بیٹھے دنیا کی سیر کر رہا ہے ۔ اسطرح بیشمار فوائد حاصل کر چکا ہے ۔ یہ سفر ابھی ختم نھیں ہوا بلکہ مستقبل کے ہر نئے چلنجز سے نمٹنے کیلئےصرف اور صرف علم کا سہارا لینا پڑے گا۔


دنیا میں کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی ۔ یہ علم ہی کی پہچان ہے کہ انساں کو انساں بنا دیتا ہے اور انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ جو قوم یا فرد مثبت سوچ رکھتی ہو اس کا ترقی یافتہ نہ ہونا ناممکن ہے ۔ مثبت سوچ رکھنے کیلئے علم کی افادیت سے کوئ انکار نھیں کر سکتا۔ اسطرح دنیاوی حالات واقعات میں علم کی اہمیت اپنی جگہ مگر اخراوی زندگی میں بھی علم ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ اور دارلفانی سے چلے جانے کے بعد بھی حصول علم اور پھر اس پر عمل پیرا رھنا اصل کامیابی ہے ۔۔۔۔


شیئر کریں: