Chitral Times

Dec 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خراجِ تحسین بنامِ انور آمان……ازقلم شاہ نادر یُمگی

شیئر کریں:

پرندوں کے بچوں کے جیسے ہی پر نکل آتے ہیں وہ گھونسلے سے باہر نکلنےکی تکُ ودُو میں مصروف ہو جاتے ہیں پھر ازما ئشی پروازوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اس کوشش میں کئی پرندے اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے ہیں اور بچ جانے والوں کاجب یہ یقین پختہ ہو جائے کہ وہ پروں سے مظبوط ہو کر فضا ؤں میں اڑان بھرنے اور اپنا رزق ڈھونڈنے کا ہُنر سیکھ چکے ہیں بس اس اعتماد کے پیدا ہوتے ہی وہ اپنے آشیانے کو ہمیشہ کے لئےخیر باد کہنا شروع کر دیتے ہیں پھر وہ کبھی بھی پیچھےمڑ کر نہیں دیکھتے کہ جنگل کے جس درخت کے شاخ ِنازک پر ان کا بسیرا تھا کیا وہ درخت اور وہ گھونسلہ ابھی بھی سلامت ہیں یا نہیں۔یہ چونکہ پرندے ہیں اور یہ عمل شاید ان کی فطرت کا حصہ ہے ہم انہیں اس عمل پر دوشی یا بے وفا نہیں ٹھہرا سکتے۔ لیکن ہم چترالیوں کا تعلق بھی شاید پرندوں کے خاندان سے ہی ہے جن کے پر نکلتے ہی چترال سے ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ پڑھ لکھ کر، محنت و کاروبار سے یا کسی اور ذریعے سے بڑے بڑے عہدے اور شہرت حاصل کر نے کے بعد چترال اور چترالیوں سے لا تعلق ہو کر مٹی کا قرض اتارنا بھی بھول جاتے ہیں چترال کے بہارو خزان، سرما و گرما ، برفیلے پہاڑ ، کچھی پگڈنڈیاں،گرتے آبشار،شور مچاتی دریائیں،لہلہاتے کھیت ،صبح کے وقت پہاڑوں کے اُوٹ سے جھانکنے والی سورچ، پربتوں کو چاندنی سے منور کرنے والی چودھویں کی چاند، بزرگوں اور عزیزوں کی قبریں ، غربت اور بڑھاپے کی جھریاں چہرے پر سجائے ہوئے عزیز و اقارب چترال چھوڑنے والوں کی واپسی کی راہ تک رہے ہوتے ہیں ۔ لیکن جا نےوالے یا تو مستقل سکونت بدل دیتے ہیں یا پھر چند دنوں کے لئے ٹورسٹ بن کر وارد ہو جاتے ہیں۔

ایسے مایوس کن حالات میں سات سمندر پار رہنے والا ایک چترالی،اپنی دن رات کی محنت سے نام کمانے والے انور آمان چترال میں انجام پانے والے ہر ترقیاتی اور اجرِ عظیم کے حامل انسانی کوششوں کا حصہ بن کر اس مٹی سے اپنی دلی وابستگی کا مظاہرہ کرتے رہتےہیں بات وہ اپنی حد تک نہیں رکھتے بلکہ اپنی پوری فیملی کو ہر فلاحی کام میں اپنے ساتھ ساتھ رکھتے ہیں کوئی اس بات کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن میں نے اس بات کا ادراک حاصل کر ر کھاہے کہ انور صاحب اپنی اولاد کو چترال کی مٹی سے جُڑا ر ہنے کی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ انور صاحب اہل ِچترال کے چھوٹے بڑے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ اب چترال کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل عبور کرنے جا رہے ہیں جو کہ اپنی مرحوم ماں کے نام پر زیرِ تعمیر فائیو اسٹار ہوٹل بیجان کا تحفہ بھی چترال کی جھولی میں ڈالنے والے ہیں۔کوئی بھی کاروباری آدمی کاروبار کے حوالے سے اتنے بڑے رسک کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے لئے مارکیٹ کا انتخاب اولین ترجیح ہوتی ہے لیکن انورآمان صاحب نفع و نقصان کی سوچ سے بالا تر ہو کر چترال اور چترالیوں کے لئے اپنے آپ کو اور اپنی مال ودولت کو وقف کر رکھا ہے وہ اُن لوگوں کی سوچ کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے جن کے پاس بھی اللہ پاک کا دیا ہوا سب کچھ ہونے کے باوجود گاؤں کی سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے ایک بیلچہ تک خریدنا گوارا نہیں کرتے ۔کیونکہ انہوں نے اپنے لئےبڑی بڑی جیبوں والیکفن تیار کر رکھا ہے ۔


قارئین کرام!
یقیناً یہ عظیم منصوبہ بخیرو عافیت تکمیل کے بعد چترال کی اہمیت کو دوبالا اور اسکی قدرتی حسن کو اور بھی چار چاند لگا دیگا۔چترال کی ترقی اور خوشحالی میں انقلابی قدم ثابت ہوگا سیا حت کو فروغ دینے اور ثقافت کو اجاگر کرنے میں اس کا کردار بڑا اہم ہو گا۔سب سے بڑھ کر نیت صاف منزل آسان کے مصداق انور آمان صاحب کے اس حوالے سے تمام خواب شرمندہ تعبیر ہونگے۔ اور ہم دعاگو ہیں کہ جہاں اللہ پاک نے دست آمان خان فیملی کو اپنی نعمتوں سے نواز رکھا ہے وہاں ہماری دعاؤں کے طفیل اس خاندان پر ایک کرم اور فرمائے کہ اُن کی عمروں اور صحت میں بھی برکت عطا
کرے ( آمین)


شیئر کریں: