Chitral Times

Dec 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سود اور سودی معیشیت کے اثرات……ڈاکٹر ساجد خاکوانی.اسلام آباد،پاکستان

شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

            قرآن مجیداللہ تعالی کی وہ سچی کتاب ہے جو اپنے آغاز سے آج تک بالکل محفوظ و مامون ہے،اسکے مندرجات میں کوئی ردوبدل واقع نہیں ہوااور نہ ہی دنیا سے اسکی زبان متروک ہوئی اس لیے کہ اس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے اٹھالی ہے اور فرمایاکہ ”اِنَّا  نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہ‘ لَحٰفِظُوْنَ(۵۱:۹)“ترجمہ:”رہایہ ذکر(قرآن مجید)تواس کوہم نے نازل کیاہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں“۔قرآن مجید نے واضع طور پر فرمادیاہے کہ اللہ تعالی سود کو کم تر کرتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے”یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ أَثِیْمٍ(۲:۶۷۲)“ترجمہ:”اللہ تعالی سود کی جڑ ماردیتاہے اورصدقات کو نشونمادیتاہے اوراللہ تعالی کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسندنہیں کرتا“۔ یعنی سود سے بظاہر دولت بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت میں کم ہو رہی ہوتی ہے جبکہ صدقات سے دولت کم ہوتی محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقت میں بڑھ رہی ہوتی ہے۔انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے،وہ قریب کو جلدی دیکھتاہے اور اسے شدت سے چاہتا ہے جبکہ بعید کامشاہدہ تاخیر سے کرتا ہے اور اسکے انجام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتاہے۔اسی کا نتیجہ ہے سود خوراپنے وقتی مفاد کی خاطر اجتماعیت کا ابدی مفاد قربان کر دیتاہے اوربعد ازاں جب اجتماعیت اسکے سودی رویے کا شکار ہوتی ہے تو خود سود خور بھی اجتماعیت کے ساتھ تباہی کے اس گڑھے میں آن گرتاہے۔

            سرمایادارانہ معاشی نظام کی بنیادیں سودکی اینٹیں اور خودغرضی کے مصالحے سے چنی گئیں ہیں،ایسی بنیادوں پر استوار عمارت سے اعلی اسلامی اخلاق سے قطع نظر بنیادی انسانی اخلاقیات کی توقع رکھنا بھی عبث ہے۔قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”اَلَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلاَّ کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطَہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُوْا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا فَمَنْ جَاءَ ہ‘ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہ‘ مَا سَلَفَ وَ اَمْرُہ‘ اِلَی اللّٰہِ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰءِکَ أَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ(۲:۵۷۲)“ ترجمہ ”جولوگ سودکھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل کردیاہو،یہ اس لیے ہوگاکہ وہ کہاکرتے تھے تجارت بھی تو سودکی طرح ہوتی ہے،حالانکہ اللہ تعالی نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قراردیاہے۔لہذاجس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اوروہ (سودی معاملات)سے بازّگیاتو اس کامعاملہ اللہ تعالی کے حوالے ہے۔اورجس شخص نے لوٹ کر کر پھروہی کام کیاتوایسے لوگ دوزخی ہیں،وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے“۔سود خور ہرمعاملے کوپیسے اور مفاد کے ترازو میں تولتاہے،رشتے،ناظے،تعلقات،شرم و حیااور اقداروروایات،مذہب و تہذیب و ثقافت سب اسکے نزدیک ثانوی حیثیت میں چلی جاتی ہیں،پیسہ،دولت،سونے چاندی کے ڈھیراورننانوے اور سو کی بڑھوتری ہی اسکی زندگی کی کل متاع ہوتی ہے۔پیسے کے نقصان کے علاوہ انکا کوئی غم نہیں ہوتا اور سودونفع کے سوا انکی کوئی خوشی نہیں ہوتی۔

            ایسے لوگوں پر اللہ تعالی نے کیاخوب تبصرہ کیااورقرآن نے ہی کہا ”وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۹۵:۹۱)“ترجمہ:”تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جواللہ تعالی کو بھول گئے تواللہ تعالی نے انہیں اپنے آپ سے بھی غافل کردیایہی لوگ فاسق ہیں“۔کہ وہ گویا اپنے آپ کو بھی بھول جاتے ہیں،چنانچہ پیسے کے پجاریوں کی ذاتی زندگی بھی بہت عبرتناک اورقابل رحم بن جاتی ہے،پیسے کی خاطر انکا آرام،سکون،خانگی زندگی،حتی کی اکل و شرب بھی اس حد تک متاثر ہوجاتے ہیں کہ وہ کوہلوکے بیل ہی بن جاتے ہیں۔کتنے ہی لوگ کروڑوں کی جائدادیں اور روزانہ لاکھوں کے لین دین کرنے والے کئی کئی دن نہانے سے غافل،میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس،ہفتوں تک ایک جگہ اپنے ٹھیے پر گزارنے والے اور بڑھی ہوئی توندوں اور لٹککتے ہوئے جسموں کے ساتھ،بیوی بچوں اوردیگراہل خانہ سے کوسوں دوراپنی جوانی کے بہترین دن دولت کی دیوی کی پوجا اور بڑھاپے کی عبادت گزاری کے ایام ہائے دنیا اور ہائے پیسہ کی نذر کر دیتے ہیں۔ساری ساری عمر کماکما کر بھی خود انکے اپنے نصیب میں کیا ہوتا ہے؟یہ نوشتہ دیوارہے جو جاہے پڑھ لے۔سودی فکر اور منافع خوری کے کلچرسے تعلق رکھنے والے لوگ جب مل بیٹھ کر کوئی معاشی نظام کی تشکیل کریں گے تو کیا وہ کل انسانیت کے لیے بہتری کا باعث ہوگا؟؟؟نہیں قطعاََ نہیں،وہ سب سے پہلے اپناذاتی مفادپیش نظر رکھیں گے یا بہت بہت اور بہت ہی بلند سوچ کے مالک ہوئے تو اپنا قومی و نسلی یا علاقائی مفاد ہی انکا مطمع نظر ہوگا۔انکاہر زاویہ فکر اس دائرے کے گرد گردش کرے گا کہ کس طرح دوسری اقوام سے دولت کے انبارکھینچ کھینچ کر اپنے ملک میں لائے جائیں چاہے اسکے نتیجہ میں دوسری اقوام نان شبینہ کی محتاج ہی کیوں نہ ہوجائیں،انکی نظر دیگراقوام عالم کے خزنوں پر اور انکے انسانی و قدرتی وسائل پر جمی رہے گی کہ کسی طرح انہیں لوٹ لوٹ کر تو اپنے قبضے میں لائیں۔

            آج کے حالات اس پر شاہد ہیں سودی معیشیت خواہ وہ سرمادارانہ نظام سے تعلق رکھتی ہو یا پھر اشتراکی فکر سے متعلق ہو،پوری دنیا میں ایک استحصالی جابرانہ نظام کی پرورش کا باعث بنتی ہے۔دولت اور سیال مادے کی خاطر دنیامیں بڑی بڑی جنگوں سے گلی محلے کی سیاست تک انسانوں کے خون کی ارزانی سودی معیشیت کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔چھوٹی قوموں کے ایوان ہائے اقتدار میں غداروں کی بولیاں لگانا اور اپنی قوم کو کم سے کم قیمت پر فروخت کرنے والے کو مسند اقتدارپر براجمان کرنااور پھر اسکی اور اسکے اقتدار کی اس شرط پر حفاظت کرنا کہ وہ اپنے ملک کے وسائل پر ہمارا قبضہ روا رکھے اور قوم کو ان سب امور سے بے خبر رکھ کر انہیں عریانی و فحاشی کے بے ہودہ سیلاب اورموسیقی کے بے ہنگم شور میں اس قدر گم کردے کہ وہ اپنی تباہی سے بے خبر رہ کر اپنے آپ کو آسودہ محسوس کریں،سودی معیشیت کے وہ ثمرات بد ہیں جن سے پوری دنیا دوچار ہے۔بہت وقت نہیں گزرا کہ لین دین سونے چاندی کے سکوں میں ہوا کرتا تھا،ملکہ وکٹویہ کے مہر کیے ہوئے سکے شایدآج بھی کچھ پرانے لوگوں کے پاس موجود ہوں،پھر سود خوروں نے ساری دنیا سے سونے چاندی کو اکٹھا کر کے تو کاغذ کے کرنسی نوٹ جاری کروا دیے،اور سونا چاندی دنیا سے ناپید ہونے لگے یہاں تک کہ خواتین کے زیور کے لیے بھی سونے کی دھات ہزاروں روپے تولے کی قیمت پر پہنچ گئی جو کچھ ہی عرصہ قبل ہاتھوں میں عام گردش کرتی تھی۔جب نوٹ بھی دولت اور زر کا نعم البدل قرار پاگئے تو ان سود خوروں نے پلاسٹک کرنسی جاری کر دی،اب صورتحال یہ ہے کہ ایشیا میں تو پھر بھی کارڈز کے ساتھ ساتھ کچھ نقد بھی جیب میں موجودہولیکن یورپ اور امریکہ میں تو ایک ایک شہری کے پاس دس دس پلاسٹک کارڈزہیں جن سے وہ ایام روزوشب کا کاروبار زیست چلاتاہے۔

             معیارزندگی میں اضافے کی دوڑ سودی معیشیت کاایک اور شاخسانہ ہے،میڈیا کے ذریعے پرتعیش،آرام دہ،تکلفات سے پراور آسائشوں سے بھرپورزندگی کا تصورپیش کیا گیا،جب مقررہ آمدنی میں اس معیارکوحاصل کرنا ممکن نہ رہاتوسودی قرضوں کی فراوانہ فراہمی کادروازہ کھول دیا گیا۔ایک بنک سے قرضہ لیا اورقسطوں میں ادائگی بمع سودکامعاہدہ کرلیا،حالات ہمیشہ ایک سے تو نہیں رہتے،آج کے حساب سے ایک مقررہ قسط کی ادائگی ممکن ہے تو ضروری نہیں سال بعد بھی ممکن رہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ بنک نے اطلاعیہ بھیج دیا،تب دوسرے بنک سے سے قرض لے کر پہلے کو اداکردیا۔یہ سلسلہ چلتارہااورکھاتوں کے حساب کتاب کاگراف تو بہت بلندی پر پہنچ گیالیکن حقیقت میں پستی سوا کچھ حاصل نہ ہوااور جوجائدادیں قرق ہوتے ہوتے اپنی اصل قیمت سے پچاس گنا زیادہ کا قرض دے بیٹھیں اور جب انکی نیلامی کا وقت آیا تواصل زر تو کجاسود بھی مکمل وصول نہ ہوسکااور مالیاتی اداروں کی ایک لمبی فہرست ہے جوآئے دن قطاراندرقطار ٹوٹی تسبیح کے گرتے ہوئے دانوں کی ماننددیوالیہ ہوتے چلے جارہے ہیں۔جس کاایک اندوہناک نتیجہ بیروزگاری کے نتیجے میں سامنے آتاہے اور ایک ادارے کی بندش سے ہزاروں لوگ تہی دست ہوجاتے ہیں اوران پر انحصارکرنے والے خاندانوں کے چولھے سرد پڑ جاتے ہیں۔نتیجتاََمعاشرے میں جرائم کی شرح روزافزوں بڑھتی چلی جاتی ہے،امن مخدوش ہوتا چلاجاتاہے اوراخلاقیات کی عمارت دھڑام سے نیچے آگرتی ہے اور نسلیں تک مشکوک ہوجاتی ہیں اورخوف،دہشت،ننگ وافلاس اور جہالت بلآخرانسانی معاشرے کامقدربن جاتی ہے۔ان حقائق ونتائج پرقرآن مجیدکاتبصرہ ملاحظہ ہو”وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَءِنَّۃً یَّاْتِیْہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(۶۱:۲۱۱)“ترجمہ:”اللہ تعالی ایک بستی کی مثال دیتاہے اسکے باسی امن و اطمنان کی زندگی بسرکررہے تھے اورہرطرف سے انہیں بفراغت رزق مہیاہورہاتھا،ان لوگوں نے اللہ تعالی کی نعمتوں کاکفران شروع کردیاتب اللہ تعالی نے اس بستی کے باشندوں کو ان کے کرتوتوں کایہ مزہ چکھایاکہ بھوک اورخوف کی مصیبتیں ان پر چھاگئیں“۔

            خاندانی نظام کی بربادی سودی نظام کا ایک اور روح فرسا نتیجہ ہے۔سود اداکرنے کے لیے جب مردوں کی آمدنی پوری نہ ہوسکی تو مجوراََ عورتوں کو معاشی میدان میں نکلنا پڑتا ہے،اور جب عورت گھرسے باہر قدم رکھے گی تو شوہر شاید پیسے کی خاطر اپنی محرومیاں برداشت کرلے،بہن بھائی،ماں باپ بھی چلو کسی حد تک اس تبدیلی کو قبول کرلیں گے لیکن بچے کے لیے ماں کی کمی تو دنیا کا کوئی کردار پورانہیں کرسکتا۔اب دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو بچے کم پیدا کرو یاپھربچوں کو ڈے کئر سنٹرز، نرسریوں میں یانوکرانیوں کے سرڈال کر تو انکی پرورش کرواؤ،اور ان تمام صورتوں میں قوم کو صحت مند نسل کی بجائے ذہنی بیماراور نفسیاتی مریض ہی میسر آئیں گے۔خاندان اور نسل کی قیمت پر معاش کا سودا تو جانور اور پرندے بھی نہیں کرتے پھر حضرت انسان کایہ سودی رویہ چہ معنی دارد؟؟۔اس تصویرکا ایک اور اذیت ناک رخ یہ بھی ہے کہ معاش کابھاری بھرکم بوجھ صنف نازک کے کندھوں پرڈالنے  کے رواج نے خواتین کو تکمیل تعلیم پر مجبورکیااور عورتوں کو دورخی چھری سے ذبح کیا۔اب عورت بہترین ملازمت کے لیے اعلی سندحاصل کرتے کرتے اپنی شادی کی فطری کشش کی حامل عمر سے گزر جائے اورشوہر کو عمررسیدہ اورپختہ عمر کی شریکہ حیات میسرآئے جس کے ساتھ پیارمحبت کی بجائے سمجھوتے کی زندگی بسرکرنی پڑے اورآنے والی نسلوں کو نانی اوردادی کی عمرمیں ماں جیسی نعمت ملے اورپوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں نانی اوردادی کے گرم و گدازلمس سے مطلقاََمحروم ہی رہ جائیں۔

            آلودگی،شوراورگندگی کابدترین تحفہ سودی معیشیت کی ایک اور نحوست ہے،آج دنیا بھر کی فیکٹریاں بنکوں کے پاس رہن رکھی ہوئی ہیں،سرمایا دارایک صنعت اپنی جیب سے لگاتا ہے،پھر اسکے کاغذات بنک میں جمع کراکے تو سود پر قرضہ حاصل کر لیتا ہے اور اس قرضے سے دوسراکارخانہ لگا لیتا ہے،پھر تیسرا اور پھرمزیدتر۔اب جو صنعتی اکائی آٹھ یا بارہ گھنٹے چل کر اپنے جملہ اخراجات پوری کر سکتی تھی سود کی ادائگی اور پیسے کی لالچ میں وہاں چوبیس چوبیس گھنٹے کام ہوتا ہے اور دھوئیں شوراور گندگی کی ایک بہت بڑی مقدار وہاں سے برآمد ہوتی ہے جس نے کرہ ارض کے جملہ آبی و فضائی و بری ماحول کو زندگی لیے زہر بنادیاہے۔مہنگائی میں اضافہ اس کا ایک اورمنطقی نتیجہ ہے،جو مال دس فیصدمنافع پر بیچنے میں بچت ممکن تھی اب اس میں بنک کا سود بھی شامل کرنا پڑے گااور مہنگائی میں اضافہ ہوتا چلا جائیگا۔گرانی کے باعث جب مصنوعات کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہوجاتی ہیں تو اشتہاربازی کے ذریعے اشیاء کی مصنوعی مانگ پیداکی جاتی ہے اوریوں تعیشات کو ضروریات بناکر افراد معاشرہ کوان اشیاء کی خریداری پر مجبورکردیاجاتاہے۔سودی معیشیت کے یہ نتائج معاشرے میں غیراعلانیہ مقابلے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور مہنگی سے مہنگی چیزیں خریدنے پر لوگ باہم فخورہوتے ہیں اور نتیجے کے طورپر غریبوں کے جووسائل حیات قدرت نے امیروں کی جیب میں ڈال دیے تھے اب وہ حق داروں تک پہنچنے کی بجائے اپنے ہی چونچلوں پر،نخروں پر،بچوں کی بابت بے مقصد تقریبات پر، وصولیوں کی خاطربہانے بہانے سے پرتکلف پارٹیوں پر،گھرسے باہرکھاناکھانے  اوردوسروں کودکھانے اورجلانے کے لیے نئی سے نئی ماڈل کی گاڑیوں اور اعلی تر معیارزندگی کے حصول پر خرچ ہوجاتے ہیں اوراصل حق دارمحروم رہ جاتے ہیں۔اس طرح کاطرز حیات بیماریاں،پریشانیاں اور مصائب و آلام اپنے ساتھ لاتاہے تو پھر علاج و مداوات پر اٹھنے والے اخراجات ایک ایسی دلدل ہیں جن میں تاحیات ہی کشمکش کاسلسلہ چلتارہتاہے اورکبھی خلاصی نہیں ہوپاتی۔اور مرنے کے بعد ان کے انجام پر قرآن مجیدنے یوں منظرکشی کی ہے:”وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہ‘ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ(۹۶:۵۲) وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسٰبِیَہْ(۹۶:۶۲) یٰلَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ(۹۶:۷۲) مَآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ(۹۶:۸۲) ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ(۹۶:۹۲) خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ(۹۶:۰۳) ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ(۹۶:۱۳) ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوْہُ(۹۶:۲۳) اِنَّہ‘ کَا نَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ(۹۶:۳۳) وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ(۹۶:۴۳) فَلَیْسَ لَہُ الْیَوْمَ ہٰہُنَا حَمِیْمٌ(۹۶:۵۳) وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ(۹۶:۶۳) لَّا یَاْکُلُہ‘ٓ اِلَّا الْخَاطِؤُنَ(۹۶:۷۳)“ ترجمہ:”اورجس کانامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیاگیاوہ کہے گااے کاش مجھے نامہ اعمال نہ دیاگیاہوتا،اورمیں نہیں جانتاکہ میراحساب کیاہے،اے کاش دنیاکی موت پرہی میراکام تمام ہوجاتا،آج میرامال میرے کچھ کام نہ آیا،میراسارااقتدارختم ہوگیا،(حکم ہوگا)پکڑواسے اوراس کی گردن میں طوق ڈال دوپھردوزخ کی آگ میں اسے جھونک دو،پھراس کوستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں جکڑدو،یہ تو اللہ تعالی جل شانہ پر ایمان نہ لاتاتھااورمسکین کو کھانے پر ترغیب (دعوت)نہ دیتاتھا،لہذاآج یہاں اس کاکوئی یاروغم خوار نہیں ہے،اور زخموں کے دھوون کے سواس کاکوئی کھانا نہیں ہے،جس کو صرف گنہ گارہی کھائیں گے۔“

            سودکا انجام سوائے انسانیت کی تباہی کے کچھ نہیں،یہی وجہ ہے کہ آج د نیاکا عالمی مالیاتی نظام جو خالصتاََ سود پر بنیادکرتا ہے اپنی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور بڑے بڑے اذہان اسکوبچانے کی فکر میں،جولوگ تو اسکو سود کے ذریعے ہی بچانا چاہتے ہیں وہ گویاشوگرکے مریض کو میٹھا کھلا کر بچانا چاہتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پورپ کے متعدد ممالک اور جاپان جیسا ملک بھی سودی شرح کو صفر کی سطح میں لانے پرمجبور ہوئے ہیں۔پیسہ جمع کر کے اس پر سود کھاناگویا مجبور انسانیت کا خون نچوڑنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو دوسرے کے لیے کنواں کھودتاہے پہلے خود اس میں گرتا ہے۔دوسری قوموں کوسود میں جکڑنے والے آج خود اپنی سودی معیشیت کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہوئے چاہتے ہیں۔ان کے معاشروں میں بے روزگاری اپنی انتہاؤں کو چھورہی ہے،حرص و لاچ و طمع کی خاطر رشتوں کی پہچان ختم ہوتی چلی جارہی ہے،عمارتیں بلندیوں کو چھورہی ہیں اور اخلاقیات پستی کی طرف تیزی سےروبہ زوال ہیں۔امیراقوام نے اپنی معیشیت کوکندھادینے کے لیے غریب اقوام کاخون نچوڑنے کاوطیرہ اپنارکھاہے،غریب ملکوں کے متول افرادکو سرمایاساتھ لانے پر شہریت کاجھانسہ دیاجاتاہے اوراس طرح ان کی دولت اینٹھ کر اپنے ملک کے خزانے بھرے جاتے ہیں۔دوسرے ملکوں سے قابل،لائق اور اعلی ترین تعلیم یافتہ نوجوانوں کو زیادہ تنخواہوں کی لالچ دے کر اپنے ملک کی ترقی کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔اپنی ملک کی عالمی برتری کے باعث تعلیمی ڈگریاں ایک طرح سے فروخت کی جاتی ہیں اور یوں بھی غریب ملکوں کاسرمایا اپنے ملک میں کھینچ لیاجاتاہے جس کے نتیجے میں اس استحصالی نظام کے خلاف نفرت اب سیاسی جدوجہدسے عملی جدوجہدکی طرف بڑھ رہی ہے اور چھوٹی اورغریب قوموں کے نوجوانوں نے بغاوت کی راہ اپنالی ہے جنہیں بڑی قوموں نے دہشت گرد کانام  سے دیاہے اورانسانیت اورعالمی امن کے نام پرانہیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔

            انسانیت کی فلاح کے لیے آج بھی انبیاء علیھم السلام کا لایا ہوا نظام ہی فلاح و کامرانی کا باعث ہے۔آخری نبی ﷺ نے زکوۃ وعشروخمس کے عنوان سے صدقات و خیرات کاایسانظام مرحمت کیا ہے کہ اس سے معیشیت کاکاوبار ہی نہیں انسانی اقداروروایات بھی دن دگنی رات چگنی ترقی کریں گی۔کیا ہی خوب ہوکہ انسان خود تجربے کرنے کی بجائے حکم ربی پر توکل کرے اور ھل من مزیدکی بجائے بانٹنے،تقسیم کرنے،بلاغرض دینے اوربھلا کرنے کے رویے پر عمل پیرا ہوکر سودی معیشیت کی بجائے عدل و احسان کی معیشیت پر عمل پیرا ہوجائے۔دامے درمے سخنے بالآخر انسانیت کواسی طرف پلٹناہوگااوراب وہ دن دورنہیں جب ان تمام ظالمانہ نظام ہائے معیشیت کاخاتمہ ہوگااور آسمان سے نازل ہونے والا فلاح دارین کاضامن نظام ا کرہ ارض پر نافذ ہوگا،ان شااللہ تعالی کیونکہ”وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ أَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلَی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ(۳:۳۰۱)“ ترجمہ:”اورسب مل کراللہ تعالی کی رسی کومضبوط پکڑلواورتفرقہ میں نہ پڑو،اللہ تعالی کے اس احسان کو یاد رکھوجواس نے تم پر کیاہے،تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اوراس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے،اورتم آگ کے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے،اللہ تعالی نے تم کواس سے بچالیا،اس طرح اللہ تعالی اپنی نشانیاں تم پرروشن کرتاہے شایدکہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کاسیدھاراستہ نظر آجائے“۔

drsajidkhakwani@gmail.com


شیئر کریں: