Chitral Times

Oct 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کورونا وائرس کی دوسری لہر اور احتیاطی تدابیر…..سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

دنیا کو معلوم ہے کہ کورونا  کووڈ -19چین کے شہر وہان سے دسمبر 2019 سے شروع ہوا اور ایک مہلک بیماری کی صورت میں دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں پھیلی اور لاکھوں انسانوں  کو دیکھتے ہی دیکھتے  متاثر کرتی رہی  جس کے نتیجے میں ایک سال کے اندر پوری دنیا میں لاکھوں انسانوں کو  اپنا لقمہ ء بنا چکی ہے۔ کئی لوگ موت و حیات کی کشمکش میں ہسپتالوں اور گھر کے اندر آئسولیٹ  ہوچکے ہیں۔نظامِ زندگی متاثر ہوتی جارہی ہےجس کی وجہ سے انسان ذہنی ،معاشی اور سماجی طور پر کس مپرسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک چار کروڑ چھیاسی لاکھ متاثر ہوچکے ہیں جبکہ بارا لاکھ بتیس ہزار سے زائد لوگ  موت کے آغوش میں جاچکے ہیں۔اس طرح ملک کے اندر اس کا جائزہ لیا جائے تو  اب تک تین لاکھ چالیس ہزار سے زائد  لوگ متاثر ہیں جبکہ سات ہزار   ایک سو تریانویں افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔

اس وبا کی روک تھام کے لئے  حکومت کے اعلیٰ حکام سے لیکر  مذہبی سطح  تک کوششیں  کی گئیں اور ہر مکتبہ فکر کے جید علماء اس کے مضر اثرات اور جان لیوا نقصانات سے اپنے آپکو بچانے کے لئے حکمتِ عملی پر زور دیتے رہے۔اس پر طرہ یہ کہ سوشل میڈیا نے تو اس وبا سے بچنے کے لئے ٹیلی وژن میں مختلف قسم کے پروگرام منعقد کئے حتیٰ کہ موبائل فون  میں بھی “کورونا سے بھاگنا نہیں لڑنا ہے”رنگ ٹون بناکر لوگوں کو کورونا کی سفاکیت سے  آگاہی دی گئی ۔ نیز شہ سرخیوں میں “دو ہفتوں میں کورونا کی تعداد میں اضافہ ہوا ، کورونا پاکستان کی قومی سلامتی کا مسلہ  بن گیا  “جیسی  آہم خبریں دیکھنے  کو مل جاتی ہیں۔یہ باتیں سن کر  ہر ذی شعور انسان احتیاطی تدابیر پر عمل کے ذریعے آپنے  آپکو بچانے کی فکر میں ہے۔عوام الناس کا خیال یہ تھا کہ یہ وبا جلد ختم ہوجائے گی اور لوگ پہلے کی طرح اپنی زندگی کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں گےاور کئی مہینے تک اس امید اور یقین کے ساتھ انتظار کرتے رہے  کہ یہ وبا کب ختم ہوگی؟ ۔ لیکن یہاں معاملہ امید کے برعکس نظر آیا اور یہ بیماری روز بروز بڑھتی رہی اور ایک سال گزرجانے کے باوجود بھی جانے کا نام نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں کے اندر تینتیس افراد انتقال کر گئے ہیں جبکہ اُنتیس ہزار  تین سو اٹھتر فعال کیسیز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اگر یہ کہہ دیا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ کورونا جاتے جاتے دوسری لہر کی صورت میں  پھر حملہ کردیا ہے   گویا کورونا کا یہ حملہ پہلے سے زیادہ خطر ناک  ہوگا۔جس کا واضح  ثبوت پوری دنیا میں چھ لاکھ لوگ  روزانہ متاثر ہورہے ہیں۔اور روز ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے جن میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جج جسٹس وقار احمد سیٹھ  بھی شامل ہیں  جو کورونا کے باعث اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں  انتقال کرگئے ہیں۔خدا مرحوم کی روح کو دائمی سکون نصیب کرےاور اس کے لواحقین کو صبرو جمیل عطا فرمائے۔

پہلی دفعہ چترال میں کورونا کا کیس  جب سامنے آیا تو ہر کوئی پریشان تھا اور لوگ ادھر اُدھر  ایک دوسرے کو سلام کئے بغیر بھاگ رہے تھے ۔گویا ایسا  لگ رہا تھا کہ کورونا ہر کسی کے تعاقب میں ہے۔لوگوں کی نیندیں حرام ہوگئیں تھیں   جس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا لوگوں کے لئے لازمی عمل ہوگیا  تھا ۔لیکن آب حالت یہ ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع میں کورونا دوبارہ حملہ شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں تشویش کی لہر پھر  دوڑ گئی ہے ۔ اس وقت  لوئر چترال میں کورونا متاثرین کی تعداد 598 ہوگئی ہےجن میں سے 556 صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ 7 افراد وفات پاچکے ہیں۔اس طرح اپر چترال میں بھی کورونا کیسز کی تعداد 383 تک پہنچ چکی ہے جن میں سے 7 تک افراد جان بحق ہوچکے ہیں۔ان حالت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت نے مذہبی اور سیاسی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ  دوبارہ لاک ڈاؤں  لاگو کرنے اور اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز  کو دوبارہ بند کرنے اور آن لائین کلاسیس کے انعقاد پر پر غور فکر کررہی ہے۔دنیا کے ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر بھی آئے گی جو گزشتہ حالات سے بھی  زیادہ خوفناک اور جان لیوا  ہوسکتی ہے۔ اگر حالات ایسی رہیں تو ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوگی کیونکہ ایک جان کی حفاظت پوری انسانیت کی حفاظت ہے  ارشاد خداوندی ہے۔  

  وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا۔ (5.32)

ترجمہ:   اور جو شخص کسی ایک کی جان بچائے گویا  اُس نے تمام انسانیت کی جان بچائی ۔

اس آیہء مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں پہلے پہل اپنی جان کی  ،اپنے خاندان اور پھر اپنے معاشرے کے لوگوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔کیونکہ  کورونا ہر ایک کی دہلیز میں حملہ کرنے کے لئے  استادہ ہے۔تھوڑی سی غفلت سے کسی کو بھی اپنا شکار بنا سکتا ہے۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم خرگوش کی طرح سوئے ہوئے ہیں نہ علماء کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور نہ حکومتی قوانین کے احترام کے لئے تیار ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری شادی بیاہ کے تقریبات پہلے سے  کہیں زیادہ  ہورہیں ہیں۔تعزیت  کے مواقع پر لوگوں کا جامِ غفیر جمع ہو جاتا ہے۔سوشل معاملات میں لوگوں کے اجتماعات پر کوئی پابندی نہیں۔ یہاں تک کہ حکومت کے مخالفین بھی سیاسی جلسے جلسوں کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔گویا حکومت کے قوانین  بھی  کہنے کی حد تک رہ گئے ہیں ۔ ٹیلی وژن کی خبریں بھی بے معنی سی ہوگئیں ہیں کوئی ان کی طرف توجہ بھی نہیں دیتا۔ معاشرے کے اکثر لوگ کورونا کے بارے میں خبریں سن سن کر مزید ڈپریشن میں مبتلا ہوگئے ہیں۔  ان حالات کو دیکھ کر ایک سائکلو جسٹ نے اپنا مشورہ یوں دیا کہ ” اپنے اپکو کورونا وائرس کی خبروں سے دور رکھیں۔ اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد جاننے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کریکٹ میچ نہیں ہے کہ اس کو جاننا ضروری ہو۔ہمیشہ کورونا کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ ڈپریشن  یا نروس بریک ڈاوں کے شکار ہوسکتے ہیں۔ خدا کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جس طرح ہر بلا ٹلتی ہے یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔آپنے آپکو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کریں  اور دل کو لبھانے والی کوئی اچھی فلم اور موسیقی سننے کی عادت اپنائیں”۔

مزکورہ یہ تمام مشورے اپنی جگہ  لیکن احتیاطی تدابیر پر عمل ہی بہتر معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ احتیاط پرہیز سے بدرجہ ہا بہتر ہے۔ دنیا میں بے احتیاطی کی وجہ سے اکثر لوگ کورونا وائرس کی وبا میں مبتلا ہوگئے ہیں لیکن جنہوں نے احتیاطی  تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اپنے ڈاکٹروں کی بات مانی وہ اس بیماری سے محفوظ رہیں۔

ہمارے معاشرے میں مختلف قسم کی آرا  پائی جاتی ہیں۔کوئی اس کو لوگوں کی سازش بتاتے ہیں کوئی اس کو حکومت کی نااہلی شمار کرتے ہیں۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو یہ  لوگوں کی ایک قسم کی جہالت ہے اور یہی جہالت لوگوں کو منفی رجحانات کی جانب مائل کرتی ہے۔جاننا چاہئے کہ اس قسم کی بیماریاں ماضی میں بھی ہماری زندگی کا حصّہ ہوا کرتی تھیں ۔ تاریخ کا مطالعہ کیا ہوا انسان جانتا ہے کہ اس قسم کی وبائیں نبی کریمﷺکے مبارک زمانے میں بھی آئیں ہیں اور کئی لوگ اس وبا کی وجہ سے جان بحق ہوئے  ہیں ۔ عہدِ فاروقی میں پچیس  ہزار سے زیادہ صحابہ کرامؓ وفات پا چکے ہیں۔پانچویں صدی  ہجری میں قرطبہ میں وبا آنے کی وجہ سے تمام شہر صفحہء ہستی سے مٹ گئے یہانتک کہ مسجدوں میں نماز پڑھنے والا کوئی نہیں رہا۔ ان مثالوں سے یہ واضح ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے اور آج بھی ماضی کی طرح ایک وبا پھیلی ہوئی ہے اس وبا سے بچنے کے لئے نہ تعویز کی ضرورت ہے اور نہ ہی  بےراہ روی  کی۔

تاریخ کہتی ہے کہ حضور ؐ جس کے لئے یہ پوری کائنات بنی ہے  اور  جس کے ایک ہی اشارے سے احد کے  پہاڑ  بھی  دشمنوں کے اوپر گرنے کے منتظر ہیں  مگر رحمتِ دوعالم نے قانونِ فطرت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے اپنے سے کئی گنا دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے سلمان فارسی ؓکے مشورے سے خندق کھودنے کےلئے ہدایت کرتے ہیں۔اسطرح  آنحضور ﷺ پر جب کفار نے حملہ کرنے کا پروگرام بنایا تو آپؐ اپنی جان کی حفاظت کے لئے مدینے کی طرف ہجرت فرماتے ہیں۔ حضور ؐکے ان زرّین  اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی اپنے اپکو کورونا کی وبا سے بچا سکتے ہیں۔نبی کریم ﷺ کی تعلیمات یہ ہیں  کہ راہ چلتے ہوئے کوئی مسافر اگر  مل جائے تو اُس سے مصافحہ کرنا سنت مین شامل ہے۔لیکن کورونا کے دنوں  میں کسی سے مصافحہ نہ کرنا سنت ہے کیونکہ اس سے بیماری پھیلنے کا امکان زیادہ ہے۔صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک دفعہ حیوانات میں متعدی بیمار پھیل گئی تو آپ ؐنے فرمایا کہ اچھی نسل کے اُنٹوں کو اس بیماری سے بچانے کے لئے الگ رکھا جائے تاکہ وہ بیمار اُونٹوں سے متاثر نہ ہوں۔غور کا مقام یہ ہے کہ حضور اکرمؐ حیوانات کی زندگی کے لئے اتنے فکرمند تھے کیا وہ  اشرف المخلوقات کے لئے بےچین اور پریشان نہیں ہونگے؟کیونکہ وہ اُمت کے غمخوار ہیں ،اُمت کو اگر کوئی تکلیف پہنچے تو اُسے شاق گزرتی ہے۔ آج کورونا وائرس ایک مہلک بیماری کی صورت میں انسانوں میں پھیل چکی ہے ۔ ایسے حالات میں ان اصولوں پر عمل کرنا دین کا  لازمی حصّہ ہے۔ ہماری تھوڑی سی غفلت  بیماری کو دعوت دینے کا سبب بن سکتی ہے۔آئیں احتیاطی تدابیر پر آج سے پھر عمل کرنا شروع کریں  جس کے لئے ہمیں عوامی اجتماعات میں جانے سے گریز کرنا ہے ۔ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھتے ہوئے ماسک کا استعمال لازمی کرنا ہوگا۔دوستوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے ساتھ غیرضروری ملاقاتوں سے پرہیز کرنا ہوگا۔اپنے اردگرد جو لوگ اس مہلک وائرس کے بارے میں غیرمحتاط ہیں  انہیں پیارو محبت سے سمجھنا یا  جو لوگ اس کا مزاق اُڑاتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کرنا۔ خدا کے لئے ان اصولوں کو سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے ،قانون پر سختی کے ساتھ عمل کرتے ہوئے جسمانی فاصلوں پر بھر پور طریقے سے عمل کیا جائے تاکہ ہم سب کی جان بچ سکے۔معاشرتی زندگی میں جسمانی فاصلوں پر عمل کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے لیکن اس وقت اپنی پیاری جان کی حفاظت کے لئے ایسا قدم اُٹھانا ہر ایک کی ذمہ داری میں شامل ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

یہ بات ضروری ہے کہ ہر فرد سمجھ جائے
اپنے ہی گھر میں سب کو احتیاط سے رہنا

لازم ہےاحتیاط ہو، قانون پر عمل ہو
بس ان دنوں گھر سے باہر ہر حال میں نہ جانا

پھر بھی اگر کسی سے ملنا ہوا  ضروری
ملنا ضرور لیکن ذرا  فاصلہ رکھنا


شیئر کریں: