Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کنٹرول لائن پر بھارتی دراندازی کے پیچھے مذموم عزائم ۔۔۔۔پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 کنڑول لائن پرجہنم کا سماں ہے۔ آزاد کشمیر میں موجود کنڑول لائن پر بھارتی دراندازی آئے روز شدت آتی اختیار کرتی جا رہی ہے۔ کنڑول لائن پر بھارتی خلاف ورزیاں سال 2017 کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ کنڑول لائن پر کشیدہ صورتحال جنوبی ایشیاء کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ 2016 میں بھارت نے 382 مرتبہ، 2017 میں 1,299مرتبہ 2018 میں 2000 مرتبہ اور رواں سال کے دوران بھارت کنڑول لائن پر 2700سے زیادہ بار جارہیت کرکے سارے ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ کنڑول لائن پر بھارتی خلاف ورزیوں کے پیچھے بھارت کے واضع مزموم عزائم کار فرما ہیں۔ بھارت آئے روز کنڑول لائن پر سول آبادی کو نشانہ بناتا ہے۔ بھارت نے لائن آف کنڑول پر بسنے والوں کے لیے جینا محال کر رکھا ہے۔ بھارتی توپ خانہ آگ اگلتا ہے اور سول آبادی اس کا نشانہ بنتی ہے۔لوگوں کے مکانات جل کر خاکستر ہو جاتے، ان کے مال مویشی مارے جاتے، ان کی سال بھر کی جمع پونجی جل کر راکھ ہو جاتی ہے، ان کے بچے، عزیر، بہن بھائی شہید ہو جاتے ہیں اور بعض زندگی بھر کے لیے اپاہچ ہو جاتے ہیں۔جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ لائن آف کنڑول پر رہنے والی آبادی پیچیدہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکی ہے۔ سردیوں کے لیے جمع کیا ہوا بالن اور گھاس کے ڈھیر بھارتی گولہ باری کی وجہ سے جل جاتے ہیں۔ بھارت جان بوجھ کر سوچی سمجھی سازش اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ لائن آف کنڑول پر گولہ باری کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکامی پر بھارت اپنا غصہ لائن آف کنڑول کی معصو م سول آبادی پر نکالتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے کے بعد صفاک اور بزدل بھارتی افواج اپنا بدلہ لائن آف کنڑول پر بسنے والی سول آبادی سے لیتی ہے۔ بھارت کنٹرول لائن پر گولہ باری کے زریعے سول آبادی کوپاک فوج کے خلاف متنفرکروانے کے عزائم پر کاربند ہے۔  بھارت سرحد کے اس پار سے دہشت گردی کی اپنی گردان میں بری طرح ناکامی کے بعد اب نئے محاذ کھولنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ لائن آف کنڑول پر بھارتی اشتعال انگیزی کا ایک مقصد مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال سے توجہ ہٹانا ہے کیونکہ بھارت اپنے ہی آئین میں غیر آئینی تبدیلی کر کے 270 اور 35A ختم کرنے کے باوجود بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے۔

بھارتی اشتعال انگیزی کے پیچھے ایک محرک ہندو انتہاپسند ی بھی ہے اور مودی کی ہندو ذہنیت کی وجہ سے نہ صرف کنڑٖول لائن کے دونوں اطراف بلکہ بھارت کے اندر بھی غیر ہندو چاردیواری تک مقید ہو کر رہ چکے ہیں حتی کہ ہندو سکھوں کو بھی گاجر مولی کی طرح کاٹنے سے گریز نہیں کرتے۔ بھارت کی ہندوذہنیت نے ہندوستان کو اپنے تمام ہمسایوں سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ رہی سہی کسر مودی کی حکومت اوربھارتی اسٹیبلشمنٹ نے نکال دی ہے۔ یوں بھارت جنوبی ایشیا ء میں تنہا ہو کر رہ گیا ہے۔ اکھنڈ بھارت کا تصورہندوں کے سر پر سوار ہے جسکی تکمیل کے لیے بھارت نے بنگلہ دیش بنایا، پھر روس کی بگل میں رہ کر یہ خواب دیکھا اور اب دونوں جگہوں سے منہ کی کھانے کے بعد امریکہ کی گود میں بیٹھ کر جنوبی ایشیاء میں حکمرانی کے سپنے دیکھنے لگا ہے۔ بھارت کی ہندو ذہنیت اور تنگ نظری نے جنوبی ایشیاء کے چھوٹے ممالک کو چین کے ساتھ کھڑا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ بھارت کی چین اور پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت دیگر چھوٹے ممالک کو تو آسانی سے ہڑپ کر جائے گا مگراس کے اکھنڈ بھارت کے خواب کی راہ میں چین اور پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔چین اور پاکستان کی دیرینہ دوستی بھارت اور امریکہ دونوں کو یہ ایک آنکھ نہیں بہاتی۔

کنڑٖول لائن پربھارتی گولہ باری امریکی ایماء پر کی جا رہی ہے ورنہ بھارت میں اتنی ہمت اس سے پہلے کبھی بھی نہ تھی۔ امریکہ جنوبی ایشیاء میں چین کے برھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنے کے لیے بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔ بھارت امریکہ کے ساتھ دوہری چال چل رہا ہے ایک طرف تو وہ امریکہ سے چین کے خلاف دیوار بننے کے نام پر فائدے اٹھا رہا ہے دوسرے جانب افغانستان میں دہشت گردی کرو ا کر امریکہ کو افغانستان میں رہنے پر مجبور کر رہا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معائدے کے بعدحملوں کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا مگر آئے روز افغانستان میں ہونے والے واقعات بھارت کی منصوبہ بندی ہے۔ بھارت بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ جب تک امریکہ خطے میں موجود رہے گا اس کا کام نکلتا رہے گا۔ بھارت عالمی سطح پر اپنے غیر قانوی اقدام، کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کوئی جواز پیش کرنے میں ناکامی کے بعد سارا غصہ لائن آف کنڑول کی نہتی عوام پر نکالتا ہے۔ لائن آف کنڑول پر اشتعال انگیزی کی ایک اور وجہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو روکنا ہے کیونکہ بھارت مذاکرات کی میز پر ناکامی کے بعد مذاکرات سے بچے کے بہانے تلاش کر رہا ہے اور ماضی میں بھی بلاجواز ہیلے بہانے بنا کر مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرتا چلا آیا ہے۔

پاکستان کشمیر پر اپنے تاریخی موقف سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں اور بھارت کوکشمیر پر مذاکرات سے راہ فرار کے لیے کوئی بھی بہانہ چاہیے۔ کنڑول لائن پر بڑھتی کشیدگی دونوں ممالک میں ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے جس کی لپیٹ میں نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا آئے گی۔ بھارت علاقائی امن کو تباہ کر کے عالمی امن کو تہہ تیگ کرنے کے درپے ہے۔ امریکہ کی بھارت نوازی سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے جو امریکی مفادات کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔دونوں ممالک میں جنگ کے نتیجے میں عالمی برادری بھی دونوں حریفوں سے کم متاثر نہیں ہو گی۔ بھارت عالمی سرمایہ داروں کی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورت میں عالمی سرمایہ کاروں کا ٹریلین ڈالرز کا نقصان ہو گا مگر بھارتی جنون اس کو خاطر میں نہیں لاتا۔ بھارت عالمی برادری کو اپنی بڑی منڈی میں لاکر بلیک میل کر تا ہے کیونکہ اسے اس بات کا ندازہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ حالات زیادہ کشید ہ ہونے کی صورت میں عالمی برادری اپنی سرمایہ کاری بچانے کے لیے کوشاں ہو جائے گی اور بھارت اس بہانے آئے روز پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ نیلم ویلی وہ بدقستمی وادی ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ گیارہ سال تک نیلم ویلی روڈ بند رہی اور 3000 شہری شہید اور 5000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ مالی،تعلیمی، سماجی اور نفسیاتی نقصان کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بھارتی جارہیت کی کہانی موجود نہ ہو۔

وادی کے حکمران پنڈی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں اورسیاسی دوروں اور الیکشن کے دوران نظر آتے ہیں۔ عام آدمی کے مسائل سے انہیں کوئی غرض نہیں ہے۔ عوام کے حقیقی نمائندے مشکل کی گھڑی میں عوام کے ساتھ موجود ہو تے ہیں جیسے حالیہ بھارتی گولہ باری کے دوران پیر مظہر سعید شاہ صاحب بھارتی گولہ باری کے دوران  لوگوں کے درمیان موجود تھے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے نہتی عوام کو جمع پونجی سے محروم ہوتے دیکھا اور نیلم کے مظلوموں کی آواز بھی اٹھائی۔ ایسی قیادت سیاست بھی جانتی ہے اور عبادت بھی۔ پیر مظہرسعید شاہ صاحب نے نیلم میں گولہ باری سے شہید ہونے والے ڈاکٹرکا جنازہ بھی پڑھایا اور شہداء اور زخمیوں کے گھرو ں میں چل کر گئے اور ان کے دکھ میں شریک  ہوئے اور زخمیوں کی عیادت کی۔ نیلم کے عوامی مسائل اور الم سمجھنے والے پیر مظہر سعید شاہ صاحب نے نیلم میں بھارتی گولہ باری سے متاثر ہونے والوں کی آواز اعلی حکام تک پہنچانے کے لیے اٹھمقا م میں پریس کانفرنس کر کے نیلم کے مسائل اجاگر کیے۔ نیلم کے متاثرین کے لیے ذاتی کاوشوں سے امدادی سرگرمیاں بھی شروع کر دی ہیں۔یہ وقت ہے عوام یہ جان لے کون یو ٹیوب پر بیان دیتا ہے اور کون میدان میں اتر کر لاشیں اٹھاتا ہے، جلتے مکانات کی آگ بجھاتا ہے،شہداء کا جنازہ پڑھاتا ہے، زخمیوں کی عیادت کو آتا ہے اور برف سے بند ہونے والے راستے کو خود کدال لے کر صاف کرتا ہے۔ نیلم ویلی کی عوام تو چکی کے دو پٹوں میں پس رہی ہے۔

ایک طرف سے انڈیا گولے برساتا ہے اور دوسری جانب عوام کو کوئی بنکرز بنا کر نہیں دیتا۔ بارہا گزارشات کے باوجود بھی حکام بالا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ان کے بچوں کی آنکھیں بھارتی شیلنگ سے نکلیں، ان کے جوان بیٹے، بھائی شہید ہوں، ان کے رشتہ دار زخمی ہوں، ان کی سال بھر کی جمع پونجی جل کر راکھ ہو جائے م، ان کے گھروں پر گولے گریں تو انہیں بنکروں کی اہمیت کا اندازہ ہو۔ محلات میں رہنے والوں کو بنکروں کی اہمیت کا کیاپتہ۔ بھارت نے اپنی طرف سول آبادی کو کنڑول لائن سے پانچھ میل دور منتقل کر دیا ہے اور ہم بنکرز تک بنا کر نہیں دیتے کنڑول لائن سے دور کے بجائے اس دنیا سے ہی نکالنے کی منصوبہ بندی پر گامزن ہیں۔ہمیں بنکروں کے لیے بھی عدالت کا دوازہ کھٹکھٹانا پڑھتا ہے مگر پھر بھی شنوائی نہیں ہوتی۔مقامی آبادی کے پاس محفوظ شیل پروف بنکرز بنانے کی استطاعت نہیں ہے ورنہ ہم اپنے بچوں کی کی آنکھیں ضائع کروانے، اپنے جوان سال بیٹوں کی لاشیں اٹھانے کے بجائے خود بنکرز بنا لیتے۔ ووٹ لے کر عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں پر پنڈی اسلام آباد اور اسمبلی ہاسٹل میں پرتعیش زندگی گزارنے والے بھارتی گولہ باری سے شدید متاثر علاقوں میں پانچھ سال رہیں تب انہیں نیلم کی عوام کی مشکلات کو اندازہ ہو۔


شیئر کریں: