Chitral Times

Jan 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود…… ضبط لازم ہےمگر….. شہزادی کوثر

شیئر کریں:

بہت سی جگہوں میں اپنے قول و فعل کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔سب سے بڑا اور مشکل عمل نفس کو قابو میں کرنا ہے اس پر اختیار رکھنا اور رب کی مرضی کے مطابق چلانے کو سب سے بڑا جہاد قرار دیا گیا یے۔ہماری جبلتوں اور خواہشات کی ڈور جب نفس کے ہاتھوں میں ہوتی ہے تو ہم اشرف المخلوقات کے منصب سے گر جاتے ہیں،کیونکہ جبلت کو بے لگام چھوڑنے سے حیوان کے درجے میں مقید ہوجاتے ہیں جبکہ اسے نکیل ڈال کر اپنے اختیار میں لا کر انسانیت کا بھرم رکھا جا سکتا ہے۔ انسان اور حیوان میں جو صفت قدر مشترک نظر ٓاتی ہے وہ جبلت ہے۔اگر حیوان کی طرح ہر طرف منہ ماری کریں گےیا دوسرے کے حقوق غصب کریں گے تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ انسان ہونے کا حق ادا نہیں ہو رہا۔اور یہ نفسِ امارہ کی وہ شکل ہے جو ہر وقت برائیوں کی طرف گھسیٹتا رہتا ہے۔اپنی نفسی کمزوریوں کی وجہ سے خطاوں میں مبتلا ہونا ہمارا معمول بن جاتا ہے۔ انسان کو جتنا اختیار دیا گیا ہے اس کو استعمال کر کے ہی اپنے نفس کو گناہوں کی دلدل سے نکال سکتا ہے۔بہت سی باتیں ہماری طبیعت اور مزاج کے خلاف ہوتی ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان باتوں کو برداشت کر کے ہی تعلقات کی بہتری یقینی بنتی ہے۔معاشرتی اور خانگی زندگی میں بھی خود پر قابو رکھنا پڑتا ہے،اپنے دفتر کے کاموں اور باہر کی ذمہ داریوں میں الجھ کر اپنی نجی زندگی اور اہل وعیال کو وہ توجہ نہیں دے پاتےجو ان کا حق بنتا ہے۔سارا دن کاموں میں مصروف رہ کر طبیعت اوب جاتی ہے تو گھر کی طرف روانہ ہوتے ہوئے تمام تر ٹینشن اور دماغی تھکان بھی اپنے ساتھ گھر لے جاتے ہیں۔ایسے میں بچوں کی شرارتیں یا پڑھائی کا معاملہ ہو تو سارا غصہ ان پر اتار کر اپنے فرائض پدری و مادری سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔اس وقت یہ تک یاد نہیں رہتا کہ ہمارے برے روئیے اور تند مزاجی کا اثر ان پھولوں کی نفسیات پر کیسا پڑے گا؟  ہمارے ضبط کے تمام بند وہاں ٹوٹ جاتے ہیں جہاں ان کی معصومانہ شرارتوں اور ٓارزووں کی دنیا ٓاباد ہوتی ہے۔ازدواجی زندگی کی پریشانیوں کا ہدف بھی ان ہی کی ذات ہوتی ہے،جوان کے ننھے ذہنوں میں ماں باپ کے خلاف محاذ کھول دیتا ہے اور وہ ساری زندگی اسی تلخی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ فرد کی دوسری بڑی ذمہ داری زبان کو قابو میں رکھنا ہے جو اگرچہ مشکل ہے ( خواتین کے لیئے، آج کل تو حضرات بھی کسی سے کم نہیں ) لیکن ناممکن نہیں۔ خاص کر محفل میں اسے قابو میں رکھنا فتنہ وفساد سے محفوظ رکھتا ہے۔  زبان ایسا ہتھیار ہے جو دوسروں کو تو لہولہان کرتا ہی ہے خود صاحبِ ٓالہ کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑتا ۔اس کے استعمال سے واقفیت سب سے بڑا علم ہے۔جو ہر علم والے کو میسر بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ زبان کا استعمال کب ،کہاں ،کتنا اور سب سے بڑھ کر کیسے کیا جائے یہ ہر کوئی نہیں جانتا ۔خالق نے انسان کو قوتِ گویائی سے  اس لئیے نہیں نوازا کہ جو منہ میں ٓائے بلا سوچے سمجھے کہہ دو اورمعاملات میں بگاڑ پیدا کروبلکہ اس سے ٹوٹے دلوں کی رفو گری عمدگی سے کی جا سکتی ہے۔ یہ ایسی صلاحیت ہے جو بیک وقت قینچی اور سوئی دونوں کا کام کرتی ہے لیکن کم علمی کی وجہ سے اکثر لوگ اسے قینچی کے طور پر ہی استعمال کرتے ہیں ٹانکے لگانے کا کام نہیں لے پاتے۔اس میں زہر بھی ہے اور شہد بھی۔ ٓازاد چھوڑو تو زہر میں بجھے الفاظ سے زندگی میں تلخی گھولتا ہے                                    ۔۔                                                                       

 یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک              

         کوئی نہ سہہ سکے لہجہ کرخت ایسا تھا                 

سماج کی اکائی کی حیثیت سے ہمارے روابط اسی گویائی کی وجہ سے ہی بنتے ہیں ،خانگی امور سے لے کر معاشرتی ذمہ داریاں اسی سے انجام تک پہنچتی ہیں،تمام تعلقات کی بنیاد بھی یہی زبان ہے اگر اسے قابو میں رکھنے کا گُر نہ ٓاتا ہو تو ہماری مثال اس گاڑی کی ہو گی جس کے بریک فیل ہو گئے ہوں اور بے دھیانی میں ہم نے اکسیلیٹر پر پیر رکھ دیا ہو۔۔۔   زبان کی سختی سے ہمارے دین نے بھی منع کیا ہے اس لیئے اللہ تعالی نے زبان میں ہڈی نہیں رکھی۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہماری باتوں سے کسی کی دل ٓازاری نہ ہو یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم زبان کو ضبط میں رکھنا سیکھیں۔ ایک اور اہم بات اس وقت سامنے ااتی ہے جب دستر خوان پر مزے مزے کے پکوان چن دئیے جائیں تو بہت سے افراد کے لیے پیٹ کو کنٹرول میں رکھنا دشوار  ہو جاتا ۔ہےذائقے  کے شوقین اور چٹوری طبیعت والے اکثر معدے کی شکایت میں مبتلا دیکھے گئے ہیں۔ایسے لوگ پیٹ کو کنواں سمجھنے والے ہوتے ہیں کہ سامنے موجود کوئی بھی کھانا بغیر کھائے واپس نہ جائے، خاص کر دوستوں کی محفل میں تمام تر پرہیزاور احتیاط کو طاق پر رکھ کر بھول جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ایک وقت کی بد پرہیزی ایک ہفتے تک ان کی جان نہیں چھوڑتی۔ دوائیوں کی لمبی فہرست اور ڈاکٹر کی فیس الگ، یوں بے احتیاطی کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اس لیئے ضبط لازم ہے۔۔   کہتے ہیں کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو چار چیزوں کی نصیحت کی تھی کہ بیٹا چار جگہوں پر چار چیزوں کو اپنے قابو میں رکھو ۔۔۔ محفل میں زبان کو، پرائے گھر میں ٓانکھ کو، دستر خوان میں پیٹ کو اور نماز میں دل کو۔۔۔۔۔    اس نصیحت پر عمل کرنا ہم سب کے لئیے بہتر ہو گا ۔                                              


شیئر کریں: