Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سردی کی آمد آمد……صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

موسم سرما اتے ہی فضا میں سردی کی لہریں اپنی شدت کے ساتھ چترال میں داخل ہوتی ہیں۔تو سب سے پہلے ہمارے کان اور ناک میں کچھ تھرتھراہٹ سی محسوس ہوتی ہے۔جس طرح انٹینہ ریڈیو میں  الیکٹرانک لہروں کو ڈیٹکٹ کرتا ہے  اسی طرح ہمارے جسم میں بھی یہ اعضاء ہیں جو ماحول میں سردی کی سیگنل کو ڈیٹیکٹ کرکے اطلاع دیتی ہے ہوشیار رہیے سردی آ نہیں رہی آگٸ ہے۔ سردی کے پہلے تیر کا نشانہ یہی بنتے ہیں۔ جوں ہی سردی تیز ہوتی تو ہمارے ہاتھ اوپر اٹھتے ہیں۔ ایک ہاتھ کان اور دوسرا ناک کو سردی سے بچانےکی کوشش کرتی ہے۔ پھر رومال یا گوڑبند استعمال میں لانے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہ دیکھ کر سردی پیٹھ پیچھے وار کر تی ہے ہمارے ریڑ کی ہڈی اور پسلیوں تک زخم کی شدت محسوس ہوتی ہے۔ ہم بھی اپنے دفاع میں کوٹ بنیاں بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں مگر وہ پیچھے ہٹنے والی تو نہیں ہے۔

ہاتھ پاٶں کے پورین درد کرنی لگتے ہیں۔ خود بخود منہ کی طرف اٹھتےہیں۔ اور تب ہم نکالتے ہیں اون کے بنے دیسی دستانے اور جرابین ۔ گھروں میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتے ہیں جیسے کیچن کے دروازے بند اور شاختان اباد ہوتے ہیں۔ منقل اور ٹین سجنے لگتے ہیں۔ سردی مزید سمیٹ کر ہماری طرف متوجہ ہوتی تو شوقہ، چوعہ اور جیپوری چھلانگ لگاکر ہمارے دفاع کے زمہ داریاں سنبال لیتی ہیں اور پانی حوصلہ ہار جاتی ہے اور جم کر  پہتر اور شیشہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پانی کی بے وفاٸ کو نظر انداز کرتے ہوۓ اسے اپنے محبت کا احساس دلانے کیلۓ گھروں کے اندر جمع کرتے ہیں اور بار بار گرمانے کا بندوبست کرتے ہیں۔ گرم پانی لوٹوں بھر کر باتھ روم اور واشروم کی طرف تیز قدموں سے چلے جاتے ہیں۔  سردی دشمنی کی انتہا کرتے ہوۓ اسماں سے برف برسنا شروغ کرتی ہے تو پھر پھی اور چہاور لوار اور سٹور سے نکل کر صحن اور گھر کے چھتوں پر اڑلیتے ہوۓ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ چھتوں کے برف نیچہے گرتے گرتے برفیلے تودے سارے گھر کو سمیٹ کر  ہمیں  منجمد کرنے کی برپور کوشش کرتی ہے اور ماحول کچھ اس طرح نظر اتی ہے

برف ہر آن گرے جاتی ہے

بام ودر کوچہ و میدان چپ ہیں۔

یہ دشمنی کوٸی پانچ چھے مہینے رہ کر پھر صلح کی طرف قدم اٹھاتی ہے تواہستہ اہستہ جسم میں جان اتی ہے ۔ یہ پہناوا اتر جاتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ ہمیں کسی سے کھبی دشمنی بھی تھی۔


شیئر کریں: