Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہمارے خواب، معاشرہ اور ہم ۔۔۔۔تحریر۔۔۔اخون عبّاس

شیئر کریں:

راتیں کسے نہیں پسند ۔۔دن بھر کی تھکان دور کرنے کیلئے جب ہم خود کو قدرت کے اس انمول عطیہ کی آغوش میں دیتے  ہیں تو نہ صرف جسمانی و ذہنی سکوں ملتا ہے بلکہ دن کے ہر یادوں کی پوٹلی دل کے کسی گوشے میں سمیٹ کر خوابوں کی نگری میں بھی چلے جاتے ہیں۔ جہاں کوئی حاکم ، مالک یا آقا نہیں ہوتا صرف ہماری حکومت ہوتی ہے ۔جن خواہشات ،آرزوؤں اور تمناؤں کی ہم کھلی آنکھوں سے دن کے اجالے میں تکمیل نہیں کرسکتے، وہ بند آنکھوں سے کچھ لمحہ کیلئے ہی صحیح، پوری ضرور ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم بڑے بڑے خواب دیکھیں ، کیونکہ بڑے خواب بڑے لوگوں کو راغب کرتے ہیں اور ہمارے مسائل کو چھوٹا کر دیتے ہیں۔ ہم اتنی ہی ترقی کر پائیں گے جتنے بڑے ہم خواب دیکھیں گے ، اسلئے بڑے خواب دیکھنا ضروری ہے اور ہر بڑے خواب کا آغاز ہوتا ہے خواب دیکھنے والے سے۔ کون ہوتے ہیں خواب دیکھنے والے ؟ وہ جو اسکی تلاش میں سو جاتے ہیں یا وہ جو اسے پانے کی دھن میں جاگے رہتے ہیں ؟ سچ پوچھو تو خواب دیکھنے کا ہنر مستقل جاگنے سے آتا ہے۔ ڈاکٹر اے پی جی عبدالاکلام کے قول کے مطابق ،”خواب وہ نہیں جو آپ سوتے وقت دیکھتے ہیں بلکہ خواب تو وہ ہوتے ہیں جو آپکو سونے نہیں دیتے،”۔ کہا جاتا ہے کہ جس خواب کو ہم بار بار دیکھتے ہیں اسکی تعبیر کی توقعات زیادہ ہوتی ہیں۔ اسلئے ہمیں چاہئے کہ اپنے خوابوں کو حقیر نا سمجھیں بلکہ انکا پیچھا کریں کیونکہ انہیں راستے کا علم ہوتا ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں ہوتا ،کھٹن اور دشوار گزار ہوتا ہے لیکن ہم میں اگر ہمت ہے، طاقت ہے ، جوش ہے،جذبہ ہے اور مستقل مزاجی سے خوابوں کے حصول کی جانب بڑھنے کا حوصلہ ہے تو ہمارے سارے خواب حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ خواب دیکھنا وقت کا ضیاع ہے۔ خوابوں کے جزیروں میں بسنے والے انسان محنت و مشقت سے فرار حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ ہم اپنے خوابوں کو حاصل ہی نہیں کرسکتے ۔ برے وہ نہیں جو ایسا کہتے ہیں بلکہ بری ہماری سوچ ہے جو  بات کو سچ مان لیتی ہے بلکہ خواب تو وہ حقیقت ہوتے ہیں جن کا ہم برسوں انتظار کرتے ہیں ۔خواب وہ بیچ ہے جس کی فصل ہم مستقبل میں کاٹتے ہیں۔ انکا مستقبل بہترین ہوتا ہے جو اپنے خوابوں کی خوبصورتی اور انکی تعبیر پر یقین رکھتے ہیں ۔
یقیناً اج کے دور میں باالخصوس ہمارے معاشرے میں خواب دیکھکر انکی تعبیر تک ساتھ نبھانے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم وہ کیوں نہیں بن سکتے جو ہم بننا چاہتے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ سماجی روکاوٹین ہماری ذہنون میں کچھ اس طرح سے نقش کر دی گئی ہیں کہ خواب ُبُننا تو درکنار ، خواب کے نام سے ہی ڈر لگنے لگتا ہے۔ ایسے تھوڑی ہوتا ہے کہ آج ہم خواب دیکھیں اور کل پورا ہو۔ خوابوں کا یہ سفر ایک لمبا سفر ہے اور انکی تکمیل کیلئے جنوں کی حد تک جاکر تعاقب کرنا پڑتا ہے جسے بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ پاگل پن قرار دیتا ہے۔ معاشرے کی نظروں میں اس پاگل خواب دیدہ کی نہ کوئی وقعت ہوتی ہے اور نہ ہی عزت ، یوں سرے راہ دیوانہ، پاگل اور جنونی کے القابات دیکر مذاق اڑایا جاتا ہے اور مجبوراً معاشرے کی سکرپٹڈ کہانییوں کیساتھ زندگی کی گاڑی کو ہمیں دھکے دیکر آگے بڑھانی پڑتی ہے ۔


مغربی معاشرے میں لاکھ برائییاں صحیح مگر خوابوں کے حصول اور منزل کی جستجو میں آپکو پاگل نہیں کہا جاتا ، نہ اپکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور نہ ہی آپکو ناکامی کا طعنہ دیا جاتا ہے بلکہ کچھ اس طرح سے اپکی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ خود اٹھ کر ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی جسارت کر سکو۔ایسی ہی ایک مثال اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک  وائلڈ فوٹو گرافر “ایلن میکفیڈین ” کی ہے جو کنگ فشر پرندے کی ایک پرفیکٹ شاٹ لینے کیلئے اپنا کیمرہ لیکر مقامی تالاب کے پاس روز جا کر  بیٹھ جاتا۔ کبھی پرندہ آجاتا تو کبھی نہیں۔ اس دوران کئی سال بیت جاتے ہیں اور دوستون کی جانب سے یہ مشن ترک کرنے کا بھی کہا جاتا ہے پر آپ اپنے پختہ ارادے سے نہیں ہٹتے، آخر کار وہ لمحہ آجاتا ہے جب وہ ایک پرفیکٹ شاٹ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس ایک فوٹو کیلئے اسے پورے 6 سال انتظار کرنا پڑتا ہے اور 7,20000 تصویریں کھینچنی پڑتی ہیں تب جاکر انہیں کامیابی ملتی ہے ۔ آج اگر دنیا انہیں جانتی ہے تو صرف اس ایک تصویر کیلئے ہی نہیں بلکہ اسکے حصول کیلئے جتنی جدوجہد اس نے کی اور جس مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی منزل کا دیوانہ وار تعاقب کرتے رہے وہ دنیا کیلئے ایک مثال بن چکا ہے، لیکن کبھی اسے جنونی اور پاگل کہ کر معاشرے کی نظروں میں گرایا نہیں گیا اور خود سوچیں اگر یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں کوئی کرتا تو ؟فیصلہ میں آپ پر چھوڑ رہا ہوں۔۔اور بھی کئ ایسی مثالیں موجود ہیں جو ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ منزلیں ہمیشہ ہمیں پکارتی رہتی ہیں اگر انکی صدائیں صحیح معنوں میں دلوں میں اتار دی جائیں۔


ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ آج ہم اس روش پر پہنچ کر سوچتے ہیں کہ چاہے ہم لبرل، جدت پسند، قدامت پسند، دقیانوسی، شدت پسند یا کسی اور طبقے سے کیوں نہ ہوں ہم اس سے اوپر جج مینٹل ہیں ۔ کسی دوسرے کی رائے سے اتفاق کرنا چاہے اس میں ہماری سماج، روایات، اقدار و اطوار کی بہتریں عکاسی بھی ہو اور معاشرتی کمی بیشی کے لحاظ سے سچائی بھی پائی جائے، خود کو اس سے ہم اھنگ کرنا، ماننا یا متفق ہونا ہم اپنی عزت، وقار اور اسٹیٹس کی توہین سمجھتے ہیں۔ ہم دوسروں کیلئے بہترین جج اور اپنے لئے خود کو موزوں تریں وکیل گردانتے ہیں اور اسی بنا پر ہم ملزم بھی خود ہی ڈھونڈتے ہیں اور اسکے خلاف فیصلے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔۔ اسی طرح ہم اپنے بنائے ہوئے ملزم کو کٹہرے پر کھڑا کرتے ہیں اور جج جیوری جلاد بن کر فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔ کیا ہم اس لحاظ سے ذہنی پستی کا شکار قوم نہیں بنتے جارہے ؟ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑھتا ہے کہ ہمارے معاشرے کی یہی سوچ ہمارے کتنے ہی قابل نوجوانوں کے مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے، محض اس بنا پر کہ ، ” لوگ کیا کہیں گے ” جب ہمارا بچہ پڑھنا شروع کرتا ہے تو اسکی ذہنیت کچھ اس طرح سے بنا دی جاتی ہے کہ پہلا، دوسرا اور تیسرا نمبر ہی کامیابی کا ضامن ہے، پس یہیں سے ہم اپنے بچوں کو ذہنی غلامی کی ریس میں لگا دیتے ہیں۔ بارہویں جماعت کے بعد ہمارے معاشرے کی  تیار شدہ سکرپٹ کے بقول فرسٹ کلاس انسانوں کی فہرست میں شامل ہونے کیلئے ڈاکٹر یا انجنیئر بننا انتہائی اہم ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ سکول کے دنوں میں ہم سے بھی جب یہ سوال پوچھا جاتا، بیٹا بڑا ہوکر کیا بنو گے ؟ تو ہم بھی بڑے فخر سے سینہ تان کے برملا جواب دیتے ،” سر ڈاکٹر یا انجنیئر۔۔۔۔البتہ ہمارے ایک کلاس فیلو نے، (وہ واحد بندہ تھا جس نے دستور سے ہٹ کے کچھ سوچ رکھا تھا) بے جھجھک جواب دیا کہ ” سر میں بڑا ہوکر دکاندار بنوں گا ” تو ہم سارے کلاس فیلو خوب قہقہ لگا کر ہنسنے لگے اور وہ بیچارہ میٹرک تک اپنے کہے پر پچھتاتا رہا۔۔ہمیں کچھ اس طرح سے ان دو ناموں کے تابع بنایا گیا ہے کہ کسی تیسرے نام کے بارے میں سوچنا جیسے خود کو عجیب نظروں کے بھنور میں جھونکنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔۔۔بحرحال اپنے کہے کے مطابق اس نے اپنا ذاتی کاروبار ضرور شروع کر دیا اور آج کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔


بہت دکھ کے ساتھ ہمارے یہاں قابلیت کا پیمانہ یہی ہے، یا تو ڈاکٹر بنو یا انجنیئر ۔۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ہر بچے کا اپنا ہنر اپنی صلاحیت، اپنی ذہانت اور قابلیت ہوتی ہے، بجائے اسکے کہ انکی ان مخصوص صلاحیتوں کو مزید نکھارا جائے اور انہیں اِن فیلڈز پر آگے جانے دیا جائے، بدقسمتی سے ہم انہیں آنکھیں بند کر کے سماجی اقدار کی غلامی پر مجبور کرتے ہیں ۔ اس طرح نا صرف انکی ذہنی صلاحیتوں کو ہم زنگ الود بناتے ہیں بلکہ اپنے نوجوانون کو جج مینٹل سوچ پر جینا بھی ہم ہی سکھاتے ہیں۔۔ہم ایسی قوم کیوں بنتے جارہے ہیں جو نیک بد ، بہتر بدتر ،خاص عام،  ظالم مظلوم ، امیر غریب، وغیرہ کو محض ظاہری حالت پر پرکھتے ہوئے اپنا قیاس دھڑلے سے پیش کرتے ہیں اور چلتے پھرتے فتوے لگا دیتے ہیں۔۔سوشل میڈیا پر جہادی بن کر لمبے لمبے کمنٹس اور میسج کرتے ہیں، اپنے فرقے سے ہٹ کر کسی کو بات کرتا ہوا دیکھیں تو بدعتی کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں، اپنے نظریے کے پیش نظر کسی محفل میں اگر بدعت دیکھیں تو شور مچا دیتے ہیں اور پھر دو فریق بن کر لڑائی شروع کر دیتے ہیں ۔۔ اپنی اسی سوچ کی بنا پر دلیلوں اور دعووں سے غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط کہتے ہیں ۔۔افسوس کے ساتھ ہم ظاہری حالت کو وجہ بنا کر کسی انسان کے بہت اچھے اور بہت برے ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
سماج کی کہانی ہمارے لئے پہلے سے ہی لکھی جاچکی ہے اور بحیثیت کردار ہم بڑے تابعداری کے ساتھ اس کہانی کے پلاٹ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔۔وہ ھدایت کار جو ہمیں ہمارے کرداروں پر نچوا رہے ہوتے ہیں ان سے کہنا، کہ سر دنیا بدل چکی، لوگ بدل چکے ،ہمیں بھی اپنی کہانی میں بدلاؤ کی اشد ضرورت ہے، لیکن “ایسی جسارت تو کجا خفیف سے خفیف اختلاف کی بھی مجال نہیں” پس ہم سی لئے ہونٹوں سے اپنا کردار نبھائے جارہے ہیں، یوں ہر روز کئی زندہ خواب ہمارے معاشرے کے نام نہاد مروجہ اقدار کی بھینٹ چڑھ کر مرجھا جاتے ہیں ۔۔


مجھے گلہ اُن خواب زریں دیکھنے والے خواب دیدوں  سے نہیں جو روز اپنے خوابوں کو پروان چھڑانا چاہتے ہیں، بلکہ مجھے گلہ اِس نظام اور اس میں بسنے والے ہر فرد سے ہے جنہوں نے اِسکی اہمیت کو جانچنے، پرکھنے اور سدھار نے کی کبھی کوشش تک نہیں کیں۔ مجھے گلہ باالعموم ہمارے والدین اور باالخصوص اُن تعلیمی اداروں سے ہے جہاں سے بچے نرسری لیکر میٹرک تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔۔ہمارے تعلیمی ادارے اگر بزنس مائنڈ سیٹ سے نکل کر زیادہ نا صحیح تھوڑی توجہ بھی بچوں کی کیریئر کاؤنسلنگ پر دیں تو شاید اس غلامانہ ذہنییت سے نکل کر معاشرے کے خود مختار فرد بن سکتے ہیں، لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے “رٹہ مار ” حکمت عملی اپنا کر بچوں کو صرف زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا دیتے ہیں، جس سے نہ صرف انکی ذہنی صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ انکی قائدانہ صلاحیتوں کو بھی شدید دھچکا لگتا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے پیسے بٹورنے کے ساتھ ساتھ اگر بچوں کی ذہن سازی پر اتنا کام کریں کہ کل کو وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں اور اپنی اہلیت، قابلیت اور ہنر کی مناسبت سے اپنے لئے کسی مخصوص فیلڈ کا انتخاب کر سکیں تو اس سے نا صرف تعلیمی اداروں کی نیک نامی ہوگی بلکہ معزرت کے ساتھ خوب پیسے بھی بٹور سکتے ہیں۔۔


والدین کو بھی ذمہ دار اسلئے ٹھرا رہا ہوں کہ بسا اوقات وہ بھی اپنے فیصلے بچوں پر مسلط کرتے ہیں۔۔۔میرا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ والدین اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے بچوں کے خوابوں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔۔ظاہر سی بات ہے، والدین ہمیشہ اپنی اولاد کا بھلا ہی چاہتے ہیں، البتہ معاشرے کی نظروں میں رچی بسی سماجی خاکوں کے بھنور میں اپنے بچوں کی حقیقی قابلیت اور ہنر پنپنے میں چُوک ضرور جاتے ہیں کہ کونسا کام بہتر انداز میں کر سکتا ہے، کس فیلڈ میں بہتریں کارکردگی دیکھا سکتا ہے، کونسا سبجیکٹ دل جمعی اور دلچسپی سے پڑھ سکتا ہے۔


ہمارے معاشرے اک المیہ یہ بھی ہے کہ جب بچہ کسی مضمون میں فیل ہوجاتا ہے تو باہر والے دور کی بات، اپنے گھر والے ہی جینا محال کر دیتے ہیں۔ کچھ اس طرح کی عجیب نظروں سے اپکا تواضع کیا جاتا ہے کہ اپنے ہی گھر میں آپکو اجنبییت سے محسوس ہونے لگتی ہے۔۔حوصلہ اور ہمت افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کچھ اس انداز سے کی جاتی ہے کہ آپکو خود سے نفرت ہونے لگتی ہے اور بسا اوقات یہی نفرت کسی ناخوشگوار  واقعے کا سبب بنتی ہے ۔۔کاش کہ انہیں کوئی سمجھا دے۔۔ناکامی کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی زندگی ختم ہوگئی، کسی کا وجود ہی باقی نہ رہا، بلکہ انسان اسلئے ناکام ہوتا ہے کہ اپنی خامیوں کو دور کر سکے، اپنی کوتاہیوں پر قابو پاسکے، اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنا سکے تاکہ آگے جاکے کسی بڑے پٹھے کے ساتھ مقابلے میں گر نا جائے، پھر جب  پلٹ وار کرے تو حریف کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملے، پر ان سب کیلئے ہمت بڑھانے والا چاہئے، حوصلہ دینے والا چاہئے تاکہ اپنے من کی سن کرخون پسینے کی خوشبو سے اپنی منزل کو معطر کر سکو ۔۔۔یاد رکھیں یہ مشکل حالات میں اپکا اپنی اولاد پر یقین، بھروسہ، اُنکی رہنمائی، اُنکو ہمت اور حوصلہ دینا ہی ہے جو انہیں پھر سے جینے کی امید دلاتی ہے، پھر سے خواب بننے اور اُنکی تعبیر تک ہمت نہ ہارنے کی طاقت دیتی ہے ۔۔


لہذا اپنے بچوں پر بھروسہ کرکے ایک مرتبہ انہیں وہ کام کرنے دیں جس میں وہ دلچسپی رکھتے ہوں اور پھر دیکھیں تاریخ کے اوراق آپکے بچوں کے بارے میں کیا لکھتے ہیں ۔۔۔


شیئر کریں: