Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاش انڈومنٹ فنڈ ایکٹ تیار، منظوری کیئے جلد کابینہ میں پیش کیا جائیگا۔۔وزیرزادہ

شیئر کریں:

اقلیتی امور کے لئے جلد الگ پلاننگ سیل قائم کرنے جارہے ہیں،وزیر زادہ
کاروباری سکیموں کے لئے ایک ہفتے میں کمیٹی کا اعلان کرنے کا فیصلہ, جائزہ اجلاس


پشاور (چترا ل ٹائمز رپورٹ) وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کے اقلیتی برادری کے لئے ترقیاتی سکیموں کی تکمیل ہر صورت ممکن بنائینگے، تمام تر ترقیاتی سکیموں کو بذات خود مانیٹر کر رہا ہوں۔ منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل پر کسی قسم سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اقلیتی امور کے زیر نگرانی صوبے بھر میں جاری اور نئے ترقیاتی سکیموں کی شفاف طریقے سے تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ ان خیالات کا اظہارمعاون خصوصی نے اپنے دفتر میں اقلیتی امور کے ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے دسویں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ہے، یاد رہے کہ محکمہ اقلیتی امور میں جائزہ اجلاسوں کا سلسلہ شروع دن سے جاری ہے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف جہانزیب خان کے علاؤہ دوسرے حکام بھی موجود تھے۔ وزیر زادہ کا کہنا تھا کہ محکمہ اقلیتی امور کے تمام تر جاری اور نئی سکیموں کی شفاف اور بروقت تکمیل ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی کمیونٹی کے لئے چھوٹے کاروباری سکیموں کے لئے پی سی ون منظور ہوچکا ہے جبکہ درخواستوں کی وصولی کے لئے رواں سال نومبر میں اشتہار دیا جائے گا۔ اسی طرح ہاؤسنگ سکیمز کے لئے اگلے اے ڈی پی میں فنڈز بھی مختص کئے جائینگے۔ وزیر زادہ نے کہا کہ اقلیتی امور کی جلد انجام دہی کے لئے اگلے سال الگ پلاننگ سیل قائم کر رہے ہیں۔ اقلیتی برادری کو چھوٹے چھوٹے روزگار شروع کرنے کے لئے فنڈز کی منظوری ہو چکی ہے جس میں نئے ضم شدہ اضلاع سے بھی اقلیتی کمیونٹی کے لوگوں کو کاروبار کے لئے رقم دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو گرانٹ ان ایڈ بیواؤں اور جہیزکے لئے امداد کے مد میں رقم اور اقلیتی برادری کے طلباء کے لئے ویلفیئر پیکیج کی منظوری ہو چکی ہے جس کے تحت طلباء کو یونیفارم اور درسی کتب بھی دئیے جائینگے۔ وزیر زادہ نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے لیے میڈیکل گرانٹ کی بھی منظوری ہوچکی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی کمیونٹی کے عبادت گاہوں، شمشان گھاٹ اور قبرستانوں پر کام کے رفتار کو مزید تیز کیا جائے جبکہ دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل معیاری اور بروقت یقینی بنائی جائے۔


شیئر کریں: