Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آئینی حدود۔۔۔۔۔۔۔۔تقدیرہ اجمل رضاخیل

شیئر کریں:

میرے پاس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی جو کتاب موجود ہے اس کی تمہید میں لکھا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے۔ آگے لکھا کہ جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مملکت کے اختیارات جمہور اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کر ے گی جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کو اسلام کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جائیگا۔ دستور پاکستان کے ابتدائیے میں جو کچھ لکھا ہے اُس سے یہی مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ دستور اور پھر وضع کردہ قوانین جن کے ذریعے یہ دستور نا فذ العمل ہوگا میں اولیت الٰہی قوانین، یعنی قرآن حکیم اور شریعت محمد ی ﷺ کو دی جائے گی۔ کوئی قانون، اصول اور ضابطہ اسلامی شرعی قوانین کی حدود سے باہر نہیں ہوگا۔ اقلیتوں کو یہ حق ہوگا کہ وہ اپنے مذہب، عقیدے اور روایات کے مطابق بحیثیت مملکت پاکستان کے شہری آزادی سے زندگیاں بسر کر یں اور دوسرے شہریوں کی طرح مروجہ قوانین کا احترام کریں۔1973کا آئین مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں مرتب ہوا اور پہلے سے موجود اسمبلی نے اسے پاس کیا۔ وہ اسمبلی جو دستور کے نفاذ سے پہلے ہی موجود تھی اسے جمہور نے پہلے نافذ شدہ آئین کے تحت منتخب کیا تھا اس لیے آئین کے مرتب کرنے اور نافذ کرنے میں جمہور کی مرضی شامل نہ تھی۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ جو لوگ اُس وقت اسمبلیوں میں موجود تھے کیا وہ مومن مسلمان تھے اور دین اسلام و شریعت رسول ﷺ پر عمل پیرا تھے۔


سورۃ الحجرات کی آیت نمبر۳۱ میں فرمان ربی ہے کہ”اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہاری ذاتیں اور قبیلے رکھے تا کہ تمہیں آپس کی پہنچان ہو“۔ تحقیق اللہ کے ہاں اُسی کی عزت ہے جس کا ادب بڑا ہے۔ اللہ سب جانتا ہے اور خبردار ہے پھر فرمایا گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم مسلمان ہوئے۔ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں نہیں اترا۔ مولانا مودودی نے مسلمان، مومن اور اسلام کی تشریح میں لکھا ہے کہ محض اسلامی نام رکھنے سے کوئی بھی شخص، مرد یا عورت مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ہر مسلمان مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی مسائل کو سمجھے اور اپنی زندگی اسلامی اصولوں، قوانین اور روایات کے مطابق بسر کرے۔ اس بنیادی اور سادہ اصول کے مطابق آئین کی کتاب جو محض مسلمان کہلوانے والے سوسوا سو لوگو ں نے جو عوام کو طرح طرح کے چکمے، فریب اور جھانسے دیکر مسلک، برادری اور قبیلے کی سیاست کے بل بوتے پر منتخب ہوتے ایک آئین ترتیب دیا جس کے سرنامے پر الٰہی قوانین، شرعی اصولوں کا محض نام لکھ کر عوام الناس کے بنیاد ی حقوق ہی چھین لیے۔ بد قسمتی سے ہمار ی اعلیٰ عدلیہ اور علمأنے اس پر کبھی غور ہی نہیں کیاچونکہ اس کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی۔

ہمارے علماء چانکیائی اور میکاو لین سیاست کا حصہ ہیں اور اُن کی دنیاوی ضرورتوں کا تقاضہ ہے کہ وہ اسی سیاسی نظا کو الٰہی قوانین اور شرعی اصولوں کا نام دیکر ہر حکومت میں حصہ دار کا حق محفوظ کر لیں۔ آئین میں کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو کچھ پٹواری اور تھانیدار لکھ دے گا ملک کا صدر اور چیف جسٹس بھی اسے رد نہیں کریگا۔ آئین میں یہ بھی نہیں لکھا کہ ملک کاوزیراعظم تین ارب خرچ کر کے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھے گا اور اُس کا باپ کرپشن، بد دیانتی، کمیشن اور آئینی حدود کو پامال کرتے ہوئے نوارب کما لے گا۔ آئین میں یہ بھی نہیں لکھا کہ پاکستانی میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگائی جائے گی اور صحافیوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اسلام، پاکستان، پاکستانی مسلح افواج اور عدلہ کے خلاف، پراپیگیڈہ کرنے اور ملک دشمن عناصر سے مراعات لیکر صحافت کے نام پر بغاوت کرنے میں آزاد ہونگے۔آئین میں یہ بھی نہیں لکھا کہ وزیراعظم کا خاوند یا بیٹی قومی خزانہ لوٹنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ آئین میں یہ بھی نہیں لکھا کہ عدلیہ دوہرے معیار اپنائے گی جو عدالت مجرم کو سزا دے گی وہی ایک عشرے بعد اُسے معاف کر کے عوام پر مسلط کر دے گی۔ آئین میں جو کچھ لکھا ہے اُس میں کسی مخصوص طبقے، فرقے، مسلک، ذات، برادری، رنگ و نسل، رتبے، عہدے اورجاہ و جلا ل کا کوئی ذکر نہیں۔


عملاً دیکھا جائے تو اس ملک کا ہر عہدیدار، اعلیٰ و ادنیٰ ہر سرمایہ دار، صنعت کا ر، ہر قسم کے مافیا کا سرغنہ، صحافی، قاضی، سیاستدان، انتظامی امور چلانے والے اعلیٰ عہدیدار اور علما آئینی حدود کو پس پست ڈال کر مفادات کے اصولوں پر گامزن ہیں۔


حال میں میں نواز شریف کی لند ن سے پڑھی گئی تقریر اور پھر نواز شریف کے حامیوں اور پارٹی عہدیداروں کے خلاف غداری کے زمرے میں کاٹی گئی ایف آئی آر نے ملک گیر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ علما، سیاستدان، صحافی دانشور، تجزیہ نگار، تبصرہ نگار، اعلیٰ عدلیہ کے سابق جج، وکلاء اور سیاسی کارکن اس تقریر کو خاص اہمیت دیتے رہے۔ سب اس بات پر متفق ہیں کہ اداروں کو آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ ملک کے سربراہ اور حکومت کے منتخب نمائندوں اور سربراہ پر بھی یہی اصول اور قانون نافذ ہے۔ اسے سری لنکا جا کر ملک دشمن ریاست کے سربراہ کو ٹیلی فون کر کے اپنے ملک کے خلاف منصوبہ بندی، نیپال جا کر اسی دین دشمن موذی سے خفیہ ملاقات، ملک لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنانے، کرپشن، رشوت اور کمیشن کے بدلے میں ملک کو کنگال اور قوم کو بد حال کرنے کا اختیار نہیں۔یہ سب ملک سے غداری، قوم سے بے وفائی، آئین کی پامالی، فریب کاری، دھوکہ دہی اور مکاری کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر کوئی ادارہ ایسے شخص، ادارے، گروہ، جماعت اور تنظیم کا راستہ روکتا ہے تو یہ آئینی دور سے تجاوز نہیں بلکہ آئین کا تحفظ اور ملک و قوم کی خدمت ہے۔


شیئر کریں: