Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دشمن کا دوست……..محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ نے چین کے ساتھ ملنے والی سرحد لداخ اور سیاچن میں تعینات بھارتی فوجیوں کے لئے گرم کپڑوں کا تحفہ بھیجا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں امریکا سے مدد کی درخواست کی تھی جس کے بعد یہ کپڑے بھارت پہنچے۔ بھارتی فوج نے موسم سرما میں لداخ اور سیاچن میں خون جمانے والی سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا سے خاص قسم کے گرم کپڑے مہیا کرنے کی اپیل کی تھی۔ بھارتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ امریکا سے اس کے پاس گرم کپڑوں کی پہلی کھیپ پہنچ گئی ہے۔بھارتی میڈیا کو جاری کی گئی تصاویر میں لداخ میں تعینات ایک بھارتی فوجی کو سفید رنگ کے امریکی لباس میں دکھایا گیا ہے جو خاص طور پر شدید ترین سردی سے بچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ امریکی ساخت کے ایسے 60 ہزار یونیفارم بھارت کو تحفے میں دیئے جائیں گے اب تک فوج کو ایسے 20 ہزار کپڑوں کی پہلی کھیپ ہی موصول ہوچکی ہے اور فوجی ان کا استعمال بھی کرنے لگے ہیں۔ لداخ کے علاقے میں ایل او سی پر چین کا مقابلہ کرنے کے لئے 90 ہزار بھارتی فوجی تعینات ہیں۔مشہور کہاوت ہے کہ دوست کا دشمن بھی اپنا دشمن اور دشمن کا دوست بھی اپنا دشمن ہوتا ہے۔ امریکہ نے بھارت کو لڑاکا بمبار جنگی جہاز دیئے، ہم نے اعتراض نہیں کیا۔ سمندرکی تہہ میں ہمارے تاک میں رہنے کے لئے آبدوز دیئے ہم نے کچھ نہیں کہا، انہوں نے بھارت کو بندوقیں اور گولہ بارود فراہم کیا، ہم چپ رہے۔اب انہوں نے سیاچن میں پاکستان کا اور لداخ میں ہمارے دوست چین کا مقابلہ کرنے کے لئے تعینات بھارتی فوجیوں کو گرم کپڑے بھیجے ہیں جو امریکہ کی بھارت نوازی اور چین و پاکستان کے ساتھ دشمنوں والے سلوک کا مظہر ہے۔ سیاچن میں صرف بھارت کے فوجی تعینات نہیں ہیں ہمارے بھی ہزاروں فوجی سیاچن اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ دیگر سرد ترین علاقوں میں اپنے وطن کے دفاع کے فرائض نبھا رہے ہیں۔انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ امریکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دونوں ملکوں کی افواج کے لئے گرم کپڑے بھجواتا۔چین کے ساتھ امریکہ کا بالادستی والا مقابلہ ہے۔ کیونکہ چین دنیا کی بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بن کر ابھرا ہے اور اس نے سپرپاور امریکہ کی اجارہ داری کو چیلنج کیا ہے۔ لیکن ہمارا تو امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی مقابلہ نہیں، نہ ہی ہم امریکہ کے لئے مستقبل قریب یا بعید میں کوئی خطرہ بننے جارہے ہیں۔ ہم نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ ہم امریکی ویزے کے حصول کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں، امریکی تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو پڑھانا سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے۔ وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لئے صدارتی انتخابات میں رپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان مقابلہ تھا ہم سارا کام کاج چھوڑ کر ان انتخابات کے نتائج دیکھ رہے تھے۔اس دوران ہمارے یہاں کاروبار میں مندی رہی، سڑکیں سنسان ہوگئیں اور لوگوں کو کھانے پینے کی بھی فکر نہیں تھی، سب لوگ ٹیلی وژن کی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تو ہم نے غیر مشروط طور پر اس جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اور اس کا خمیازہ ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا تو ہم نے بھی اپنے مفادات کو داؤ پر لگا کر اس کی خوشنودی حاصل کر نے کی کوشش کی۔ ہمارے یہاں اہم عہدوں پر تعیناتی کے لئے بھی امریکہ سے پیشگی منظوری لینی پڑتی ہے۔ چند پرانے ایف سولہ طیاروں کے لئے ہم نے دوگنی قیمت ادا کی۔ پھر بھی انہیں ہم سے یہ گلہ رہتا ہے کہ ہم وفادار نہیں،جبکہ ہم نے کبھی ان سے یہ کہنے کی جرات نہیں کی کہ اگر ہم وفادار نہیں، تو بھی تو دلدار نہیں،دوسری جانب بھارت کو مسلسل نوازا جارہا ہے۔ امریکی حکام کبھی تاج محل دیکھنے اور کبھی موسم بدلنے کے لئے بھارت کے دورے کرتے رہتے ہیں بن مانگے اسے نوازتے رہتے ہیں بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بنانے کے لئے امریکہ نے کیاجتن نہیں کئے۔ اب ہمارے گھروں پر آتش و آہن کی بارش کرنے کے لئے سرحدوں پر تعینات بھارتی فوجیوں کو سردی سے بچانے کے لئے امریکہ نے گرم کپڑوں کا تحفہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ یہود و ہنود آپس میں بھائی ہیں ان کے اختلافات نوراکشی کے مترادف ہیں اور وہ ہمارے ساتھ کبھی مخلص نہیں ہوسکتے۔


شیئر کریں: