Chitral Times

Oct 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رضاکارفورس سے اگرکام لینا ہے توانھیں مردم شماری اور پولیوجیسے مہمات سپرد کئے جائیں۔خیراللہ

شیئر کریں:


چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) اس وقت پورے ملک میں نظام تعلیم اغیار کے نشانے پر ہے. صورت حال یہ ہے کہ تعلیمی پالیسیاں ملک کے باہر سے بن کر آتی ہیں. آئے روز نت نئے تجربات کے ذریعے نظام تعلیم کے حلیے کو بگاڑا جارہا ہے. رضاکار فورس کے ذریعے رہی سہی کسر کو بھی تباہ کردیاجائے گا. تعلیمی اداروں میں رضاکاروں کی مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیاجائیگا.  اگر رضاکاروں سے کام لیناہے تو انہیں پولیو، مردم شماری، خانہ شماری اور دیگر سروے جیسے مہمات سپرد کئے جائیں. معلم کو محض کلاس روم کے لئے یکسو کردیاجائے. ان خیالات کا اظہار تنظیم اساتذہ کے صوبائی صدر خیراللہ حواری نے چترال (لوئر) اور (اپر) کے چار روزہ دورے کے اختتام پر بونی میں تعلیمی کانفرنس اور الوداعی پروگرام سے خطاب کے دوران کیا. مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ چترال انتہائی دشوار گزار، دور افتادہ اور سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل ہے. صوبائی حکومت یہاں کے ملازمین کو انکم ٹیکس سے مستثنی قرار دے. غیر دلکش ایریا الاؤنس میں دس گنا اضافہ کیا جائے. فائر ووڈ الاؤنس لکڑی کی مارکیٹ ریٹ کے حساب سے مقرر کیا جائے. چترال یونیورسٹی کا کیمپس بونی میں قائم کیا جائے. بائی فریکشن کے نتیجے میں جواساتذہ چترال لوئر سے اپر اور اپر سے لوئر جانا چاہتے ہیں. فائل ڈائریکٹوریٹ میں پڑی ہوئی ہے. اس پر فورا عمل درآمد ہونا چاہیئے.


شیئر کریں: