Chitral Times

May 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہنگائی کا بے قابو جن…………. محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


حکومت نے ملک میں صنعتی پیداواراور برآمدات میں اضافے کے حوالے سے صنعتوں کے لئے بجلی کی پیک آور قیمت ختم کرنے اور 25 فیصد اضافی بجلی کے استعمال پر قیمتوں میں خصوصی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔یکم نومبرسے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت کے لیے معمول سے زیادہ بجلی کے استعمال پرآئندہ برس جون تک 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔ آئندہ 3 سالوں تک ہر قسم کی صنعت کے لیے 25 فیصد کم قیمت پر اضافی بجلی فراہم کی جائے گی صنعتوں کے لیے اب پورا وقت آف پیک آور تصور کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہماری70 فیصد بجلی درآمدی ایندھن پر بن رہی تھی اس کے برعکس ہمارے پاس وہ سارے وسائل موجود ہیں جن سے سستی بجلی بنائی جاسکتی ہے سابقہ حکومتوں نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ 24 روپے فی یونٹ کا معاہدہ کیا تھا ہم نے وہی معاہدے ساڑھے 6 روپے فی یونٹ پر کئے ہیں۔2 برسوں میں ہم نے متبادل قابل تجدید بجلی کے لیے منصوبہ بنایا جس کے تحت 2025تک ہماری 25 فیصد بجلی کی پیداوار قابل تجدید توانائی سے ہوگی۔صنعتی شعبے کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی سے پیداوار میں اضافے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے اور برآمدات بڑھنے کے امکانات ہیں توانائی کے قابل تجدید منصوبوں پر عمل درآمد کے بعد گھریلو صارفین کے لئے بھی بجلی کی قیمتوں میں کمی ضروری ہے تاہم یہ طویل المعیاد منصوبے ہیں جس سے ملک کو آگے چل کر فائدہ ہوگا حکومت نے تعمیراتی شعبے کے لئے بھی مراعاتی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد تعمیروترقی کے منصوبوں کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ حکومت نے پانچ سالوں میں ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا اعلان کررکھا ہے۔ظاہر ہے کہ ایک کروڑ سرکاری ملازمتیں لوگوں کو نہیں دی جاسکتیں۔ سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتوں کو مراعات دینے اور گھریلو صنعتوں کو ترقی دے کر ہی ملازمت کے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔اداروں میں اصلاحات، کرپشن کا خاتمہ اور لوٹی گئی قومی دولت واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرنا بھی موجودہ حکومت کے انتخابی منشور کا حصہ ہے اور اس پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔ لیکن منشور میں شامل وعدوں کی تکمیل کے ساتھ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اور فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ مہنگائی ملک کے بائیس کروڑ عوام کا مشترکہ اور اولین مسئلہ ہے۔ موجودہ حکومت کے دو سالہ دور اقتدار کے دوران ہزاروں افراد کو روزگار مل چکا ہے تاہم لاکھوں لوگوں کا روزگار چھن بھی چکا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں پانچ سو فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے۔ تین سو روپے والا موٹا گوشت ساڑھے پانچ سو، چکن 110روپے سے 211روپے کلو ہوگیا۔ پیداواری سیزن میں بھی غریبوں کا کھاجہ آلو 20روپے کلو کے بجائے 120روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے ٹماٹر کی فی کلو قیمت140، بھنڈی150، ٹینڈے100، توری110، پیاز100، کدو90، بینگن80، لہسن400اور ادرک600کلو فروخت ہورہے ہیں مسور کی دال 160، ماش کی دال240اور چنے کی دال140روپے کلو فروخت ہورہی ہے غریب آدمی کے لئے گھر میں دال اور سبزی پکانا بھی عیاشی کے زمرے میں آگیا ہے۔ بازاروں میں سرکاری نرخ نامہ نظر آرہا ہے نہ ہی سرکاری حکام ملاوٹ کی روک تھام، ذخیرہ اندوزی اور گران فروشی کے خلاف حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ تعلیمی اخراجات بھی ہر سال بڑھتے جارہے ہیں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران سات مہینے تعلیمی ادارے بند رہے پرائیویٹ سکولوں نے نہ صرف سات مہینوں کی فیسیں والدین سے وصول کیں بلکہ ٹرانسپورٹ کی فیس اور سالانہ اخراجات بھی والدین سے بٹورے جارہے ہیں یوں لگتا ہے کہ ملک میں حکومت اور قانون نام کی کوئی چیز موجود نہیں، موجودہ حکومت نے سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا رونا روکر دوسال گذار دیئے عوام کو بھی ان کی باتوں پراب تک یقین آرہا تھا مگر اب یہ بہانے مزید چلنے والے نہیں ہیں۔مہنگائی کے ہاتھوں عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کو اپوزیشن کی تحریک، دہشت گردی کے واقعات اور سرحدوں پر کشیدگی سے کوئی خطرہ نہیں۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے حکومت نے جنگی بنیادوں پر اقدامات نہ کئے تو لوگ گھروں میں بھوکوں مرنے کے بجائے سڑکوں پر نکل کر پولیس کی گولیاں کھاکر مرنے کو ترجیح دیں گے۔سول نافرمانی، بدامنی اور خانہ جنگی سے حکومت بچنا چاہتی ہے تو مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
42100