Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پرصوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں تشویش کا اظہار

شیئر کریں:

سیکریٹری صحت خیبرپختوںخوا کو فوری طور پر چترال پہنچ کر اقدامات اُٹھانے کی ہدایت


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت بدھ کے روزوزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز اور انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر سول و عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں صوبے میں کورونا کی موجودہ صورتحال ، اس وباءکے ممکنہ پھیلاو ¿ کو روکنے کے لئے پیشگی انتظامات اور تیاریوں ، وبا کے دوبارہ پھیلنے کی صورت میں مریضوں کے علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں کی موجودہ استعداد اور دیگر معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام کی طرف سے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں کورونا وباءکی دوسری لہر شروع ہوگئی ہے۔ ضلع چترال اور ہزارہ ڈویژن کے بعض علاقوں میں کورونا کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے جبکہ بعض تعلیمی اداروں میں بھی کورونا کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ اجلاس میں ضلع چترال میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری صحت کو فوری طور پر ضلع چترال کا دورہ کرکے وہاں پرٹیسٹنگ اور ہسپتالوں کی استعداد کو بڑھانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔


تعلیمی اداروں میں کورونا وباءکے ممکنہ پھیلاو ¿ کو روکنے کیلئے سرمائی اضلاع کے تعلیمی اداروں میں موسم سرماکی تعطیلات کا اعلان مقررہ وقت سے قبل کرنے کی تجویز پر سیر حاصل گفتگو کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ تعلیم اس سلسلے میں حتمی فیصلے کے لئے معاملے کا تمام پہلوو ¿ں سے جائزہ لے کر قابل عمل اور مناسب تجاویز پیش کرے گا۔ اجلاس میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی روشنی میں عوامی مقامات میں فیس ماسک کے استعمال پر عملدرآمد کو یقینی بنانے، تفریحی پارکوں کو شامل چھ بجے کے بعد بند رکھنے جبکہ شادی ہالز، ریسٹورنٹس اور مارکیٹس کو رات دس بجے کے بعد بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبہ بھر میں جن جن علاقوں میں کورونا کے کیسز میں تیزی آرہی ہے ان کی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کر کے مقامی ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں تاکہ ان علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاو ¿ن لگائے جائیں۔


اجلاس میں کورونا کی دوسری لہر سے عوام کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں عوامی آگہی کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں اطلاع عامہ کے مختلف ذرائع کے توسط سے مسلسل آگہی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیااور محکمہ اطلاعات کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس حوالے سے فوری طور پر ایک جامع پلان تشکیل دے۔ ٹاسک فورس نے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے کورونا ٹیسٹنگ اور ہسپتالوں کی استعداد کو خاطر خواہ حد تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ صحت کو اس حوالے سے ضروری اقدامات اٹھانے اور خصوصاً بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس اور حفاظتی سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے کے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔


کورونا کے نئے کیسز کی تعداد کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں اس وقت کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 804 ہے ۔ آبادی کے تناسب سے جن اضلاع میں اس وقت کورونا کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں ان میں اپر چترال، لوئر چترال، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور پشاور شامل ہیں۔ صوبے میں مجموعی طور پر کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 1.25فیصد ہے۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں کورونا مریضوں کے لئے ٹیسٹنگ کی مجموعی استعداد چار ہزار یومیہ ہے جس میں ضرورت پڑنے پر اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں عوام کو کورونا وبا ءسے محفوظ رکھنے کے لئے صوبے کے معروضی حالات کے مطابق پر ضروری اقدام اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔


اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کورونا وباءسے عوام کے تحفظ کو اپنی حکومت کی اولین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہے، ضرورت پڑنے پر اس وبائکے پھیلاو ¿ کو روکنے کےلئے صورتحال کے تقاضوں کے مطابق تما م تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جن جن علاقوں میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے وہاں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خود کو اور دوسروں کو کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے ابھی سے احتیابی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کرکے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
<><><><><><>


شیئر کریں: