Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان الیکشن 2020: متوقع نتائج …تحریر: دیدار علی شاہ

شیئر کریں:

گلگت بلتستان کی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ تقریباًپانچ ماہ سے نگران حکومت یہاں کی سیاسی اور انتظامی معاملات دیکھ رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں انتخابات ہمیشہ سے دلچسپ رہے ہیں۔ اس کی وجہ ماضی کے انتخابات پر وفاق، وفاقی سیاسی پارٹیاں، مذہبی پارٹیاں، قوم پرست پارٹیوں کا اثرانداز ہونا ہے۔موجودہ سیاسی حالات کو سمجھنے کے لئے تاریخ کا سہارا لینا ضروری ہے۔


گلگت بلتستان کے انتظامی امور جب معاہدہ کراچی کے تحت 1949 میں وفاق کے سپُردہوئے تو ایک تحصیلدار کو یہاں کے انتظامی امور سنبھالنے بھیجا گیا، ویلج ایڈ کے نام سے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا، 1969میں مشاورتی کونسل کا قیام عمل میں آیا اوراس خطے کو شمالی علاقہ جات کا نام دیا گیا، 1970 میں عام انتخابات ہوئیں اور 1971 میں ایف سی آر کا خاتمہ کیا گیا، 1975 میں ایڈوائزری کونسل کا نام تبدیل کر کے ناردرن ایریاز کونسل رکھ دیا گیا۔ 1983اور 1987 کو انتخابات ہوئیں۔ 1994 میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کا عہدہ متعارف کیا گیا۔ 2000ء کو ناردرن ایریاز کونسل کا نام تبدیل کر کے ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل رکھ دیا گیا۔ پھر 2004 کو انتخابات منعقد ہوئیں، 2007میں کونسل کا نام تبدیل کر کے ناردرن ایریاز قانون ساز اسمبلی رکھ دیا گیا۔ 2009میں اسے گلگت بلتستان اسمبلی کا نام دے کر جی بی کونسل متعارف کیا گیا۔ 2015 میں پھر الیکشن ہوئیں اور 2018آرڈر تیار کیا گیااسے یہاں کے عوام نے رد کیا تو کچھ ترمیم کے ساتھ دوبارہ آرڈر2019 کے ساتھ بحال کیا گیا۔


گلگت بلتستان کے اس بیان کردہ تاریخ میں سیاسی، قانونی، تکنیکی مراحل کے دوران سارے فیصلے وفاق میں کئے گئے ہے۔ اور اگر وفاق میں نہیں تو گلگت بلتستان میں موجود بیوروکریسی کے زریعے سے سارا نظام چلایا گیا ہے۔ جو کہ ان 73سالوں سے اس خطے اور 20 لاکھ عوام کے ساتھ زیادتی وناانصافی ہے۔
اب چونکہ 15نومبر کو انتخابات ہونے جارہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے یکم نومبر یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقعے پر گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔ اور ماضی کی طرح وفاقی سیاسی پارٹیوں کے نمائندے اپنے پارٹی الیکشن کمپین کے لئے گلگت بلتستان میں موجود ہے۔


گلگت بلتستان میں اس وقت تین بڑی سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہے۔یہ وفاقی سیاسی پارٹیاں جن میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور وفاق میں حکمران جماعت تحریک انصاف شامل ہے۔ ان میں سے ن لیگ اور پی پی پی نے گلگت بلتستان میں حکومت کی ہے۔ اور تحریک انصاف پہلی مرتبہ قسمت آزمائی کرے گا۔ روایت یہی رہا ہے کہ وفاق میں جو پارٹی برسر اقتدار ہو وہی پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ پچھلے 2009 اور 2015 کے انتخابات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام اُسی پارٹی کوووٹ دیتے ہے جو وفاق میں برسراقتدار ہوں۔


گلگت بلتستان کے عوام نے یہاں کے چیدہ چیدہ مسائل کے حوالے سے ن لیگ اور پی پی پی کو کئی بار آزما چکے ہیں۔ اور یہ حقیقت بھی جان چکے ہے کہ اُ ن کے حلقے سے منتخب شدہ نمائندے جب اسمبلی میں پہنچ کر کس طرح سے عوام کے لئے قانون سازی اور اُن کے مسائل کو کیسے حل کرتیں ہیں، یقینا اس کا جواب مایوسی اور نفی میں ہے۔ اب اگر پرانی روایت برقرار رہ کر وفاقی حکمران پارٹی تحریک انصاف گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یقین جانیے اُن کو پھر عوام سے وعدے اور توقعات پر پورا اترنا لازم ہوگا۔ اس کی کئی وجوہات ہے۔ جس میں سب سے پہلے عوام اب ماضی کے الیکشنز میں یہ جان چکے ہے کہ اُن کے نمائندے دوران انتخابات بڑے بڑے دعوے کر کے ووٹ حاصل کرتے ہیں۔اور اسمبلی پہنچ کر سب بھولتے ہے اور نتیجہ صفر۔


دوسرا یہ کہ تحریک انصاف کے ساتھ زیادہ تر نوجوان طبقہ شامل ہے۔یہ جو وعدے تحریک انصاف نے کی ہے اور ابھی انتخابات سے پہلے کر رہا ہے، اگر اُس پر عمل نہیں کرسکا تو پھر تحریک انصاف کی شامت ہوگی کیونکہ اس کے ساتھ نوجوان طبقہ ہے۔ اور اگر یہ نوجوان طبقے نے آواز اُٹھائی یا رد عمل دکھائیں تو تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں اپنا پانچ سال پوری کرنا مشکل ہوگا۔


تیسرا معاملہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی ہے جو ہر حکومت کے لئے چیلنج رہا ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی نے اپنے دور حکومت میں اس پر وعدے کر کے نتیجہ کچھ خاص نہیں نکلا ہے۔ اس لئے عوام میں مایوسی ہے۔اس حوالے سے تحریک انصاف وفاق نے کافی عرصہ پہلے دبے الفاظ میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ کا درجہ دینے کے حوالے سے بیانات جاری کیا جا چکا تھا۔ مگر وزیر اعظم نے عبوری صوبہ بنانے کا اعلان تو کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ آئین میں ترمیم کب کریں گے۔اور اگر یہاں کے لوگوں کو صیح معنوں میں مستقل بنیادی حقوق دلوا دے گا تو اگلی حکومت بھی اُنھی کی ہوگی۔ اگر یہ بیانات صرف الیکشن جیتنے کی حد تک ہے تو یقین جانئیں اس کا نقصان مستقبل میں تحریک انصاف ہی کو ہوگا۔


مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی بات کی جائے تو یہ تحریک انصاف کے مقابلے میں تجربہ کا راور سیاسی جوڑ توڑ میں ماہر ہے۔ ابھی تک کے صورتحال سے یہ واضح ہے کہ تحریک انصاف بھاری اکثریت سے الیکشن نہیں جیت سکتی بلکہ ن لیگ، پی پی پی اور مذہبی جماعتیں ان کے لئے مشکلات پیدا کریں گیاور کر رہے ہیں۔پھر مذہبی جماعتوں کے ساتھ آزاد امیدوار بھی اس لیکشن پر اثر انداز ہوں گے اور یہ پچھلے الیکشنز میں بھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ گو کہ تحریک انصاف نے مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ مل کر کچھ حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیا ہے۔ تحریک انصاف کی اس حکمت عملی سے اسے وہ سیاسی فائدے حاصل نہیں ہوں گے جہاں تک اس نے یہ حساب کتاب وفاق میں بیٹھ کر کیا گیا ہے۔ابھی تک کے سیاسی صورتحال کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اتنی مضبوط دیکھائی نہیں دے رہا اس کی وجہ پارٹی کے اندر آپس کے اختلافات ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اس کے مد مقابل مضبوط دیکھائی دے رہا ہے۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن اور آزاد امیدوار بعض حلقوں میں مضبوط ہے۔اور ابھی کے اندازے کے مطابق آئیندہ حکومت گلگت بلتستان میں مخلوط حکومت ہوگی۔


گلگت بلتستان کی تاریخ میں اگر سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کو دیکھا جائے تو ان جماعتوں یا پارٹیوں نے سیاسی کارکن اور سیاسی لوگوں کو ضرور پیدا کی ہے۔ مگر سیاسی لیڈرز ابھی تک پیدا نہیں ہوسکیں ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہے مگر اصل وجوہات یہ سیاسی جماعتیں ہی دے سکتیں ہے۔ سیاسی لیڈر کا مقام اور پرواز بہت بلند ہے وہ بلندی سے زمینی حقائق کو دیکھ کر سمجھ کر پھر فیصلہ کر کے سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ مگر وہ وقت ضرور آئے گا کہ گلگت بلتستان کے سیاسی لیڈرز وفاق میں پاکستان کے فیصلہ سازی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔


اسی حوالے سے ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ شروع شروع میں انتخابات 2020 کے لئے جن جن امیدواروں نے اپنے قاغذات نامزدگی جمع کروائی ہے۔ اُن میں سے بعض ایسے امیدوار بھی ہے جن کو جی بی کونسل اور جی بی اسمبلی میں فرق کا نہیں پتہ۔ اور یہ لوگ صرف سوشل میڈیا پر اپنی مشہوری کے لئے یہ کام سرانجام دیتے ہے۔وفاق سے ہمیشہ اسی لئے بتایا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان میں ابھی تک سیاسی بلوغت نہیں آئی ہے۔
گلگت بلتستان میں جب سے تیسری بڑی پارٹی تحریک انصاف نے قدم رکھا ہے تو سیاسی وابستگی اور سرگرمی کے حوالے سے ایک مثبت عمل دیکھنے میں آئی ہے۔ وہ یہ کہ نوجوان طبقہ سیاست کی جانب راغب ہوئیں ہیں۔ اور جوش ولولے سے بڑھ چڑھ کر سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہورہے ہیں۔ یہ پوری گلگت بلتستان میں نوجوان نسل کا اچھا اقدام ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اچھی قیادت ملے جو انہیں ماضی کے روایتی، انتقامی،علاقائی اور مسلکی سیاست سے دور رکھ کر آنے والے دور کی سیاست اور خدمات کے لئے تیار کریں۔


ولاد یمیر لینن کا قول ہے کہ ” فکری انقلاب کے بغیر سماجی انقلاب ممکن نہیں “ اب چونکہ 2020 کا الیکشن قریب ہے لہذا گلگت بلتستان کے لوگ اپنی سوچ، فکر، عمل کو مثبت رکھ کر آنے والے پانچ سالوں کے لئے اپنے ووٹ کا استعمال دانشمندی، حق اور جائز طریقے سے کریں تاکہ آپ کا ضمیر مطمئن ہوں اور جس نمائندے کو ووٹ دے رہے ہو اُس کا ضمیر جاگ جائے۔


شیئر کریں: