Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود……صبر و برداشت ….شہزادی کوثر

شیئر کریں:

برداشت اور صبر انسان کا وہ زیور ہے جو کبھی نہیں گہناتا،اپنے اوپر بیتنے والے حوادث سے لے کر نا قابلِ قبول باتوں تک ہر دو انسانی ذہن کو کھروچ کر زخمی کرتے ہیں۔ جسم پر نازل ہونے والی ٓافات کا گھاوکچھ عرصہ میں بھر جاتا ہے لیکن دل ودماغ اورخاص کر روح میں جاگزیں ہونے والے واقعات اپنی زہر ناکی کبھی کمی نہیں ٓانے دیتے۔اگر انسان صابر اور برداشت کرنے والا ہوتو ان واقعات کی حیثیت گہرے سمندر میں پھینکے جانے والے کنکر سے زیادہ کی نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کے دل بحرِبیکراں،ان کا ظرف اعلی اور سوچ وسیع ہوتی ہے ۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ٓاپے سے باہر نہیں ہوتے ۔نہ ہی اپنے حالات کے شاکی  کہ ہر ملنے والے کو اپنی زندگی کی بپتا سنانے بیٹھ جائیں۔ خالقِ کون ومکاں نے اپنے کلامِ پاک میں انسانوں کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے ۔۔۔۔۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔،،،،، صبر وہ تلوار ہے جو کبھی کند نہیں ہوتی۔بعض دفعہ سامنے والے کے بھونڈے روئیےاور بے تکی باتوں کو ہضم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں تھوڑی سی کوشش کر کے برداشت کا مظاہرہ کرنا بہت سی پریشانیوں اور فساد کوپیدا ہونے سے پہلے ہی روکتا ہے۔ ضدی اور ہٹ دھرم انسان سے بھی کامیابی سے نمٹنے کے لیے برداشت اور صبر اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے لوگوں سے واسطہ پڑنا عام سی بات ہے جو ہر بات کا جواب دینا اپنے ذمہ فرض تصور کرتے ہیں چاہے اس کا کوئی جواب بنتا بھی ہو یا نہیں ۔۔ایسے موقعہ پر اپ کی خاموشی کو بزدلی یا  لاجواب ہونے کے معنوں میں لیا جاتا ہے ۔دراصل ایسے افراد کو اس حقیقت کا علم ہی نہیں ہوتا کہ خاموشی ہی صبرو برداشت کا عملی اظہار ہے۔ یہی سب سے برا ہتھیار بھی ہے جو بد زبان لوگوں اور بد اخلاق اشخاص کو پچھاڑنے کے کام ٓاتا ہے ۔ ان کے نزدیک خاموشی ٓاپ کی ناکامی ہے لیکن وہ اس بات سے لا علم ہوتے ہیں کہ خاموشی اختیار کرنا دب جانے کی علامت نہیں ہوتی بلکہ یہ کامیابی کا پہلا زینہ ہے کیونکہ ہر بات اور بندہ جواب کا مستحق نہیں ہوتا۔ ترجیحات کا فرق انسانوں کی شناخت کرواتا ہے۔ کسی گھٹیا سوچ رکھنے والے شخص کے سامنے اپنی عزت وتوقیر کی حفاظت سب سے ضروری ہوتی ہے کیونکہ وہ اپ کی قدر کرنا نہیں جانتا لہذا بحث و تکرار کرنا لفظوں کی وقعت گنوانا اور خود کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے۔ ٓاپ کے الفاظ اس وقت قابلِ عمل ہوتے ہیں جب سامنے والا عقل رکھتا ہے ۔اور اگر وہ عقل کے حوالے سے کباڑیا ہے تو ٓاپ کے الفاظ اور فلسفہ ردی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ انسان ان باتوں کا جواب بھی ایسے انداز سے دے گا جس کی ٓاپ کو کبھی توقع نہیں ہوتی ایسے میں برداشت کا دامن تھامنا  ہی کنج عافیت ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ ایسی اینٹوں کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کی جائے تو انسان خود ہی دو کوڑی کا رہ جاتا ہے، ایسے گھاٹے کا سوداکوئی بھی معقول شخص نہیں کرنا چاہے گا ۔شیخ سعدی کہتا ہے کہ عزت کے موتی پر ذرا بھی میل ٓاجائے تو سینکڑوں دریا بھی اسے دھو نہیں سکتے ۔اس لئے صبرو برداشت کی چادر تان کر رہنے میں ہی بھلائی ہے۔  اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ہمارے بچپن میں گاوں میں ایک بیوہ عورت رہتی تھی جس کے پاس ہر وقت ایک نئی چوکی ہوتی تھی وہ نہ کبھی خود اس پر بیٹھتی تھی اور نہ ہی کسی اور کو بیٹھنے دیتی، ایک دن پوچھنے پر بتایا کہ جب میں بیوہ ہوئی تو میں جوان تھی میرے بچے چھوٹے تھے گھر میں کمانے والا کوئی نہ تھا ،مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ ہروقت روتی تھی کہ حالات کا مقابلہ کیسے کروں گی؟   ایک دن گاوں کے مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ بیٹی جو لوگ مشکل وقت میں صبر کر کے رب کی رضا پر راضی ہوتے ہیں تو اللہ ایسے صبر کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔بس تب سے میں نے رونا دھونا بند کر دیا کہ جب اللہ میرے ساتھ ہے تو مجھے کسی چیز کی کوئی فکر نہیں۔ لیکن اتنی بڑی ہستی کو میں کہاں بٹھاوں گی ؟ اس لیئے میں نے یہ چوکی خریدی ہے تاکہ جب میں کام کرنے بیٹھ جاوں تو اللہ میرے پاس اس پر بیٹھ جائے گا۔ وہ ان پڑھ عورت صبر کے مفہوم کو کتنی خوب صورتی اور ٓاسانی سے سمجھ گئی اور ہم لوگ صبر اور برداشت کا لفظ صرف طوطے کی طرح رٹنے پر ہی اکتفا کیے ہوئے ہیں ۔۔۔افسوس     !  


شیئر کریں: