Chitral Times

Apr 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پھیکا نمکین ……”خود کشی کی بازی- اور والدین کی غفلت”…..صہیب عمر

شیئر کریں:

یہ زندگی اللہ تعالئ کی امانت ہے اس میں کسی طرح کا تصرف کرکے اس کو ختم کر دینا سب سے بڑی خیانت ہے اور یہ اسلام میں بلکل نا جائز عمل ہے ہر ایک کی زندگی میں آرام بھی ہے اور مصیبت بھی،خوشی بھی ہے اور غم بھی۔اسلام ہر مصیبت اور غم پر صبر کرنا سکھاتا ہے اور اس پر بے پناہ اجر و ثواب سے نوازتا ہے اس لئے کسی غم اور مصیبت کی وجہ سے خودکشی کر لینا حرام ہے اور آخرت میں اس کی بہت بڑی سزا ہے۔صحیح بخاری میں روایت ہےاللہ پاک نے فرمایا”میرے بندے نے مرنے میں جلدی کی اسلئے میں نے بھی جنت کو اس پر حرام کر دیا” Vol-4 Book 56 No 669


انسان کی زندگی اللہ تعالی کی عطا کر دہ امانت ہے اس لئے اسلام نے جسم و جان کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام معاشرے کے افراد کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں خودکشی کے مرتکب نہ ہوں اور انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی اسلام میں بلکل اجازت نہیں دیتا۔


میں مخاطب ان والدین سے ہوں جو اپنے بچوں کو ذہنی دباؤ کا شکار بناتے ہیں اور ان کو نفسیاتی وسوسے کا شکار بناتے ہیں بچپن سے ہی آپ ان کو ذہنی دباؤ کا شکار بنائیں گیں تو وہ زندگی کے مشکل راہوں میں کیسے سفر کرے گا۔آپ کا بچہ زندگی بھر افسردہ ہوگا اور یہ افسردگی بڑھتی رہے گی اور آپ کیلئے بھی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اداسی اور مایوسی بہت بڑی بیماری ہے اور یہ بیماری اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی وجود کو ہی بھول جاتا ہے کہ میں زندہ ہوں یا مرگیا،زندہ ہو کر بھی زندہ نہیں رہتا اسلئے اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ زندگی کیسے جیا جاتا ہے,مشکلات سے نمٹنے کا حل ان کو بتائیں اور ان کے حوصلوں کو رونق بخشیں کیونکہ پنکھ سے کچھ نہیں ہوتا اڑان تو حوصلوں سے ہوتی ہے۔ مشکلات پھیلا کر آسانیاں سمیٹی نہیں جاسکتیں اپنے بچوں کو ذہنی دباؤ میں لاکر آپ امید لے کر بیٹھے ہونگے کہ میرا بچہ ہمارا نام روشن کرے گا معاشرے میں بھی ہماری عزت ہوگی اور میرا بچہ سکول یا کالج میں پہلی پوزیشن لے کر سب کے سر پر ہاتھ رکھے گا یہ ہر گز نہیں ہوسکتا!کیونکہ آپ وسوسے کے بیچ ڈال کر خیر کی توقع کر رہے ہیں اور اسی طرح آپ خود اپنے بچوں کے حریف ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ آپ نے اس بچے کے فلسفے،خیالات ، اور سوچنے کے عمل کو تباہ و برباد کر دیا۔ کیا ہوا اگر آپ کا بچہ نمایاں پو زیشن حاصل نہ کیا تو؟وہ کامیابی نہیں ہوتی جو پہلی بار ہی جیتی گئی ہو اگر جیتی بھی گئی ہو مگر تجربے سے تو قاصر ہوگا۔کامیابی کا پہلا قدم ہی فیل ہونا ہے وہ پہلی قدم پر پاؤں نہ رکھ کر چھلانگ لگا کر پاس ہوا تو سمجھ لو اس نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔


میں ان والدین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کیوں اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے چمن کے پھولوں کو کاٹ رہے ہو؟کیوں اپنے گھر کے روشنیوں کو اپنے ہاتھوں سے بجھا رہے ہو؟کیوں اپنے زندگی کی خوشیوں میں نکہار آنے نہیں دیتے؟
خدارا!اپنے بچوں کو ذہنی دباؤکا شکار نہ بنائیں یہ آپکو احساس نہیں ہوتا اس بچے کے ذہن میں کیا چل رہا ہوتا ہے اس کو اور کوئی متبادل راستہ نظر نہیں آتا وہ خود کشی کرکے اپنے آپ کو خلاص کرکے دوبارہ آپ کے سامنے سر اٹھانے سے بچ جاتا ہے۔بچے آپ کے گھروں کے پھول ہیں جس کی خوشبو کی وجہ سے آپ کا گھر ہمیشہ مہک اٹھتا ہے اور یہی بچے آپ کے گھروں میں بلبل کے مثال ہیں جن کے گیت آپ کے گھروں میں ہمیشہ رقص کرتے ہیں اور کوئی بھی اپنے گھر کو ویراں دیکھنا نہیں چاہتا۔


تعلیم کا مقصد پوزیشن یا ڈگریاں لینا نہیں ہوتا,میں یہاں تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کر رہا۔تعلیم حاصل کریں تعلیم کی بدولت ہی انسان دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتا ہے کسی ادارے میں پہلی پوزیشن لینا ہی تعلیم نہیں یا بند کمرے میں رہ کر ڈھیروں کتابوں کا مطالعہ کرنا ہی تعلیم نہیں یا پورا دن کتاب ہاتھ میں تھام کر دیکھنا ہی تعلیم نہیں۔ایسی تعلیم جو آپ کے اندر شعور،علم،عمل پیدا نہ کرے تو ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس نے ڈگریوں کے ڈھیر لگا رکھے ہوں مگر اپنی ظرف میں پستی،لہجے میں نرمی اور تربیت میں انکساری پیدا نہ کر پایا ہو کیونکہ تعلیم یافتہ انسان اچھی سوچ،اچھے اخلاق اور میٹھی زباں کا مالک ہوتا ہے۔


لہذا اپنے پھول جیسے بچوں کا خیال رکھیں اور اپنے آنکھوں کو نم ہونے سے بچائیں.
آخر میں تمام والدین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ خدارا!اپنے بچوں کو ذہنی دباو کا شکار نہ بنائیں اور اپنے بچوں کے جذبات و احساسات سے کھیل کر اپنے پھول جیسے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے مت گنوا بیٹھیں اور یوں اپنے ذندگی کو رنجیدگی کے حوالے نہ کریں اور کوشش کریں کہ غموں کا سایہ اپ کے خوشیوں کے دریچوں کے آس پاس سے بھی نہ گزرے۔


شیئر کریں: