Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عہد جدید کی فکری و تہذیبی جارحیت….(تحریر: ڈاکٹر ظہیر الدین بہرام)

شیئر کریں:


دور حاضر میں جس نظام زندگی کا دور دورہ ہے اس کا کوئی متعین نام نہیں۔ یہ نظام پوری دنیا میں عملا نافذ ہےاور لوگوں کی الب اثریت جانتے بوجھتے یا انجانے میں اس کے مطابق زندگی گزار رہی ہے۔ لوگ اس نظام کو محض فکری یا تہذیبی قطۂ ظر ے دکھتے یں (اسی لیے اس تحریر کا عنوان بھی وہی رکھا گیا ہے جو عامۃ الناس میں معروف ہے)، لیکن درحقیقت یہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ایک مکمل نظام زندگی ہےجوغیر سوس س انداز میں لوگوں کے اار ر و ظر یا ، ان کی تہذیب و تمدن، ان کی ثقافت، ان کے رسم و رواج، ان کے اخلاقی اقدار، ان کے نظام تعلیم، ان کے سیاسی نظام، ان کی معیشت، ان کے عدالتی نظام، ان کے انتظامی امور، ان کے ذرائع ابلاغ، غرض زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس نظام اور خصوصاَََ اس کی بنیادوں میں ایک اہم بنیاد سیکولرزم کو لا دینیت یا الحاد قرار دیتے یں جبکہ بعض لوگ اس کو محض دین و دنیا میں تفریق پہ محمول کرتے یں جبکہ درحقیقت یہ پورا نظام اپنی تمام بنیادوں اور مظاہر کے ساتھ ادیان کے متوازی ایک نظا م زندگی اور منہج حیا کا نام ہے جس کے اپنے عقائد (اار ر وتصورا یا ورلڈ ویو)، اپنے اخلاقی و عاشرتتی اقدار، اپنے شعائر (ثقافتی و تہذیبی شناخت اور علاما ) اور زندگی گزارنے کے اپنے اصول و ضوابط یں۔ آسان الفاظ میں اس نظام کو ایک علیحدہ دین قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت ان کتابی باتوں ے بالکل مختلف ہے جن میں دعوی کچھ کیا جاتا ہے اور عمل کچھ اور سامنے آتا ہے۔ اس نظام میں دین کو چند عقائد، چند مناسک عبودت، بعض رسم و رواج اور روحانیا کے متعین تصورا تک محدود قرار دے کر اے تہذیب و تمدن کا ایک معمولی حصہ ثابت کیا گیا ہے جس کو عرف اس کے اور اس کے رب گیا ہے جو دیا کے مطابق بندے کا ذاتی عاشملہ قرار ہے اور جسے اس نظام یا ریل ی ج ن کہا جاتا دھرم کے درمیان تعلق تک ، عام میں مذہب ؤوں کے با ہ ل نہیں۔ جبکہ درحقیقت تمام معروف ادیان میں انسانی زندگی کے تمام پ کوئی تعلق محدود ہے اور عملی زندگی ے رے میں رہنمائی اور قوانین موجود یں اور کوئی بھی دین عملی زندگی ے ہٹ کر صرف عباد گاہ تک محدود رہنے کو قبول نہیں کرتا۔ لیکن موجودہ مروج نظام بڑے منظم طریقے ے عام لوگوں حتی کہ بعض دینی پیشواؤں کو بھی یہ باور کرانے میں کامیاب ہوا ہے کہ دین انسان کا ذاتی عاشملہ ہے اور اس کا عملی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں۔ اس طرح لوگ سیکورزم اور لبرلزم وغیرہ کے لالی پاپ ملنے پہ خوشیاں مناتے یں لیکن خود یہ نظام اپنے آپ کو ادیان کے متبادل کے طور پر نیز ان کی بنیادی ذمہ داریوں اور تعلیما کے نگہبان کی صور میں مسلط کر کا ہے۔


اس نظام کے علمبردار مختلف ادوار میں مختلف ناموں ے سامنے آتے یں۔ کبھی یہ اپنے آپ کو انسانی اقدار کا امین قرار دیتے یں، کبھی ترقی پسندی کا علم بلند کرتے یں تو کبھی روشن خیالوں کے روپ میں سامنے آتے یں، اور بوقت ضرور لبرلزم، سیکولرزم، جدیدت (ماڈرنزم)، عالمگیرت (گلوبلائزیشن) کے لبادے اوڑھ کر لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کرتے یں۔


یہ ایک جارح اور متشدد نظام ہے جس میں فکری، تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی امور میں کھل کر بلکہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ جارحیت کی جاتی ہے۔ اس نظام کے علمبردار اعتدال، رواداری، غیر جابنداری وغیرہ وغیرہ کے تما ؤوں کے ل م تر دؤ باوجود اپنے اار ر و ظر یا ، اپنے تہذیب و تمدن اور اپنے اخلاقی و ثقافتی اقدار کے مقابلے میں کسی چیز کو برداشت نہیں کرتے۔ اس لیے زمینی حقائق کی بنیاد پر اس نظام کو انتہا پسندی پر مبنی فکر اور جارحیت وتشدد پر مبنی طرز عمل کا مجموعہ کہنے میں کوئی کلام نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ رواداری، دیگر ادیان اور تہذیبوں کے وجود کا اعتراف اور دینی وثقافی کو اپنے دین کی بنیادی تعلیما ؤوں کے باوجود لوگوں ل آزادی کے بلند وبانگ دؤ عمل کرنے اور اپنی ثقافت کے بے ضرر علاما کو اپنانے ے جبرا روکتے یں۔ اس نظام کے علمبرداروں کی روادری اور اعتدال کی قلعی فرانس اور دیگر مغربی ممالک میں بیچ چوراہے کھل گئی ہے کہ وہ اپنے دجالی نظام کے ثقافتی اقدار ے مطابقت نہ رکھنے والے علاما وحرکا کو کسی طور بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں حتی کہ وہ سکارف کے نام پر کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا ہی
کیوں نہ ہو۔اگرچہ بعض مقاما پر اس نظام کی پیروی کرنے والے کچھ افراد کا طرز عمل رواداری اور ہم آہنگی پر مبنی ہوتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی یہ نظام عدم برداشت اور جارحیت کے اصولوں پر مبنی ہے جس میں دوسروں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔


اس نظام کے علمبردار ا سی فکر اور اسی طرز عمل کے حقیقی امین یں جس کا مظاہرہ تمام انبیاء ، علی ھم السلامکے مخالفین نے کیا تھا۔ دینی طبقے کے خلاف ان کے الزاما طعنوں اور رویوں کا انداز وہی ہے جس کےتذکرے آسمانی کتب میں موجود میں یں۔ کئی انبیاء کو یہ کہا گیا کہ آپ کی باتیں فرسودہ خیالا اور دیومالائی کہانیوں ( اساطیر الاولین) َ ؤمنو ۳۱الانفال ،۲۵ پر مشتمل یں (الانعام ل )۔ کسی ی کو دندااری کے زم میں بتلا ہونے اور دوسروں کو قیر مجھنے کے عنے دے ئےتو کسی ی کو جھگڑالو قرار دیا گیا ۸۳ المؤ ن ، )۔ کسی ی ،۴۱ الانبیاء ،۳۲، الرعد ۱۰ ) کئی انبیاء کا ویسے ہی مذاق اڑایا گیا (الانعام ۶۶ )۔ کسی ی کو بے عقلی میں بتلا اور جھوٹا کہا گیا (الاعراف ۳۲(ھود نے لواطت جیسی گندی َ حرکت ے روکنے کی کوشش کی تو ان پر پاکبازی اور صفائی پسندی کے زم میں بتلا ہونے کی گئی ی کسی )۔ کسی ی کے مخالفین نے کہا کہ تمہاری ۵۶، النمل ۸۲ ب ھپ ی (الاعراف )۔ کسی ی کو بڑائی کا طاب اور اقتدار کا بھوکا کہا گیا (یونس ۱۰۴، المائدۃ ۸۷ دین داری اور نمازیں پڑھنے کی وجہ ے ہم اپنے باپ دادا کے طریقوں کو چھوڑنے والے نہیں (ہود ) کبھی انبیاء کو غریب اور چھوٹے (ان بدبختوں کی اصطلالح میں ۸۷ )۔ کبھی کہا گیا کہ دین کا ہمارے مالی عاشملا اور رسم و رواج ے کیا لینا دینا؟ (ہود ٢٤ المؤمنون: ،۸۷ )۔ کسی ی کے مخالفین نے ان کو بدنام کرنے کے لیے ان پر ایسے ایسے گھناؤنے الزاما لگائے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا ۲۷، ھود ۱۱۱ رذیل) طبقے کا نمائندہ قرار دیا گیا (الشعراء سکتا ہے۔ اب غور کریں کہ ان میں ے کونسا الزام، کونسا طعنہ اور کونسی گالی اسی ہے جو موجودہ نظام کا علمبردارطبقہ اپنے مخالفین اور خصوصا دنداار طبقے پر نہیں لگا تا ہے۔
اس نظام اور اس کے علمبرداروں کی چند اہم خصوصیا اور علاما حسب ذیل یں:


. اس نظام کی بنیاد عقلیت پسندی، مادہ پرستی، فاشزم، سیکولرزم اور جنسی بے راہ روی پر مبنی ہے۔ ۱ . اس نظام کے علمبردار فاشزم کو بطور تھیارر اتعمالل کرتے یں۔ ۲ . جھوٹ اتنی ڈھٹائی اور تسلسل کے ساتھ بولتے یں کہ لوگ اسی کو سچ مجھنے پہ مجبور ہوتے یں۔ ۳ . اپنے مخالفین کو قابو میں رکھنے کے لیے ہر قسم کے ظلم، جبر، تشدد، دھوکہ بازی، جھوٹ، فریب کو جائز سمجھتے یں۔ ۴ . اپنے مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے ہر قسم کے حربے اتعمالل کرتے یں اور اس کے لیے تمام بنیادی انسانی صفا اور اخلاقی اقدار کو پامال کرنے ے بھی ۵ نہیں ہچکچاتے یں۔ . جو بھی ان ے اختلاف کرے یا اپنے تہذیبی اقدار کے مطابق چلنے کی کوشش کرے تو یہ اے رجعت پسند، جاہل، اجڈ، پسماندہ، شد پسند، جھگڑالو، فسادی، ۶ منافق، دھوکہ باز، انتہا پسند،بنیاد پرست، دہشت گرد وغیرہ کے اابابا کا نشانہ بناتے یں اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے اس کا جینا حرام کرتے یں۔ لبرلزم، سیکولرزم، جدیدت (ماڈرنزم)، عالمگیرت (گلوبلائزیشن) اور انسانیت کے نعرے اس نظام کے معروف حربے یں، جن ، . ترقی پسندی، روشن خیالی ۷ کے ذریعے یہ ایک طرف اپنے آپ کو روادار، مہذب اور انسانیت کا خیرخواہ ثابت کرتے یں تو دوسری طرف اپنے مخالفین کو برے اابابا ے نوازنے میں کامیاب ہوتے یں۔ . اپنے خود ساختہ ظر یا ، اصطلاحا اور طرز عمل کو دوسروں پر مسلط کرنا ان کا عمومی رویہ ۸ ہوتا ہے۔ . معروف اصطلاحا کی خود ساختہ تشریح کو اپنا حق سمجھتے یں اس لیے اپنی تشریح کو لوگوں پر مسلط کرنے میں بڑی ڈھٹائی، ہٹ دھرمی اور جارحیت کا مظاہرہ 9 کرتے یں۔ . اپنے ظر یا اور طرز عمل کو انسانیت کا مشترکہ یراا ثابت کرنے کی کوشش کرتے یں۔ ۱۰


. غیر فطری اور انسانیت سوز اعمال و اقدار کو انسانی فطر کا تقاضہ قرار دے کر ان پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے یں۔ ۱۱ . آزادی کے نام پر ننگ انسانیت اقدار اور مذموم عزائم کی ترویج کرتے یں۔ ۱۲ . ذرائع ابلاغ کے ذریعے ذہنی انتشار، اخلاقی بگاڑ، مادہ پرستی، جنسی بے راہ روی، بدتمیزی، بت تہذیبی، بے مقصدت، غیر ذمہ دارانہ رویوں کو فروغ دیتے یں۔ ۱۳ . دینی، علاقائی، تہذیبی و ثقافتی روایا کی بیخ کنی اور اخلاقی اقدار کی پامالی ان کی اولین ترجیح ہے۔ ۱۴ . خاندانی نظام میں دراڑیں ڈالنا ۱۵ اور مقامی رسم و رواج کو توڑنا ان کے ؤثثر ترین حربے یں۔ . منافقت اور دوغلا پن کا الزام دوسروں پر لگاتے یں جبکہ دوغلا پن میں خود ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ ۱۶


دنگا فساد اور اپنے ، فاشزم کے اصولوں پر عمل پیرا یہ نظام جھوٹ، ہٹ دھرمی، دھوکہ دھی، فریب کاری، دوغلا پن، مکاری و عیاری، دھونس دھاندلی، ظلم و جبر مفادا کے حصول کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچانے یا ان کو بدنام کرنے کو اپنے لیے بالکل جائز سمجھتا ہے۔اس نظام اور اس ے متاثر طبقے کے دوغلاپن، ہٹ دھرمی اور فکری و تہذیبی جارحیت کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:


أ. ایک طرف رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کو اظہار رائے کی آزادی ے تعبیر کریں گے اور دنیا کی ایک چوتھائی آبادی (ڈیڑھ ارب ے زائد مسلمانوں ) جبکہ دوسری طرف ہولوکاسٹ ان کے ہاں ، کی دل آزاری کا دفاع اس لیے کریں گے کہ یہ مجرمانہ حرکت ان کے اصول یعنی آزادیٔ اظہار کے مطابق صحیح ہے تقدس کا درجہ رکھتا ہے اس لیے اس پر با کرنے یا اس کی حقیقت کے متعلق سوال اٹھانے کی قطعا اجاز نہیں کیونکہ اس کو ایک محدود طبقے یعنی یہودیوں کی دل آزاری ے تعبیر کیا جاتا ہے جن کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ے زیادہ نہیں یعنی مسلمانوں کی آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یہودی کی دل آزاری ناجائز ہے اور اس کے مقابلے میں سو مسلمانوں کے دینی جذبا کو ٹھیس پہنچانا ان کے آزادیٔ اظہار کے اصول کے مطابق بالکل درست ہے۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی اور دیگر تمام قسم کے جنسی راائم کا ارتکاب ، بچیوں ، کی عصمت دری ، ب. اس نظام پر چلنے والے عاشرتوں میں زنا (بالرضا و بالجبر)، لواطت معمول کی با ہے لیکن دیگر عاشرتوں میں کبھی کبھار ایسے واقعا وقوع پذیر ہو جائیں تو ان پر ایسا شور مچائیں گے کہ جیسے وہ انسانی عفت و عصمت کے ٹھیکیدار یں۔ پھر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایسے واقعا کو خوب اچھال کر ایک طرف عاشرتے میں برائی کی خوب تشہیر کریں گے تو دوسری طرف عدم تحفظ اور بے اطمنانی کے احساسا کو فروغ دیں گے اور تیسری طرف ملک و قوم کو بدنام کرنے کا پورا پورا اہتمام کریں گے۔ ج. کوئی ناخوشگوار واقعہ وقوع پذیر ہو تو اس دجالی نظام کے موثر ترین حربے کا کردار ادا کرنے والا میڈیا اور اس ے متاثر مقامی لبرلز اس موقع ے فائدہ اٹھاکر شور و غوال کرنے اور ملک و ملت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے لیکن اگر کوئی یہ کہنے کی جسار کرے کہ جناب راائم اور گھناؤنے واقعا تو ہر عاشرتے میں ہوتے یں لیکن کہیں پر بھی ان کو بنیاد بنا کر اپنے ملک اور اپنی قوم کو بدنام کرنے کی مہم تو نہیں چلائی جاتی ہے کیونکہ اس قسم کے حرکا الا ح کے بجائے خرابی کا سبب بنتے یں لہذا سنجیدگی کے ساتھ اور قانونی اور رتعی طریقے ے راائم کی روک تھام اور مجرموں کو سزا دینے کی کوشش کرنی چاہیے تو اس تنبیہ اور اس مشورے کو رام کی حمات اور مجرموں کو سزا ے بچانے کی کوشش قرار دے کر ان سنجیدہ اور مخلص ییوں کو چپ کرا نےکا بندوبست کریں گے۔ د. ال ٹ لڑکیوں کے ف یا پردے کے اسلامی احکام کے ، خود ایک رویا پسند عاشرتے میں وغیرہ کھیلنے پہ فخر کرکے اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی کوشش کریں گے منافی لباس کی نمائش پہ اصرار کریں گے جس میں جسمانی خدو خال کو نمایان کرنے اور یجانن یدا کرنے کا مکمل سامان موجود ہو، اسی طرح ٹک ٹاک کے نام پر سوشل میڈیا میں اودھم مچاکر علاقائی اقدار کی دھجیاں اڑانے کو ترقی کی علامت قرار دینے پہ اصرار کریں گے۔ لیکن ان حرکا پر اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے تنقید کرنے یا دبے الفاظ میں ان پر احتجاج کرنے پر ان کا رد عمل ایسا ہوتا ہےجیسے ان کی دم کسی کے پاؤں کے نیچے آیا ہو۔


ه. کسی روات پسند عاشرتے میں سڑکوں اور چوراہوں پر نیم عریان تصاویر پر مشتمل اشتہار آویزان کرنے کو اپنا جائز حق سمجھیں گے لیکن قانونی طریقوں کو بروئے کار لانے کے عد بھی ان وایات اور اخلاق سوز اشتہارا کو ٹاننے میں ناکامی کی صور میں اگر کوئی سر پھرا رد عمل کے طور ان کو خود ٹاننے کی کوشش کرے تو اس پر ایسا واویلا کیا جائے گا جیسے کسی کی ماں کی بے حرمتی ہوئی ہے۔ و. بچوں اور خواتین کے حقوق کے نام پر کبھی چھوٹے چھوٹے واقعا اور کبھی فرضی کہانیوں کی بنیاد پر دینی طبقے کو آڑے ہاتھوں لیں گے اور کئی کئی دنوں تک میڈیا ٹرائل کے ذریعے ان کا جینا حرام کریں گے لیکن جانبداری اور جھوٹ ثابت ہونے پر معذر کے دو بول ادا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھیں گے۔ ز. اس نظام میں راائم کی روک تھام کا کوئی عقولل نظام نہیں بلکہ رام وقوع پذیر ہونے کے عد سزا دینےکو ہی راائم کی روک تھا کا ذرعہ مجھا جاتا ہےاس لیے بظاہر قانون پسند اور مہذب ییوں کو جب بھی رام کا موقع ملتا ہے تو نہ ان کو قانون یاد رہتا ہے اور نہ تہذیب (اس کی سینکڑوں مثالیں دی جا کتی یں)۔ اس کے مقابلے میں جس نظام میں راائم کے روک تھام اور ان کو جڑ ے اکھاڑنے کے لیے انسانی فطر کے تقاضوں ے ہم آہنگ اور عاشرتتی حقائق کے ادراک پر مبنی موثر ترین طریقہ کار موجود ہے اس پر فرسودہ ہونے کی ی ب ھپ ی کسیں گے۔ عریان رہنے اور سرے عام جنسی عمل کرنے کو بنیادی انسانی حق قرار دیں گے لیکن پردے کے رتعی احکام بیان کرنے اور جنسی ، ح. خود فحش حرکا کرنے راائم کے مرتکب افراد کو رتیعت کے مطابق سزا دینے کے مطالبے کو رجعت پسندی پر محمول کریں۔ ط. خود جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر رفع حاجت کرنے کو تہذیب کی علامت سمجھیں گے لیکن طہار کے فطری مسائل بیان کرنے کو پسماندگی قرار دیں گے اور ان ے متاثر دسی لبرل یہ کہتے پھریں کہ لوگ چاند تک پہنچ ئے اور یہ جاہل لوگ استنجے کے مسائل بیان کرتے رہتے یں۔ ان ے کوئی پوچھے کہ چاند پر پہنچنے ے کیا پاک وصاف رہنے کی ضرور نہیں رہتی یا گندگی صفائی میں بدل جاتی ہے؟ ي. خود تو منہ دھونے کے بجائے گیلے تولیے ے پونچھنے کو عاد بنائیں گے اور مہینوں تک نہانے کی زحمت گوارا نہ کریں گے جس کی وجہ ے ان کی جسم ے بدبو کے بھبوکے اٹھنے لگیں تو اس کی شد کو کم کرنے کے لیے معطرا اور باڈی سپرے وغیرہ کے اتعمالل کرنے پہ مجبور ہوں گے لیکن ان لوگوں کو صفائی کا درس دیں گے جن کے ہاں دن میں پانچ مرتبہ منہ، ہاتھ بلکہ ساتھ ساتھ پاؤں بھی دھونا عباد کا حصہ ہے،اور جن کے ہاں نہانا پسندیدہ ہی نہیں بلکہ بعض اوقا لازمی (واجب) عمل ہے۔ (یہاں جسمانی صفائی کی مثال دی جا رہی ہے اس لیے ماحولیاتی صفائی کی با یہاں نہیں کی جا کتی ہے جس کا تعلق وسائل، علاقائی ضروریا اور دیگر عاشرتتی حقائق ے ہے)۔ ک. خود مادی مفادا کے لیے ریاستی دہشت گردی کرکے لکوںں کو باہہ کریں گے اور محض اپنی دہشت قائم کرنے کے لیے اٹم م گرا کر لاھوںں انسانوں کو لا کر راھ کردیں گے لیکن جب دہشت گردی کی تعریف پوچھیں تو ان کے نزدیک دہشت گرد وہی ہے جو ان ے نبرد آزما ہے چاہے وہ بے چارا مجبورا ہی اپنا دفاع کیوں نہ کر رہا ہو۔


رب کریم ہمیں موجودہ دجالی نظام زندگی کی خرابیوں ے محفوظ رکھے اور اپنے وضع کرد ہ نظام زندگی پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے جو نہ صرف انسانی فطر ے مطابقت رکھتا ہے بلکہ ہمارے اار ر و ظر یا میں حق کی طرف اور عمل وعاشملا میں بھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، نیز اس میں موجودہ زندگی کی الاح اور ابدی اخری زندگی میں فلاح کی ضمانت دی گئی ہے۔ آمین


شیئر کریں: