Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تہذیبوں میں تصادم کی دانستہ کوشش……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کرنے پر فرانس کے صدر میکرون پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور اس عمل کو عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس کے صدر نے اپنے اسلام دشمن رویے سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ میکرون کو دنیا کو مزید تقسیم کرنے کی بجائے معاملات کو سمجھداری سے حل کرنا چاہیے تھا۔ دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھے گی۔ توہین آمیز خاکوں کے ذریعے اسلام پر حملے لاعلمی کا نتیجہ ہیں جہالت پر مبنی بیانات، نفرت، اسلامو فوبیا اور انتہا پسندی کوفروغ دیں گے۔دفتر خارجہ نے بھی اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ چند ممالک میں غیر ذمہ دار عناصر کے ذریعے توہین آمیز حرکتوں کی پاکستان شدید مذمت کرتا ہے۔اسلام کو دہشتگردی پھیلانے کی وجہ قرار دینے سے عارضی سیاسی مفادات تو حاصل کئے جاسکتے ہیں مگر اس سے تہذیبوں میں ہم آہنگی کے امکانات متاثرہوں گے۔صدرڈاکٹر عارف علوی نے بھی یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم قرار دینے اور گستاخانہ خاکوں کی اجازت دینے جیسے مکروہ عمل کو منافقانہ قوانین قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر زور دیا ہے۔ صدرکا کہنا تھا کہ جب اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں ایسی مذموم کارروائیوں کی اجازت دی جائے تو انتہا پسند فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ فرانس کو اپنی پالیسی میں تنہائی اور انتہا پسندی کے جال میں پھنسنے کی بجائے اپنی پوری آبادی کو متحد کرنے کے لئے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کسی بھی مذہب کے پرامن پیروکاروں کو تنہا کرنے کی بجائے انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔فرانس میں توہین رسالت کا معاملہ ایک سکول سے شروع ہوا۔ پیرس کے نواحی علاقے میں ایک سکول ٹیچر نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے توہین آمیزخاکے کلاس روم میں دکھائے تو کلاس میں موجود ایک چیچن مسلمان طالب علم نے ٹیچر کی گردن پر چاقو سے حملہ کرکے اس کا سرتن سے جدا کردیا۔ توہین رسالت کے مرتکب ملغون ٹیچر کو اس کے انجام تک پہنچا کر طالب علم جب سکول سے باہر نکلا تو پولیس نے فائرنگ کرکے اسے شہید کردیا۔پیرس میں پیش آنے والا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، خود کو ترقی یافتہ، تہذیب یافتہ اور باشعور کہلانے والی یورپی اقوام اکثر ایسی نفرت انگیز حرکتیں کرتی رہتی ہیں توہین رسالت کے واقعات ڈنمارک، سوئیڈن، نیدر لینڈ، امریکہ اور برطانیہ میں بھی رونما ہوتے رہے ہیں وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسلامو فوبیا کو تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے اقوام عالم سے اس کے سد باب کا مطالبہ کیا تھا۔مذہب، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر یورپ صدیوں تک خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ عیسائی مذہب کے ماننے والے دو فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں یورپ کی کئی تہذیبیں اور کئی بادشاہتیں معدوم ہوگئیں ہزاروں لاکھوں لوگ عقیدے کی بنیاد پر تصادم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ایک سکول ٹیچر کی طرف سے توہین رسالت کو عالم اسلام نے ایک فرد کا ذاتی فعل قرار دیا تھا اور اس فعل کا ارتکاب کرنے والا اپنے انجام سے دوچار ہوگیا۔ حکومتی سطح پر ایسے واقعات کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنا بلاشبہ کم علمی، ناسمجھی اور جہالت کا ثبوت ہے۔یہ حقیقت ساری دنیا پر آشکار ہے کہ فرزندان توحید خاتم النبین سے محبت کو اپنی جان، مال، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے مقدم سمجھتے ہیں اور سرکار دوعالم کی توہین کسی بھی کلمہ گو سے برداشت نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مختلف یورپی ممالک میں توہین رسالت کا بار بارارتکاب کیا جارہا ہے تاکہ مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرکے انہیں دہشت گرد قرار دیا جاسکے۔ عالم اسلام نے اس موقع پر کسی بھی مصلحت کے تحت مجرمانہ خاموشی اختیار کی تو منکرین ختم نبوت کو مزید شہ مل سکتی ہے اور اس قسم کے واقعات میں اضافہ تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے اسلامی ممالک کی تنظیم اور تمام مسلم ممالک کو اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے فرانس کی طرح جو ممالک توہین رسالت کے واقعات کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کریں ان کا عالم اسلام مکمل بائیکاٹ کرے اور ان سے سفارتی تعلقات بھی منقطع کرے۔ پاکستان، ترکی، سعودی عرب، ملائشیا،ایران،بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کو اس حوالے سے عالم اسلام کی قیادت کرتے ہوئے دوٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے۔کیونکہ یہ ہمارے عقیدے کا دفاع ہی نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا بھی ہے۔


شیئر کریں: