Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک اچھے حکمران کے لیے زرین اُصول (نہج البلاغہ سے لیا گیا)….محمدآمین:

شیئر کریں:


امیرو المومنین علی ابن ابی طالبؑ نے بصرہ کے گورنر جناب عثمان ابن حنیف کو ایک خط لکھا جس میں انہیں نصیحت کی کہ ایک اسلامی ریاست میں ایک اعلی افسر کا طرز زندگی اور طریقہ حکمرانی کس طرح ہونی چاہیے۔اگر اس قسم کی اصولوں کو جدید دور جس میں ہر طرف مادیت کا بول بالا ہے، میں رائج کیا جائے تو صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کا وجود قیام میں اسکتی ہے۔ اس خط کا متن یہ کہ جب والی بصرہ کو وہاں کے لو گوں نے دعوت دی اور جناب عثمان ابن حنیف اس میں شریک ہوئے تو انہیں تحریر فرمایا۔


اے ابن حنیف مجھے اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے جوانوں میں سے ایک شخص نے تمہیں کھانے پر بلایا اور تم لپک کر پہنچ گئے کہ رنگا رنگ کے عمدہ عمدہ کھانے تمہارے لیے چن چن کر لائے جارہے تھے،اور بڑی بڑی پیالے تمہاری طرف بڑھائے جارہے تھے۔مجھے امید نہ تھی کہ تم ان لوگوں کی دعوت قبول کرو گے کہ جن کے یہاں سے فقیرو نادار دھتکارے گیے ہوں اور دولت مند مدعو ہوں،جو لقمے چپاتے ہو انہیں دیکھ لیا کرو اور جس کے معتلق شبہ بھی ہو اسے چھوڑ دیا کرو اور جس کے پاک و پاکیزہ طریق سے حاصل ہونے کا یقین ہو اس میں سے کھاوُ۔


تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہر مقتدی کا ایک پیشوا ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور جس کے نور علم سے کسب ضیاء کرتا ہے۔دیکھو تمہارے امام کی حالت تو ہے کہ اس نے دنیا کی سازو سامان میں سے دو پھٹی پرانی چادروں اور کھانے میں سے دو روٹیوں پر قناعت کر لیا ہے۔میں مانتا ہوں کہ تمہارے بس کی یہ بات نہیں ہے۔لیکن اتنا تو کرو کہ پرہیز گاری،سعی و کوشش،پاکدامنی اور سلامت روی میں میرا ساتھ دو،خدا کی قسم میں نے تمہارے دنیا سے سونا سمیٹ کر نہیں رکھا اور نہ اسکے مال و متاع میں سے انبار جمع کر رکھے ہیں اور نہ ان پرانے کپڑوں کے بدلے میں اور کوئی پرانا کپڑا میں نے مہیا کرکیاہے۔میری توجہ صرف اور صرف اس طرح ہے کہ میں تقوی الہی کے زریعے اپنے نفس کو بے قابو ہونے نہ دوں تاکہ اس دن کہ خوف حد سے بڑھ جائے گا وہ مطمئن رہے اور پھسلنے کی جہگوں پر مضبوطی سے جمارہے۔اور اگر میں چاہتا تو صاف ستھرے شہد،عمدہ گیہوں اور ریشم کے بنے ہوئے کپڑوں کے لیے زرائع مہیا کر سکتا تھا۔لیکن ایسا کہاں ہو سکتا ہے کہ خواہش مجھے مغلوب بنا لیں،اور حرص مجھے اچھے اچھے کھانوں کے چھن لینے کی دعوت دے جبکہ حجاز و یمامہ میں شاید ایسے لوگ ہوں کہ جنہیں ایک روٹی کے ملنے کی اس نہ ہو اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا کبھی کھانے کا موقع نصیب نہ ہوا ہو کیا میں شکم سیر ہو کر پڑا رہا کرو؟جبکہ میرے اردگرد بھوکے پیٹ اور پیاسے جگر تڑپتے ہوں۔


اے دنیا میرا پیچھے چھوڑ دے۔تیری بھاگ دوڑ تیرے کاندھے پر ہیں۔میں تیرے پنجوں سے نکل چکا ہوں تیرے پھندوں سے باہر ہو چکا ہوں،اور تیرے پھسلنے کی جہگوں میں بڑھنے سے قدم روک رکھے ہیں۔کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں تو نے کھیل تفریح کی باتوں سے چکمے دیے،کدھر ہیں وہ جماعتیں جنہیں تو نے اپنی ارائیشوں سے ورغلائے رکھا؟وہ قبرون میں جکڑے ہوئے اور خاک لحد میں دبکے پڑے ہوئے ہیں،اگر تو دیکھائی دینے والا مجسمہ اور سامنے انے والاڈھانچہ ہوتی تو بخدا میں تجھ پر اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں جاری کرتا کہ تو نے بندوں کو امیدیں دلادلا کر بہکایا،قوموں کو گڑھوں میں لا پھینکا،اور تاجدار کو تباہیوں کے حوالے کردیا اور سختیوں کے گھاٹ پر لا اتارا،جن پر اسکے بعد نہ سیراب ہونے کے لیے اترا جائے گا اور نہ سیراب ہوکر پلٹا جائے گا۔پناہ بخدا جو تیری پھسلن پر قدم رکھے گا وہ ضرور پھسلے گا جو تیری موجوں پر سوار ہوگا،وہ ضرور ڈوبے گا،اور جو تیری پھندوں سے بچ کر رہے گا وہ توفیق سے ہمکنار ہوگا۔تجھ سے دامن چھڑانے والا پرواہ نہیں کرے گا۔اگر چہ دنیا کی وسعتیں اس کے لیے تنگ ہو جائیں اس کے نزدیک دنیا ایک دن کے برابر ہے کہ جو ختم ہوا چاہتا ہے۔مجھ سے دور رہومیں تیرے قابو میں انے والا نہیں ہوں کہ تو مجھے ذلتوں میں جھونک دے اور نہ میں تیرے سامنے اپنی بھاگ ڈھیلی چھوڑنے والا ہوں کہ تو مجھے ہنکالے جائے،میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں ایسی قسم جس میں اللہ کی مشیت کے علاوہ کسی چیز کا استثنا ء نہیں کرتا کہ میں اپنی نفس کو ایسی سدھاروں گا کہ کھانے میں ایک روٹی کے ملنے پر خوش ہو جائے اور اسکے ساتھ صرف نمک پر قناعت کرلیااور اپنی انکھوں کا سوتا اس طرح خالی کردوں گا جس طرح وہ چشمہ ٓاب جس کا پانی تہہ نشین ہو چکا ہو ں۔کیا جس طرح بکریاں پیٹ بھر لینے کے بعد سینہ کے بل بیٹھ جاتی ہیں اور سیر ہوکر اپنے باڑے میں گھس جاتے ہیں،اسی طرح علی بھی اپنے پاس کا کھانے کھالے اور بس سو جائے،اس کی انکھیں بے نور ہو جائیں۔اگر وہ زندگی کے طویل سال گزارنے کے بعد کھلے ہوئے چوپاوُں اور چرنے والے جانواروں کی پیروی کریں۔


خوش نصیب اس شخص کے کہ جس نے اللہ کے فرائض کو پورا کیا،سختی اور مصیبت میں صبر کیے پڑا رہا،راتوں میں اپنی انکھوں کو بیدار رکھا اور جب نیند کا غلبہ ہوا تو ہاتھ کو تکیہ بناکر ان لوگوں کے ساتھ فرش خاک پر پڑا رہا کہ جن کی انکھیں خوف حشر سے بیدار،پہلو بچھونوں سے الگ اور ہونٹ یاد خدا میں زمزمہ سج رہتے ہیں،اور کثرت استغفار سے جن کے گناہ چھٹ گئے ہیں۔یہی اللہ کا گروہ ہے اور بیشک اللہ کا گروہ ہی کامران ہونے والا ہے۔اے ابن حنیف اللہ سے ڈرو اور اپنی ہی روٹیوں پر قناعت کرو،تاکہ جہنم کی اگ سے چھٹکارا پاسکوں۔


آمیروالمومینین کی اس خطاب میں جو چیزین صاف واضح ہیں یہ کہ معاشرے میں کسی صورت میں بھی بدعنوانی یعنی کرپشن کے لیے جگہ نہیں ہے اور حکمران کو ہمیشہ اپنی رعایا کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ حرام طریقے سے کمائی ہوئی دولت انسان کو اللہ سے دور رکھتا ہے اور تخلیق انسانیت کا عظیم مقصد بھی رایئگان رہ جا تا ہے ا ور انسان حرص کا پچاری بن کر رہ جاتا ہے جسے معاشرے میں بے راہ راوی اور انرکی پیدا ہوتی ہے اور اس طرح معاشرہ نا انصافی اور عدم استحکام کا شکار ہوتاہے۔کیونکہ جب تک ریاست کے ذمہ داران اپنی نفس کو رضا الہی کے لیے تیار نہیں رکھیں گے تو وہاں ہر طرف سے مادیت اور عیش و عشرت کے چشمے پھوٹ نکلیں گے اور یہیں سے ریاست کا زوال شروع ہوگا۔


شیئر کریں: