Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور؛محراب نبی قتل کیس میں اہم پیش رفت،ایف آئی آر درج، ملزمان گرفتار

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) اپر چترال کے گاؤں کھوژ سے تعلق رکھنے والے نوجوان قانون دان شکیل دورانی نے محراب نبی قتل کیس کو اس وقت انجام تک پنہچانے کا ذمہ اٹھایا تھا جب یہ دل ہلا دینے والی واقعہ رونما ہوا تھا۔اور چترال سے تعلق رکھنے والے طلبا ہزاروں کی تعداد میں پشاور پرس کلب کے سامنے محراب قتل کیس کے حوالے سے اپنے احتجاج ریکارڈ کراۓتھے مگر ملزمان اتنے طاقتور ثابت ہوۓ کہ اس کئیس کو پولیس رپورٹ کے مطابق خود کشی قرار دے دیا گیا۔اور وقت کیساتھ اس کئیس میں محراب کو انصاف ملنا مشکل ہوتا گیا۔ یاد رہے محراب نبی کا تعلق گاؤں کشم سے تھا وہ انہتائی قابل و لائق شخصیت تھے PMSکے امتحان پاس کر کے محراب نبی چھٹے نمبر پر اپنے کامیابی کے لیے پر امید تھا۔وہ روز معاش کے واسطے پشاور کے ایک مقامی سکول میں تدرس تدریس سے وابسطہ تھے۔

چترال سے تعلق رکھنے والے 18افراد کو اسی طرح کر کے قتل کیا گیا تھا مگر تاہم ابھی تک ان کیسز پر کوئی کاروائی عملی صورت میں نظر نہیں آئی اس کہانی کے پیھچے کئی راز پنہاں تھے یا طاقت کی زور پر دبایا گیا۔

مگر محراب قتل کئیس میں جان اس وقت دوبارہ نمودار ہوئی جب نوجوان وکیل شکیل دورانی نے محض انسانیت اور چترال کی عزت وناموس کی خاطر فی سبییلل اللہ اس کیئس کو اپنے ذمے لے لیا۔
پولیس نے محراب نبی کیئس کو طبی موت قرار دے کر اس کی فائل بند کرا کرادی تھی۔اور یوں مملکت خدادا میں ایک معصوم کو محض انصاف نہیں ملتا دکھائی دیا۔

چترال کے قابل فخر فرزند شکیل دورانی نے چار مہینہ گزرنے کے باوجود ملزمان کے خلاف FIR کرانے میں کامیاب ہوا اور اس قتل کے ملزمان کو انصاف کے سامنے آخر آنا پڑا اور جج کے سامنے رو برو ہو کر اپنے جرم اقرار کرنے پر مجبور ہوۓ۔

ملزمان نے جج کے سامنے اس دل ہلا دینے والی واقعے کی کہانی اس طرح بیان کی کہ

وہ محراب بنی کو اس لئے قتل کئے محراب نبی ان سے اس بات پر بحث کر رہا تھا کہ وہ واش روم کو زیر استعمال لانے کے بعد صاف نہیں کرتے ہیں انھیں محراب نبی کی یہ بات ناگوار گزری اور محض اسی بات پر قتل کیا گیا۔

اس قتل کے دو ملزمان جیل کے سلاخوں کے پیھچے ہیں اور ٹرائیل کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ان کے خلاف چارچ فریب ہوا ہے جبکہ سکول کے پرنسپل ضمانت پر رہا ہوا ہے۔

پشاور ؛محراب نبی قتل کیس میں اہم پیش رفت،ایف آئی آر درج، ملزمان گرفتار
advocate shakil durani

شیئر کریں: