Chitral Times

Nov 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی 48999.792 ملین روپے لاگت کے39 منصوبوں کی منظوری دیدی

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی(PDWP)نے صوبے کی ترقی کیلئے 48999.792ملین روپے لاگت کے39منصوبوں کی منظوری دیدی۔ یہ منظوری ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا شکیل قادر خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز منعقدہ پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں دی گئی۔ جس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی ترقی کیلئے مختلف شعبوں بشمول ابتدائی و ثانوی تعلیم، خوراک، داخلہ، ایکسائز، اطلاعات، پانی، صنعت، کثیر شعبہ جاتی ترقی، ریلیف و بحالی، سڑکوں، ٹرانسپورٹ، اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ کے شعبوں کی50سکیموں پر تفصیلی غور و خوض کے بعد 39سکیموں کو منظور ایک سکیم کو پی ڈی ڈبلیو پی نے کلیئر کرنے کے بعد منظوری کیلئے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کو بھجوادیا جبکہ 10منصوبوں کو غیر موزوں ڈیزائن سے موٗخر کر کے مزید اصلاح کیلئے متعلقہ محکموں کو بھیج دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اس موقع پر ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں خیبر پختونخوا میں ضرورت کی بنیاد پر150 پرائمری سکولوں کی مڈل سطح تک،70 پرائمری سکولوں کی مڈل سطح تکAIP) اور 100 مڈل سکولوں کی ہائی سطح تک درجہ بلندی، ضم شدہ اضلاع میں 100پرائمری سکولوں کا قیام، ضم شدہ اضلاع میں تباہ شدہ اور جزوی تباہ شدہ سکولوں کی دوبارہ تعمیر، خیبر پختونخوا میں ضرورت کی بنیاد پر 300گورنمنٹ سکولوں (100پرائمری،100مڈل اور100ہائی)کی دوبارہ تعمیر اور پشاور سکولز ڈویلپمنٹ پلان کے منصوبے شامل ہیں۔ اسی طرح خوراک کے شعبے میں ضم شدہ اضلاع میں اناج کے گوداموں کی تعمیر اورداخلہ کے شعبے میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بحالی مرکز صباوٗن مرکزII(178.48ملین)کی منظوریاں دی گئیں۔ پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں ایکسائز و ٹیکسیشن کے شعبے میں ملحقہ سہولتوں کیساتھ ماڈل وئیر ہاوٗس کے قیام کی منظوری شامل ہے۔جبکہ اطلاعات کے شعبے میں نئے ضم شدہ اضلاع میں AIP کیمنصوبوں کی تشہیر اور عوامی آگہی مہم کیلئے کمیونیکیشن اینڈ سوشل میڈیا سیل کے قیام کی منظوری دی گئی۔ پانی کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں ضلع نوشہرہ میں نکاسی نظام، چینلز/کینالز، تالاب، سڑکوں، پلوں /کلورٹس اور سیلاب سے بچاوٗ کیلئے پشتوں کی بہتری اور تعمیر اور خیبر پختونخوا میں 20عدد چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہے۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں منظورکردہ منصوبوں میں ضم شدہ اضلاع میں دو ٹرکنگ ٹرمینلز کے قیام اور تعمیراور خیبر پختونخوا میں آپکا بس ٹرمینل کے قیام اور تعمیر کیلئے فزیبلٹی سٹڈی اور جی ٹی روڈ پشاور ٹرانسپورٹ کمپلیکس کے قیام اور تعمیر کی منظوریاں شامل ہیں۔ اسی طرح شہری ترقی کے شعبے میں ڈیٹورروڈ رنگ روڈ حیات آباد پشاور میں بچت بازار کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ جبکہ کھیل و سیاحت کے شعبے میں خیبر پختونخوا میں کیمپنگ پوڈز سائٹس اور ریسٹ ہاوٗسز کی ترقی اور خیبر پختونخوا میں کھیلوں کی سہولیات کی مرمت/بحالی اور آلات کی فراہمی کی منظوری شامل ہے۔سڑکوں کے شعبے میں منظورکردہ منصوبوں میں درہ آدم خیل میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی بحالی اور تعمیر، ضم شدہ اضلاع میں پاک آرمی کے نصب کردہ سٹیل کے پلوں کی آر سی سی پری سڑیسڈ پلوں کیساتھ تبدیلی حکومت جاپان کی امداد سے صوبہ خیبر پختونخوا میں 112کلومیٹر سڑکوں کی بحالی اور بہتری، تورغر میں کئی سڑکوں کی تعمیر مختلف سڑکوں کے پراجیکٹس کے ڈیزائن اور فزیبلٹی سٹڈی، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی(PKHA)کے کاموں کی ڈیزائننگ اور فزیبلٹی سٹڈی کیلئے کنسلٹنٹ کی تقرری،ضلع سوات میں مینگورہ کانجو روڈ پر دو عدد فلائی اوور یعنی مینگورہ بائی پاس اور کانجو چوک ضلع سوات سالانہ ترقیاتی پروگرام ADPگریڈ انٹر سیکشن کانجو چوک پراور رابطہ سڑکوں کی توسیع اور بہتری، ضرورت کی بنیاد سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، ڈی آئی خان ڈویژن میں تکنیکی اور اقتصادی طور پر ممکن 35کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر، سی وی ایف جاپان کی امداد سے کاوٗنٹر ویلیو فنڈ کے تحت سیلاب سے متاثرہ دیہی سڑکوں کی بحالی، ضلع جنوبی وزیرستان میں مختلف نوعیت کی شنگل سڑکوں کی تعمیر جنوبی وزیرستان میں زیریں او ر بالا کانی گرام بابا سر تا سلاروغہ 4.5کلومیٹر رابطہ سڑکوں کی تعمیر جنوبی وزیرستان میں 5کلومیٹر بازئی تا تنگی بدینزئی سے لریمہ تک بمعہ رابطہ سڑک لدھاپٹ ولئی تک 5کلومیٹر سڑک کی تعمیر کی منظوریاں شامل ہے او ر صنعت کے شعبے میں ضم شدہ اضلاع میں مشینری ٹریننگ انسٹیٹیو ٹ کے قیام اور تعمیر کیلئے فزیبلٹی سٹڈی اور فنی/مالی معاونت کے ذریعے معاشی ترقی اور نوکریوں کی تخلیق کی منظوری شامل ہیں۔


شیئر کریں: