Chitral Times

Jan 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سائنس کی دنیا…..”الیکشن“ کی”وبا“ …..ڈاکٹر حمزہ گلگتی

شیئر کریں:

الیکشن صرف گلگت بلتستان میں نہیں ہورہے، اور یہ آج پہلی باربھی نہیں کہ ہم سب یہ دیکھ رہے ہیں۔۔جب سے آنکھ کھولے ہیں کسی نہ کسی شکل میں یہ روایت ہر چند سال بعد دیکھتے آرہے ہیں۔۔البتہ یہ ضرور ہے کہ اس سال کرونا کے سائے میں یہ سب ہونگے۔۔انتخابات کی یہ پریکٹس جمہوریت کے نام پر دنیا کے تقریباََ تمام خطوں میں رائج ہے۔ عالمی طاقتوں کے نام نہاد لیڈر امریکہ میں بھی حالیہ دنوں الیکشن کی گہما گہمی ہیں۔۔اور ہو بھی بڑے پیمانے پررہے ہیں۔۔کیونکہ وہاں کروڑوں لوگوں کے صدر کا انتخاب براہئ راست عمل میں آرہاہے۔یہ بھی ہم سب کے علم میں میڈیا کے ذریعے آچکا ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ کا مرکز بھی امریکہ بن چکاہے اسی لئے فہرست میں نام بھی پہلے ہے۔۔انتخابی سرگرمیاں وہاں عروج پر ہیں اور ساتھ کرونا جیسے متعدی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں بھی ہر ایک حتٰی المقدور اپنا حصہ ڈالنے کے لئے کوشاں ہے۔۔


ہم مشرق والوں اور مغرب والوں کے اجتماعی سوچوں، رویوں اورکردارو عمل میں بعدالمشرقین ہے۔وہاں کے لوگوں کے رویوں میں ایک مختلف پہلویوں ہے کہ وہ کسی بھی حکومتی ڈایریکشن کو سیریس لینے میں کبھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔۔ اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایت مفاد عامہ کی خاطر ہیں اور ان پر عمل کرنا ملکی قومی مفاد کیلئے بہت ضروری ہیں۔اگر انہیں فالو نہیں کیا جاتا تووہ قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں پھر کوئی رشتہ داری، دوستی، تعلق، پیسہ،لالچ، دھونس دھمکی کچھ کام نہیں آتا بلکہ قانون کیمطابق جو سلوک روا رکھا جانا چاہیئے اسی کا وہ مستحق ٹھہرتا ہے اسی کو وہ لوگ ”رول آف لا“ یعنی ”قانون کی حکمرانی“ کا نام دیکر بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔البتہ ہمارے یہاں حکمرانی کی سطح سے لیکر نیچے تک ہر جگہ گنگا الٹی بہتی ہے۔ یہاں تو حکومت کی رٹ کہیں نظر ہی نہیں آتی۔حکام بالا سر جوڑ کر کئی کئی بار بیٹھ چکے ہیں کہ کسی طرح مہنگائی کے جن پر قابو پایا جائے۔۔ مگر بے سود۔ یہاں تک کہ ایک سبزی فروش سے لیکر ڈیری والے تک ریٹ لسٹ کے بارے وفاقی صوبائی حکومتوں کی ہدایات کو جوتے کہ نوک پر رکھتے ہیں۔ کل ایک ڈیری والے کے پاس گیا۔۔ فرمایا دودھ لیٹر ایک سو بیس۔۔۔میں گویا ہوا حکومت نے تو ریٹ چھیانوے مقرر کی ہے۔۔؟

بولا چھڈ اے جا تیری حکومت۔۔۔لاحول ولا قوتہ۔۔۔یہ ہے قانون کی عملداری اور لوگوں کا رویہ۔۔۔اب ایسے میں کس طرح اس بات پر یقین کیاجائے کہ لوگ الیکشن کے دنوں میں حکومتی ہدایات پر عمل پیرا رہیں گے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا اجتماعی رویہ ہی”نہ ماننے“ کا ہے۔۔ساتھ ساتھ پچھلے ستر سالوں سے ہمارے ذہنوں میں یہ ڈالا گیاہے کہ یہاں حکومتی کسی بھی ادارے میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں بیٹھا جو میرٹ کی بنیاد پر کسی کے بھی معاملے کو دیکھے۔۔الا ماشاء اللہ۔۔۔اور یہی بات عوامی ذہنوں میں راسخ ہوئی ہے کہ سب ڈنڈی مارتے ہیں تو میں کیوں نہ ماروں؟ جوگاڈ کرنا، ڈنڈی مارنا، دو نمبری کرنا ہر ایک نے اپنا حق سمجھا ہوا ہے۔۔یہ ذاتی مالی مفادات کے حصول تک نہیں بلکہ یہی رویہ صحت کی اصولوں کے معاملے میں بھی ہمارے رویوں سے جھلکتا ہے۔۔سب جانتے ہیں کہ کرونا قاتل ہے، انتہا کامتعدی ہے، قاتل ہے، علاج نہیں،علامات سامنے نہیں آتے بعض اوقات۔۔ اور انسان خاموشی سے موت کے منہ میں چلا جاتاہے،یہ بھی معلوم کہ اس سے بچنے کی تدابیراختیار کرنے میں اپنے اور اپنے گھروالوں کا ہی بھلا ہے مگر باوجود ان سب کا علم ہونے کے ”مٹی پاؤ“۔۔۔یہی ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔۔کسے کوسا جائے، کس کے سامنے رویا جائے، دکھڑا کیسے کہاں سنایا جائے۔۔بھیڑ بکریوں کی طرح ہم ہانکے تو جاتے رہے ہیں۔۔یہاں تک کہ ہمارے ذہنوں اور فیصلوں پر بھی ایسے لوگ قابض ہیں کہ الامان والحفیظ۔۔اس پر گزارشات بعد میں۔۔فی الحال میرا کہنا ہے کہ اس اجتماعی رویے کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے؟۔

اس پر حکومتوں کو کوسا جاسکتاہے اور نہ ہی اعلیٰ عہدوں پر براجماں قانون لاگو کرنے والے صاحبان جبہ و دستار پر انگلی اٹھایا جاسکتاہے۔۔تباہی کی طرف گامزن کرنے والی اس اجتماعی رویے کو تبدیل کرنے میں نہ جانے کتنی اور نسلیں دنیا سدھار جائیں گی۔۔۔مانا کہ حکومتی رٹ نہیں، مہنگائی عروج پر ہے، بیروزگاری کا عفریت منہ کھولے سامنے ِاستادہ ہے، قانون کی حکمرانی کا سایہ ابھی کہیں دور ہے مگر اپنی صحت کی خاطر احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے سے ہمیں کس نے روکا ہے؟اس پر کمپرومائز نہ کرنے کیلئے دس روپے کا ایک ہلکا سا ماسک منہ پر باندھنا مشکل تو نہیں؟ مانا کہ حکومت مہنگائی قابو نہیں کرسکی، روزگار کی فراہمی میں ناکام رہی، قانون کی عملداری کہیں نظر نہیں آرہی مگر اب کیا ہم یہ بھی حکومت پر ڈال دے کہ لٹھ لیکر سب کے سامنے کھڑی رہے تاکہ ماسک سب پہنے۔۔۔

اس پر بھی توجہ کہ ضرورت ہے کہ یہ ماسک آنکھیں اور ٹھوڑی ڈھانپنے کیلئے یا دوسروں کو دیکھا کر ہاتھ میں لئے پھرنے کو نہیں بلکہ چہرے پر موجود ہوا اور خوراک کیلئے مہیا کئے گئے ان سوراخوں کے اوپر باندھنے کیلئے ہے۔۔انہیں جگہوں سے یہ قاتل وائرس جسم میں سرایت کرتی ہے اور ہم سمیت ہمارے عزیزوں کیلئے وبال جان بنتی ہے۔۔۔۔اگر ہم اسے سر پر باندھے یاٹھوڑی میں باندھ کے یہ سوچے کہ کرونا صاحبہ نہ پھیلے۔ایں خیال اَست و محال اَست و جنوں۔۔یاد رکھئیے،پلے باندھیے، ان احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لاکر ہم حکومت یا کسی حکومتی اہلکار پر احسان نہیں کرتے بلکہ یہ احسان ہم اپنے اور اپنے گھر والوں پر کرتے ہیں۔۔یہ میری ذمہ داری ہونی چاہیئے اور اس کا خیال بھی مجھے ہونا چاہیئے کہ کیسے اپنے عزیزوں اور ہر انسان کو اس وبا سے بچانے میں کردار ادا کیا جا سکتاہے۔ اس لئے گزارش ہے کہ الیکشن کے دنوں میں اس وبا سے بچنے کیلئے تمام ضروری اقدامات خود بروئے کار لائے۔۔حکومت کے کسی کارندے کو دیکھ کو ماسک ٹھوڑی سے منہ ناک کی طرف کھسکانے کا کو ئی فائدہ نہیں۔۔پہلے ہی اسے ٹھوڑی یا سر کے بجائے منہ ناک پر چڑھائے رکھے۔۔کیسے اس سے بچا جاسکتا ہے ہم سب پچھلے سات آٹھ مہینو ں سے سنتے آرہے ہیں سب جانتے ہیں۔۔جاننا سب کچھ نہیں، بلکہ یوں کہیئے، صرف جاننا کچھ نہیں۔۔ اصل کسی چیز کوجان کر اس پر عمل کرنا ہے۔ اس لئے جانتے ہوئے بھی عمل نہیں کروگے اور الیکشن کی ”وبا“ کے دوران گہما گہمی میں اس ”وبا“کو پھیلانے کا باعث بننے کی ٹھان ہی لی ہے تو اپنا نام بھی پہلے ہی سے احمقوں کی لسٹ میں لکھ رکھئیے۔


شیئر کریں: