Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹائیگر فورس کنونشن اور وزیر اعظم پاکستان کا خطاب…..محمد آمین

شیئر کریں:

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے اسلام آباد میں منعقدہ ٹائیگر فورس کنونشن میں خطاب نہایت اہمیت کا حامل تھا اور اگر تفصیل کے ساتھ دیکھا جائے تو اس خطاب کے تین اہم پہلو تھے،پہلا ٹائیگر فورس کے قیام کے مقاصد،دوسرا مہنگائی کے اسباب اور تیسرا پی ڈی ایم (Pakistan democratic movement) میں شامل اتحادی جماعتوں کے لئے واضح پیغام۔ٹائیگر فورس جس کا قیام مارچ کے مہینے میں ہوا تھا یہ پاکستان کے نوجوانوں پر مشتمل ایک رضاکارانہ جماعت ہے جس کا بنیادی مقصد بغیر کسی معاوضے کے لوگوں کی خدمت اور معاشرے کی تعمیر میں معاونت کرنا ہے اور ابھی تک دس لاکھ سے زیادہ نوجوان اس فورس کا ممبربن چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔اس کی ارتقاء شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے قیام سے ہوتا ہے جب جناب عمران خان نے اس فلاحی ادارے کے لیے چندہ اکھٹا کرنے کے غرض سے سکول اور کالج وغیرہ کے نوجوانوں پر مشتمل فورس تشکیل دیا تھا جنہوں نے بڑی محنت اور کامیابی سے اس عظیم مقصد کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالے اور اس طرح دنیا میں کینسر کا واحد ہسپتال وجود میں ایا جہان 75 فیصد مریضون کا ا علی میعار کے ساتھ مفت علاج کیا جاتا ہے۔وزیراعظم صاحب اپنی تقریر میں فورس کو بتایا کہ معاشرے کی تعمیر میں انہیں اپنا کردار پہلے سے زیادہ ادا کرنا ہے اور شجر کاری کے علاوہ پانی کی تحفظ اور صفائی میں بھی بڑھ چڑھ حصہ لینا ہوگا۔جہاں تک مہنگائی اور زخیرہ اندوزی کا تعلق ہے ان کا کام صرف معلومات پہنچانا ہے کیونکہ اس سلسلے میں پورٹل کا اغاز ہوچکاہے اور انہیں صاف ہدایت دی گئی کہ وہ ہر گز مداخلت نہ کریں۔کیونکہ مداخلت کی صورت میں دوسرے عناصر اسے نا جائز فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔
اپنی خطاب میں پرائم منسٹر نے مہنگائی پر بھی روشنی ڈالی کیونکہ پچھلے دور حکومت میں ایکسپورٹ کا تناسب 20 ارب ڈالر جبکہ امپورٹ کا تناسب 60 ارب ڈالر رہا جسکا منفی اثر ملکی بجٹ اور روپے کی قدر میں کمی کا موجب بنا اور موجودہ حکومت اس تناسب میں کمی لانے میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی منڈیوں میں پام آئل اور دالوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے گھی اور دال کی قیمتیں بڑھی۔بدقسمتی سے پچھلے دو سالوں سے ملک میں بارش اور سیلاب کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں خاصی کمی پیش ائی جو موجودہ ستائیس لاکھ ٹن ملکی ضرورت سے نیچے تھی اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے باہر سے گندم خریدا گیا۔او ر دوسری طرف حکومت کو بدنام کرنے کے غرض سے شوگر مافیا نے بڑے پیمانے پر چینی کی زخیرہ اندوزی کی جن کے خلاف ایکش لی جارہی ہے اور مثبت نتائیج سامنے ارہے ہیں۔اس کے ساتھ کرونو وائرس کا عالمی بحران بھی ہے جس نے سارے دنیا کی معشیت کو بری طرح متاثر کیا ہے جسے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان ان ممالک کے لسٹ میں شامل ہے جنہوں نے بڑی کامیابی سے کورونا اور لوکسٹ پر قابو پایا ہے اور اس حقیقت کا اعتراف خود عالمی ادارہ صحت نے بھی کیا ہے۔


جہاں تک وزیر اعظم پاکستان کی تقریر کا تیسرا حصہ تھا وہ پی ڈیم ایم کے رہنماوں کو کھرا جواب اور افواج پاکستان کے ساتھ یک جہتی تھا۔اپ نے سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ اج جمہوریت کا نعرہ لگانے والا کس طرح اقتدار حاصل کیا تھا کہ ان کو یاد نہیں کہ جنرل جیلانی کے ساتھ ان کا کیا مراسم تھے اور جنرل ضیاء کے گود میں پالا ہوا بندہ دوسروں کو جمہوری اقدار کا درس دے رہا ہے اور پاک فوج کے سربراہان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کر رہا ہے قوم یہ بھی جانتا ہے کہ 1992؁ء کے الیکشن میں جنرل دورانی کے ساتھ مل کر اس نے کیا جمہوری کردار نبھایا تھا،اور جسٹس قیوم کے ساتھ کیا روابط تھے؟ ریمنڈ بیکر کی کتاب،اوباما وار اور وے اف دی ورلڈ ایسے تصانیف ہیں جن میں ان کے پاکستان دشمنوں سے تعلقات اور کرپشن کے داستان رقم ہیں۔


اکثر پاکستانی قوم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب 1990سے لیکر 2018؁ء تک ان کے ایک دوسرے کے لیے الفاظ کا چناو اور احترام کیسے تھے ہم ابھی تک ڈی چوک میں لٹکانے اور مسٹر ٹین والے الفاظ نہیں بولے ہیں پھر حدیبیہ پیپر کیس کس کے دور حکومت میں کھو لا گیا تھا۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ ضیاء کے دور میں جب نواز شریف پنجاب کا وزیر اعلی تھا تو بی بی شہید کی عزت شکنی کے لیے اس نے کیا نہیں کیا تھا اور بھٹو کو پھانسی دیتے وقت شریف فیملی کتنا خوش تھا اج ان کی یہ دوستی دیکھ کر ان کی روحین بھی تڑپ اٹھی ہوں گے لیکن کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہیں اور گندی سیاست میں بھی یہی چیزیں جائز لگتے ہیں۔لیکں پی ڈیم ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے موقف میں بھی تضاد نظر اتے ہیں۔جے یو ائی اور نون لیگ ہر صورت میں حکومت گرانا چاہتے ہیں جس کے لیے چاہئے پاکستان کی جمہوریت کو جو قیمت بھی ادا کرنا پڑے۔ لیکن بلاول بھٹو پارلیمنٹ کو کسی صورت میں بھی نقصان پہنچانا نہیں چاہتا ہے کیونکہ ان کے بقول ٹوٹی پھوٹی جمہوریت امریت سے ہر لحاظ سے بہتر ہیں اور وہ انٹر تبدیلی کے حق میں ہے۔


اپنی خطاب میں جناب وزیر اعظم صاحب نے افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو سراہا جنہوں نے کووڈ 19اور کراچی سیلاب میں عوام کے شانہ بشانہ جو کام کیے وہ کسی سے چھپے نہیں ہے پھر ہر روز محازون پر ہمارے جوان وطن عزیز کے خاطر اپنی جانین قربان کر رہے ہیں جبکہ ایک اپوزیشن لیڈر لندن میں بیٹھ کر اسرئیل اور بھارت کی زبان بول رہا ہے۔جو ملک دشمنی کے مترادف ہے۔اپ نے عدلیہ اور نیب سے اپیل کی کہ کرپشن میں ملوث افراد کا کیس جلدی سے نمٹادے تاکہ غریب عوام کی لوٹی ہوئی پیسے واپس لایا جائے۔اور بڑے مگر مچھوں کو عام جیلوں میں ڈال دیا جائے گا تاکہ قانوں سب کے لیے یکساں ہو۔


وزیر اعظم کا ٹائیگر فورس کنونش سے تقریر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ ملک اس وقت بڑی نازک مرحلے سے گزر رہی ہے دشمن اپنی فوجین ہماری سر حد میں تیار رکھی ہے اور ان کے لیڈرز انڈیا میں بیٹھ کر پاکستان کو چار حصوں میں توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازیشن کر رہی ہے مذید نواز شریف کو جمہوریت کا ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی وباء ابھی تک تک ختم نہیں ہوا ہے۔ ایسی صورت میں ملک میں تمام سیاسی قوتون کو تحمل اور اتحاد کی اشد ضرورت ہے اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے، تاکہ سب مل کر دشمن کی ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں، لیکن بد قسمتی سے ہمارے اپوزیشن حکومت گرانے اور جمہوریت کو ڈی ریل کر نے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کا فائدہ صرف دشمن قوتوں کو ملتا ہے اور جمہوریت کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔


شیئر کریں: