Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اردو انگریزی تقسیم اور قومی یکجہتی……پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 پاکستان میں لسانی تنوع بہت زیادہ ہے۔ ملک میں تقریبا 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔1973کے آئین کے تحت اردو کو قومی زبان اور انگریزی کو سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ درحقیقت اردو زبان کے ساتھ روا رکھا جانے والے سوتیلے سلوک کی وجہ سے اردو کا درجہ محض آئین کے اوراق تک محدود ہے۔ 1973کے آئین میں یہ بات بھی درج ہے کہ انگریزی کو دیا جانے والا مقام اس وقت تک قائم رہے گا جب تک اردو اسکی جگہ نہ لے۔ انگریزی سے مغلوب طبقے نے آج تک اردوپر انگریزی کو مسلط کیا ہوا ہے۔ 1973کے آئین کے نفاذ کے تقریبا 47سال بعد بھی ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہم آج سے 47سال پہلے کھڑے تھے۔1973کے آئین میں علاقائی اور صوبائی زبانوں کے دائرہ کار کو بھی مبہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان کی تقریبا نصف 48% آبادی پنجابی بولتی ہے،12%سندھی،10%سرائیکی،8%پشتو یا پختو،3%بلوچی،2%ہندکو یا پوٹھواری اور 1%براہوی بولی جا تی ہے۔دوسری زبانوں کے بولنے والے بشمول انگریزی،برکشاسکی اور دیگر زبانوں کو ملا کر بھی بمشکل8% سے 10% بنتی ہے۔اس وقت پوری دنیا میں تقریبا 7,457زبانیں بولی جا تی ہیں جن میں سے 360ناپید ہو چکی ہیں۔

ملک میں موجود اردو انگریزی تقسیم قومی تقسیم کے ساتھ ساتھ قومی زبان کی شناخت اور اس کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال چکی ہے۔ جس تناسب سے انگریزی کے الفاظ اردو میں شامل ہو رہے ہیں اگر اس ثقافتی سیلاب کو نہ روکا گیا تو اردو کے ناپید ہو نے کا خطرہ ہے۔اردوملک کے طول و عرض میں رابطے کی زبان ہے اور اسے ہر علاقے اور صوبے میں بولا اور سمجھا جا تا ہے جبکہ انگریزی کو دفتری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ انگریزی کو اعلی تعلیمی اداروں میں فوقیت اور اہمیت دی جاتی ہے اور انگریزی بولنے والے اردو بولنے والوں کی نسبت بہتر اور بلند گردانے جا تے ہیں۔اس طرح اعلی تعلیمی اسناد اور اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے کے علاوہ اچھی اور اعلی نوکری حاصل کرنے کے لیے بھی انگریزی کی شرط موجود ہے۔پاکستان کی تعلیمی پالیسی میں انگریزی اور اردو کے ساتھ علاقائی زبانوں کی اہمیت کر بھی اجاگر کیا گیا ہے مگر محض کاغذی حد تک۔ لسانی اعتبار سے علاقائی زبانوں کو ثانوی حیثیت حاصل ہے اور عموما انہیں غیر رسمی تعلیم کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ تعلیمی لحاظ سے قوم کو تین طبقات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ انگریزی سکولوں سے فارغ ہونے والے، اردوسکولوں سے فارغ ہونے والے اور  مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ۔جب ہم اپنے نظام سے تین مختلف سوچ و فکرکے افراد کو تیار کر کے معاشرے کو حصہ بناتے ہیں تو پھر قومی یکجہتی تودرکنار قوم بھی نہیں ملے گی۔ تین مختلف نظاموں سے عملی زندگی میں شامل ہونے والے یہ افراد ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف صف آراہو جا تے ہیں۔

صوبائیت، عصبیت، مذہبی تفرکہ بازی، گروہ بندی اور دیگر عوامل درحقیقت ہمارے اپنے تیار کر دہ ہیں۔  ہم نے معاشرتی ٹکراو میں دشمنوں سے زیادہ حصہ ڈالاہوا ہے۔یہ تینوں طبقات ایک دوسرے کو اپنا حریف شمار کر تے ہیں۔اس لسانی اور تعلیمی تقسیم نے نہ صر ف قوم کو تقسیم اور انتشار میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ ان کو شناخت کے بحران میں ڈال دیا ہے۔عمومی طور پر زیادہ مہنگے ادارے کمیبرج طریقہ تعلیم کو اختیار کر تے ہں جسے عرف عام میں اے او لیول کا نام دیا جا تا ہے۔ جبکہ متوسط طبقے کے سکول کیمرج کی کاپی کرتے اور آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا دیتے۔ رہی بات سرکاری سکولوں کی تو وہ صوبائی سطح کے تعلیمی نظام کو اختیار کر تے ہیں اور کیا بننا یا بنانا ہے یہ اللہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اعلی تعلیمی اداروں میں زریعہ تدریس بھی انگریزی ہے تاہم اردو انگریزی کی ملاوٹ سے ایک نئی ایجاد کوعام استعمال کیا جا تا ہے۔زبانی سطح پر ہونے والی تقسیم نے قوم کو ہر سطح پر تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ اردو انگریزی کی تقسیم محض تعلیم تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرتی اور سماجی سطح پر بھی یہ قومی شناخت کو ختم کر کے اپنی ذاتی شناخت کو ترویج دیتے ہیں۔ لسانی تقسیم طبقاتی میں بدل چکی ہے اور اب یہ باضابطہ طور پر ایک شناخت بن چکی ہے۔ انگریزی سکولوں والے اپنے آپ کو زیادہ امیر، اعلی، اچھی عادات و اطوار والے اور کھلے ذہن کے مالک تصور کرتے ہیں جبکہ دوسرے دو طبقات اس کے حریف تصور کیے جاتے۔ مدارس سے فارغ ہونے والے طبقے کے بارے میں ایک مخصوص سوچ پروان چڑھائی جاتی ہے۔انگریزی کو لازمی مضمون کی حیثیت حاصل ہے اور گریجویشن کے بعد بھی داخلے اور انٹرویو کے لیے انگریزی کو ترجیح دی جا تی ہے۔انگریزی کے تسلط کی وجہ سے آج تک پاکستان پر چند مخصوص خاندان ہی حکومت کرتے آئے ہیں۔اعلی تعلیم کا حصول اور مقابلے کے امتحان میں شامل ہونے میں انگریزی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ملک میں اعلی ذہانت اور معیار کے طلبہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ انگریزی کی وجہ سے اپنی ذہانت اور قابلیت دونوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔ 

اردو انگریزی تقسیم نے قوم کو شناخت کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔زبان ایک طاقت ہے۔ جب ہم بولتے ہیں تو ہم بات چیت کے ساتھ شخصیت اور ذہن سازی بھی کرتے ہیں۔ یہی الفاظ ہمیں معاشرت کے طور طریقے سکھاتے ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم لسانی اعتبار سے قوم کو تقسیم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔کسی بھی طالبعلم کی تعلیمی مہارت یا تووراثتی ہوتی ہے یا تدریسی۔ درسگاہیں طلبہ کی شخصیت سازی میں کلیدی کردارادا کرتی ہیں۔انگریزی میں اچھی کارکردگی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کی شخصیت نکھرنے کے بجائے دب جاتی ہے اور ان کے اندر احساس کمتری جنم لیتا ہے۔ ہمیں ملک کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تعلیمی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ صوبائیت، لسانیت، طبقاتی تقسیم ملک کو مزید خطرات کی طرف دھکیل دیں گے۔ یکساں نظام تعلیم کی کوششوں کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ہی ہمارے ملک کی بقاء، سلامتی اور ترقی ممکن ہے۔ یکساں نظام تعلیم کے ساتھ ہمیں اپنے نظام تعلیم میں نئی جہتوں کو متعارف کروانا ہے تاکہ ہم جدید تقاضوں کے مطابق اپنی نئی نسل کو تیار کر سکیں۔ موجودہ نظام رٹے کا نظام ہے جو طلبہ کی صلاحیت کے لیے ذہر قاتل ہے۔یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم نظام تعلیم کی بہتری کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں کیونکہ قومیں تعلیم  اور تخلیق سے بنتی ہیں نہ کہ طوطے کی طرح چند سوالات رٹنے سے۔


شیئر کریں: