Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔داخلہ ٹیسٹ کا التوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

تازہ خبر یہ ہے کہ حکومت نے میڈیکل کا لجوں کے لئے 18اکتو بر کو ہونے والا داخلہ ٹیسٹ ملتوی کر دیا ہے آئندہ جب بھی تاریخ دی جائیگی پا کستان میڈیکل کمیشن ٹیسٹ لے لیگی ایٹا (ETEA) کا اس میں کوئی کردار یا عمل دخل نہیں ہو گا اب ہزاروں طلباء،طا لبات اور ا ن کے وا لدین داخلہ ٹیسٹ کی نئی تاریخ کا انتظار کرینگے اس التوا کی وجہ سے میڈیکل کا لجوں کے نظام تعلیم اور داخلہ وغیرہ پر بھی یقینا اثر پڑے گا ایف ایس سی کے نتا ئج جو ن کے مہینے میں آئے تھے اگر حکومت نتائج آنے سے پہلے یا اس کے فوراً بعد اعلا ن کرتی کہ داخلہ ٹیسٹ پرانے طریقہ کار کے تحت نہیں ہونگے تو نہ صرف طلبہ، طا لبات اور ان کے والدین کو سہو لت ہو تی بلکہ میڈیکل کا لجوں کے داخلہ سسٹم پر بھی اس کا اچھا اثر پڑ تا مگر ہمارے بڑوں نے قسم کھا ئی ہے کہ سہو لت اور آسا نی والا کوئی کام نہیں کر نا ہے سجا د حیدیلدرم کا انشائیہ یا د آتا ہے ”مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ“یلدرم زندہ ہو تے تو دوسرا انشائیہ لکھتے ”مجھے میرے مشیروں سے بچاؤ“ حکومت کے سامنے بڑے بڑے پہاڑ جیسے مسا ئل ہو تے ہیں خا رجہ تعلقات، داخلی سلا متی، معا شی استحکام سما جی تر قی کے اہداف پر حکومت کو ہر وقت توجہ دینی پڑتی ہے روز مرہ کے امتحا نات، داخلہ ٹیسٹ وغیرہ ایسے کام ہیں جو ایک بار متعلقہ اداروں کو سپرد کئے گئے ہیں وہ ادارے معمول کے مطا بق اپنا کام کر رہے ہیں.

ایٹا (ETEA) اپریل 2020سے ان ٹیسٹوں کی تیا ری میں لگی ہوئی ہے اکتو بر کو ٹیسٹ لینا تھا اور 3دنوں کے اندر نتیجہ دینا تھا آخری وقت میں ٹیسٹوں کا اختیار متعلقہ ادارے سے واپس لیکر کسی اور کو دے دیا گیا اب نئے سرے سے نئے ادارے کے تحت ٹیسٹوں کی تیاری ہو گی پھر ٹیسٹ ہونگے اس میں وقت اور وسائل کا ضیاع بھی ہے حکومت کی ساکھ، امیج اور سرکاری فیصلوں کے اعتبار کا مسئلہ بھی ہے کیا خبر دو ماہ بعد حکومت پھر کوئی نیا فیصلہ نہ کر لے کسی زما نے میں ایک باد شاہ ہواکرتا تھا اُس کے سفر کا کوئی تیار منصو بہ نہیں ہوتا تھا یعنی دربار یوں سے لیکر رعا یا تک کسی کو یہ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ عا لی جاہ کب،کہاں جائینگے باد شاہ اچانک باہر نکلتا گھوڑے پر سوار ہو کر روانہ ہوتا در باری ساتھ ہوتے گھوڑے کا رخ دیکھ کر اندازہ لگا تے کہ عالی جاہ کا رُخ مشرق کی طرف ہے یا کسی اور سمت جا نے والے ہیں اورکہاں تک جا نے والے ہیں الغرض روانگی میں افراتفری ہو تی پورا سفر افرا تفری میں گذر تا جہاں عالی جاہ سواری سے اتر تے وہاں بھی افرا تفری ہوتی اس لئے باد شاہ کو گمنا م راہوں کا مسافر کہا جا نے لگا اُس کے ارا دے گمنا م تھے اس کا ہر سفر گمنا م تھا دشمن ملک نے حملہ کیا تو باد شاہ نے پہلے ایک حکم دیا پھر اس کو بدل کر دوسرا حکم صادر کیا پھر اس کو بدل کر تیسرا فرمان جا ری کیا اس اثنا ء میں دشمن نے قلعے کا محا صرہ کیا باد شا ہ کو قید کر کے حکومت پر قبضہ کیا سلطنت کا نظم و نسق دشمن کے ہاتھ چلا گیا باد شاہ کے انجا م اور سلطنت کے زوال پر کسی کو تعجب اور افسوس نہیں ہوا .

شیخ سعدی ؒکہتے ہیں امور مملکت چلا نے کے لئے پیشگی تد بیر کی ضرورت ہوتی ہے دشمن سر پر آجائے تو کوئی تد بیر کا ر گر نہیں ہوتی امریکہ اور چین 100سالوں کے لئے منصو بہ سازی کر تے ہیں بر طانیہ، فرانس،جر منی اور جا پا ن میں 200سالوں کی منصو بہ سازی ہو تی ہے تر قی پذیر مما لک میں کم از کم ایک سال کی منصو بہ سازی کا دستور ہے کسی بھی کامیاب قوم کے خو شحا ل ملک میں وقت سرپر آتے ہی نیا منصو بہ سامنے لا نے کا دستور نہیں ہے خصو صاً تعلیمی نظام میں امتحا نا ت اور ٹیسٹوں کے لئے دو سال پہلے ایک نظام لاوقات دیا جا تا ہے فرسٹ ائیر میں داخل ہونے والے طلبہ کو معلوم ہوتا ہے کہ دو سال بعد داخلہ ٹیسٹ کون لے گا؟ ایسا نہیں ہوتا کہ داخلہ ٹیسٹ کی تاریخ میں چار دن باقی ہو ں اور حکومت اپنا ارادہ بدل دے ارادہ ہی نہیں ”ادارہ“ بھی بدل دے اردو میں اس کو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کہتے ہیں .

پا کستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کمیشن کے نام سے جو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا ئی گئی ہے اس کا پس منظر بہت دلچسپ ہے دو سال پہلے ایک پنچ ستاری ہو ٹل میں پرائیویٹ میڈیکل کا لج چلا نے والے دو کھرب پتی سر مایہ داروں کی ملا قات ایک اہم شخصیت سے طے ہوئی ملا قات میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں میڈیکل کی تعلیم پر سر کاری اختیار کو ختم کر کے پورا سسٹم نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا اس فیصلے کی روشنی میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کو توڑ دیا گیا سپیشلائزیشن میں نجی شعبے کو تر جیح دی گئی بڑے ہسپتالوں کے نظم ونسق میں نجی شعبے کو تر جیح دی گئی بلکہ بورڈ آف گورنرز کے ذریعے سر کار کے تمام اختیارات نجی شعبے کو دے دیے گئے پا کستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کمیشن کے نام سے بننے والا نیا دفتر بھی نجی شعبے کی با لادستی کا دفتر ہے اس کے 85فیصد اختیارات پرائیویٹ میڈیکل کا لج چلا نے والے کھرب پتی سر مایہ داروں کے پاس ہیں ایٹا (ETEA) کے اختیارات کو چھین لینا ان سر مایہ داروں کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے پشاور کا قدیم ترین طبی ادارہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پچھلے 6سالوں سے اکھا ڑہ بنا ہوا ہے خیبر ہسپتال بھی نجی شعبے کے نشانے پر ہے حیات اباد میڈیکل کمپلیکس کو بھی نجی بورڈ آف گورنر کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے اور یہ مستقبل کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں حکومت کو اپنے مشیروں کا از سر نو جا ئزہ لینا ہو گا طبی شعبہ سما جی تر قی کا اہم ترین شعبہ ہے اس پر سر کار کی مکمل اجا رہ داری نہ ہو تو عوام کو علا ج معا لجے کی سستی سہولت نہیں ملے گی ڈاکٹر وں کی تعلیم کا نظام پرائیویٹ کا لجوں کے حوالے کیا گیا تو متوسط اور غریب طبقے پر ظلم ہو گا داخلہ ٹیسٹ کا التواء اس کی ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا۔


شیئر کریں: