Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلیک میلنگ کیلئے صنف کی شرط…… محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


خبر آئی ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم سرکل نے ایک سادہ لوح لڑکے کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں ایک لڑکی کو گرفتار کرلیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے لڑکوں کو بلیک میل کرنے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔مبینہ بلیک میلنگ سے متاثرہ شخص نے ایف آئی اے میں شکایت درج کروائی تھی کہ ایک لڑکی اسے شادی نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہے جس کے بعد سائبر کرائم سرکل نے کارروائی کرتے ہوئے موبائل نمبروں کی مدد سے لڑکی کو گرفتار کرلیا۔ملزمہ کے موبائل فون سے بلیک میلنگ اورقابل اعتراض مواد شیئر کرنے کے شواہدبھی ملے ہیں۔ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کے مطابق خاتون سے شکایت کنندہ کی 2013 سے دوستی تھی۔ان کے درمیان بیش قیمت تحائف کے تبادلے بھی ہوتے رہے ہیں دوستی کی آڑ میں خاتون نے قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں۔ اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعد اس نے لڑکے کو شادی کی آفر کی۔ لڑکے کی جانب سے انکار پر ملزمہ نے تصاویراور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کردیں۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمہ پرکئی لڑکوں کو بلیک میل کرنے کے الزامات ہیں۔ اور اس کے موبائل سے بلیک میلنگ والا مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ ملزمہ سے کئی موبائل فون بھی ملے وہ ہر شکار کے لئے الگ فون استعمال کرتی تھی۔

ہمارے وزیراعظم نے موٹروے میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے پر اپنے ردعمل میں جنسی طور پر زیادتی اور ہراساں کرنے والوں کو آپریشن کے زریعے نامرد بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے اکلوتے منتخب رکن مولانا عبدالاکبر نے وزیراعظم کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنسی زیادتی میں مرد ہی نہیں، عورتیں بھی ملوث ہوتی ہیں۔زیادتی کامرتکب مرد ہو یا عورت، سب کو یکساں سزا ملنی چاہئے۔مولانا کی تقریر پر ایوان کے اندر اور باہر کافی تبصرے ہوئے۔اکثریت کی رائے تھی کہ جنسی زیادتی میں عورت کے ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن ایف آئی اے نے اپنی تازہ کاروائی میں ایسے ہی ایک مقدمہ میں ملوث خاتون کو گرفتار کرکے مولانا کے موقف پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔اکثر دوستوں کا کہنا ہے کہ عورت صنف نازک ہے اپنی اسی نزاکت اور جسمانی طور پر کمزوری کی وجہ سے وہ اغوا، تشدد، جنسی زیادتی، ماردھاڑاور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہوہی نہیں سکتی۔زیادہ سے زیادہ اندرون خانہ سازشیں کرسکتی ہے چغلیاں کرسکتی ہے یا اپنی ہم جنسوں کو زبانی کلامی ہراساں کرسکتی ہے۔

روایتی ساس بہو، نند بھاوج اور سوتیلی ماں جیسے کردار نبھاسکتی ہے۔کچھ لوگ عورت کے اس روپ کو معاشرے کے لئے ضروری گردانتے ہیں ان کا موقف ہے کہ ہماری فلمیں اور ڈرامے عورت کے ان کرداروں کے گرد گھومتی ہیں اگر عورت حقیقی زندگی میں یہ کردار چھوڑ دے توفلموں اور ڈراموں کی پروڈکشن بھی بند ہوجائے گی اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو ہزاروں افراد کا روزگار داؤ پر لگ جائے گا۔اور پھر اچھے لوگوں کی پہچان کے لئے معاشرے میں برے لوگوں کی موجودگی بھی ضروری ہوتی ہے ان کے تقابلی جائزے کے بعد ہی اچھوں کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔سارے لوگ اچھے ہوجائیں تو سماجی زندگی یکسانیت کا شکار ہوجائے گی اور انسان فطری طور پر یکسانیت سے سخت الرجک ہے۔ ہرچیز کا ایک ظاہری اور ایک پوشیدہ رخ ہوتا ہے۔ اس لئے ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی لڑکی پر فوری طور پر بلیک میلر ہونے کا ٹھپہ نہیں لگایاجاسکتا۔ہوسکتا ہے کہ اس کے لئے حالات ہی ایسے پیدا کئے گئے ہوں کہ انتہائی اقدام کے سوا اس کے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔اگر اس نے قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوزمردوں کے ساتھ بنوائی بھی ہوں تو اپنی جان کی آمان کے لئے وہ یہ حرکت کرنے پر مجبور ہوئی ہوگی۔آخر عورت بھی گوشت پوست سے بنی چیز ہوتی ہے اس کے بھی جذبات، احساسات ہوتے ہیں اسے بھی خواہشیں پالنے کا حق حاصل ہے اور اپنے خوابوں کو تعبیر کا جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ اگر ہم انسانی فطرت کی بات کریں تو صرف مردوں کی فطرت کو زیر بحث نہیں لایاجاسکتا۔عورتوں کی بھی اپنی منفردفطرت ہوتی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ فطرت نسوانی انسانی معاشرے پر ہر دور میں غالب رہی ہے۔


شیئر کریں: