Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ملکی معیشت میں آبی زراعت کا کردار…….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 ہماری آبی زراعت(فشریز) کا ہماری معیشت اور معاشرت دونوں میں اہم کردار ہے۔آبی زراعت ملکی جی ڈی پی میں 0.4% اضافہ کا زریعے ہے۔ سال 2015 میں سمندروں سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کا حجم 360,000 ٹن جبکہ مقامی سطح پر مچھلیوں کی پیداوار کا حجم151,000ٹن تھا۔ ماہی گیری سمندری ساحلوں کے ساتھ رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کابہت بڑا زریعہ ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق آبی زراعت 390,000 افراد کو بلواسطہ طور پر روزگار مہیا کر تی ہے اور اگر بلاواسطہ فراہم کردہ نوکریوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 900.00  سے 1,800,000تک پہنچ جاتی ہے۔

1990 کی دہائی سے ہماری آبی زراعت زوال کا شکار ہے۔ ہمارا ملک بہتر زرعی اور موسمیاتی ماحول  کے باوجود فشریز کی صنعت میں اپنے پڑوسی ممالک سے کہیں پیچھے ہے۔بنگلہ دیش اور انڈیا آبی زراعت (فشریز) کی تجارت میں دنیا کے پانچھ بڑے ممالک میں شامل ہیں جبکہ پاکستان 28ویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ 5سالوں کے دوران ہماری آبی زراعت کی سالانہ پیداوار 1.5% ہے جو انڈیا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ دنیا میں مچھلی خوراک کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔ دنیا بھر میں 1970کی دہائی میں مچھلی کی مانگ 5 ملین ٹن تھی جو 2014میں بڑھ کر 73ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے۔حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے FAOکی رپورٹس اور تحقیق سے یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان میں مچھلی کی پیداوار کو شدید خطراک لاحق ہیں۔ مچھلی پیداوار کی نسبت کہیں زیادہ پکڑی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے عرصہ دراز تک پاکستانی مچھلی کی درآمدات پر پابندی کی وجہ سے کافی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور ابھی بھی یہ پابندی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

مچھلی کی درآمدات جو تقریبا 350امریکی ڈالر ہوتی تھی حالیہ سالوں میں زوال کا شکار ہے۔ پاکستان کی آبی زراعت میں معیشت کو سہارا دینے اور درآمدات میں اضافے کے قوی امکانات موجود ہیں جو نہ صرف ریونیو میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع سے بے روزگاری میں کمی لانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ آبی زراعت کی طرف حکومتی توجہ اور اقدامات سے ہم ساحلی علاقوں کے لوگوں کو روزگار کے ساتھ خوراک میں غذائیت کی کمی کو بھی پور ا کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں پروٹین سے بھر پور مچھلی کی خوراک کی مانگ بڑھ رہی ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ماہی گیری کی صنعت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ماہی گیری کی صنعت کو بنگلہ دیش اور انڈیا کے پیداواری میزانیہ سے پرکھیں تو یہ صنعت پیداواری لحاظ سے ایک عشرے کے بعد تقریبا 560,000 سے 151,000ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان سے مچھلی درآمد کرنے والے تاجر عموما کم قیمت پر کاروبار کر تے ہیں کیونکہ ان کی زیادہ تر مچھلی کی تجارت تیار شدہ نہیں ہوتی۔یورپی یونین، جاپان اور امریکہ مچھلی کے کاروبار کی بڑی منڈیاں ہیں تاہم یہ تینوں منڈیاں ابھی ہماری مچھلی کی برآمدات کا 3% ہیں۔ ماہی گیری کی صنعت میں نئی جہتیں لانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سرٹیفیکیٹ اور میعار کے مطابق برآمدات کے زریعے ہم بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مچھلی کی مصنوعات کو مرکزی مقام دلا سکتے ہیں۔ اس سے معاشی فائدے کے ساتھ خوارک میں غذائیت کی کمی کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں غذائیت کی کمی کا بہت بڑا مسلہ موجود ہے۔ 50%عورتیں اور بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ 44% بچے غذائیت کی کمی کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ مچھلی غذائیت کی اس کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ماہی گیری کی صنعت کو سہار دینے کے لیے فشریز ڈولپمنٹ فنڈز کے قیام کے ساتھ جدید سائنسی طریقہ کار کو اختیار کرنے سے اس صنعت کو زوال سے نکالا جا سکتا ہے۔

ہم کل پیداور کا صرف 17% دوسرے ممالک کو برآمد کر کے سالانہ350 ملین امریکی ڈالر کا زرمبادلہ کماتے ہیں۔سال 2015 میں کل پیداوار میں سے 73% مچھلی سمندر سے پکڑی گئی جو ہماری کل پیداوار کے حساب سے 56% ہے۔ دریائے اندس ماہی گیری کے لیے سب سے اہم علاقہ گردانہ جا تا ہے۔ دریائے اندس سے مختلف اقسام کی مچھلیاں شکار کی جا تی ہیں جن میں شرمپ قابل ذکر ہے۔ دریائے اندس سے سالانہ تقریبا 22,000ٹن مچھلیاں پکڑی جا تی ہیں۔ اس وقت ملک میں 29,000مچھلیاں پکڑنے کے جہاز موجود ہیں جن میں سے 130,000 کل وقتی اور 75000جز وقتی کام کر تے ہیں۔ ان جہازوں کی دو تہائی تعداد سندھ میں جبکہ ایک تہائی تعداد بلوچستان میں موجود ہے۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 2008سے 2016 کے دوران مچھلیاں پکڑے کے سمندری جہازوں میں 3% جبکہ کشتیوں میں 4%اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مچھلیوں کی پیداور میں کمی واقع ہوئی ہے  گیلنڑ مچھلی میں 3%,ٹراولر میں 2.5% کمی واقع ہوئی ہے۔ مچھلیوں کی 14 اقسام میں سے 9 بلکل ختم ہو چکی ہیں جن میں سے دو اقسام میں بقاء کی علامات پائی جا تی ہیں۔1990کی دہائی میں ایشین ڈولپمنٹ بینک نے ماہی گیری کی صنعت کے لیے 15 ملین ڈلر کی امداد دی مگر اس کے باوجود بھی دریائے اندس کے ساحلی علاقوں کے لوگ قسم پرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں سویا بین کی مانگ نے اگرچہ مچھلی کی اہمیت کو متاثر کیا ہے تاہم ابھی بھی عالمی سطح پر مچھلی کی خوراک کی مانگ میں خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

عالمی سطح پر مچھلی کا استعمال اس کی پیداور کی نسبت 53%ہے۔ پہلے نمبر پر فروزن فش ہے جسکی مانگ  26% دوسرے نمبر پر کینڈ فش ہے جسکی مانگ 11% اور تیسرے نمبر پر کیورڈفش ہے جسکی مانگ 10% ہے۔پاکستان میں مچھلی کا محور و مرکز کراچی ہے۔ ماہی گیری کے شعبے سے وابسطہ کل183رجسڑڈ برآمدی تاجروں میں سے  175 کراچی میں رجسڑڈ ہیں۔ تقریبا104محض تاجر ہیں 2فش میل آپریٹرزہیں، 77صرف پروسیسنگ یا پیکنگ تک محدود ہیں۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں 29فریزنگ سٹورز ہیں جو زیادہ تر مچھلی انڈین مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان میں پکڑی جانے والی مچھلی میں سے 60% مچھلی تجارت کے بجائے کھانے کے طور پر استعمال ہوتی ہے جبکہ 18%مچھلی غیر سائنسی اور روائیتی طریقوں کی وجہ سے خراب ہو جا تی ہے۔ سال 2015-16کے دوران پاکستان نے 140,000ٹن مچھلی درآمد کی جس کی مالیت 359ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔ ہماری آبی زراعت میں 250ڈیمیرسل فش کی اقسام،15درمانے سائز کی پیلجیک،20بڑے سائزپیلجیک اور 50چھوٹی مچھلیوں کی اقسام شامل ہیں۔ صفائی کی صورتحال اور بین الاقوامی تجارت کی تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے ہماری ماہی گیری کی صنعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان میں مچھلی کی مقامی مارکیٹ اس کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔ ہماری آبادی کی اکثریت کبھی مچھلی نہیں کھاتی۔ ہمیں ماہی گیری کی صنعت کو زوال سے نکالنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی دونوں سطح پر اقدامات کرنے ہو ں گے تاکہ ڈگمگاتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔


شیئر کریں: