Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان…… سرکاری میری ہے اس سے کیالینا دینا……. محمد جاوید حیات

شیئر کریں:


اس ملک خداد کا شہری ہوں یہ میرے لئے اعزاز ہے یامیری قسمت میں تھی کہ اس سرزمین میں میری پیدائش ہوئی۔کیا کروں۔۔مجھے میرے ابو کی بے چینیاں اور امی جان کا افسردوہ چہرہ یاد ہے۔۔وہ”زندگی“سے لڑتے تھے۔ان کو ہمارا پیٹ پالنا تھا۔ان کو ہمیں بھوک افلاس اورننگے تڑنگے ہونے سے بچانا تھا۔ان کو محنت ومزدوری کرنی تھی۔ہمارے اردگرد زندگی پھیلی ہوئی تھی۔رنگیں تھی۔۔حسن بھی تھی۔۔ہمارے جیسے انسان ہم سے بہت ”خوبصورت“لگتے۔۔وہ قیمتی لباس میں ملبوس ہوتے،قیمتی جوتے پہنتے۔ان کی چہروں پر کوئی افسردگی نہ ہوتی۔ہم نے زندگی کا مفہوم سمجھا نہیں تھا۔۔ہمیں پتہ نہیں تھا کہ زندگی مسلسل تکراؤہے۔۔ٹسل ہے۔۔۔لڑائی ہے،ناٹک ہے۔میں اور میرے جیسے بہت سارے زندگی کو خوبصورت نہیں کہہ سکتے تھے۔۔

یہ ہمارے لئے سوالیہ نشان تھا۔۔میں اپنے جیسوں کی طرح اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔باپ بوڑھا ہوگیا تومیں محنت مزدوری پہ نکل گیا۔بس دن کی دیہاڑی پہ گزارا کرنے لگا۔آگے کیا کرتا۔سکول میں نویں جماعت میں ”مطالعہ پاکستان“ کی کتاب ہوا کرتی تھی۔۔اس میں ”سرکار“ کی بہت ساری باتیں ہواکرتی تھیں پاکستان کی تاریخ میں حکمرانوں کی فہرست اور انکی”سرکار“کی باتیں لکھی ہوئی تھیں۔مثلاًایوب خان نے مارشل لاء لگایا۔یحییٰ خان کے دور میں پاکستان دولخت ہوگیا۔بھٹو نے ملک کے لئے آئین بنایا۔۔ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دے دی۔بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا۔۔۔پرویز مشرف نے نواز شریف سے حکومت چھینی۔ہمیں مجبوراًیہ یاد کرنا پڑتا۔۔۔ورنہ استاد کی مار پڑتی۔۔ہمارا ایک نالائق اور شریر ساتھی تھا۔۔۔

اس کو سوال یاد نہ ہوتے۔اونچی آواز میں سوال رٹ لگاتے۔۔جوبن میں آتے لہک لہک کر پڑھتے۔۔مثلا۔۔۔ضیاء الحق نے۔۔۔بھٹو صاحب کو۔۔۔پھانسی۔۔۔دے دی۔۔۔ہم اس کو کوستے۔۔تمہارے منہ میں خاک۔۔۔ہمارا دماغ خراب کردیا۔۔۔وہ کبھی معصوم بن کر پوچھتے۔۔یار آخر یہ سب ہم سے یاد کرانے سے استاد کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔۔ا س میں ہمارے متعلق تو ایک جملہ بھی نہیں۔۔

آپ کے متعلق؟۔تمہارے متعلق کونسا جملہ ہوتا؟۔۔یایوں کہ ضیاء الحق نے غریب بچوں کے لئے جوتے خریدے۔۔پرویز مشرف نے غریبوں کے بچوں کو عیدی دی۔۔۔ہم قہقے لگاتے۔۔اس کو کم عقلی کاطعنہ دیتے۔۔لیکن وہ گہری سوچ میں ڈوب جاتا۔ایک دن کلاس روم میں وہ اپنی اداکاری کررہا تھا ہم قہقے لگارہے تھے۔۔کہ استاد صاحب ڈنڈا ہاتھ میں لئے کلاس میں داخل ہوئے۔۔پہلے ہمیں ایک ایک ڈنڈا مارا۔پھر پوچھاکلاس میں شور کس لئے تھا؟ہم نے ڈرتے ڈرتے سب کچھ بتادیا۔۔۔استاد یکدم افسردہ ہوگیا۔۔آپ کا چہرہ گویا بجھ سا گیا۔۔اس نے سرد آہ بھری۔۔ہمارے ساتھی کو کھڑا کیا۔۔کہا بیٹا تمہاری بات درست ہے۔۔اس کتاب میں ہمارے پڑھنے کو کچھ نہیں۔یاد کرنے کو کچھ نہیں۔۔۔سمجھنے کے لئے کچھ نہیں لیکن البتہ جنگوں کے جو ذکر ہیں اس میں ان گمنام سرفروشوں کی خاموش داستان ہے جنہوں نے اس سرزمین کو بچانے کے لئے اپنا لہو پیش کیا۔باقی کچھ نہیں بیٹا۔۔ہاں اس ملک کو لو ٹنے کی داستانیں ہیں۔اپنے لئے جائیداد بنانے کی کہانیاں ہیں۔عیاشیوں کی ناقابل یقین قصے ہیں۔اپنی کرسی بچانے اور دھوکہ و فریب کی ادا کاریاں ہیں۔۔۔اگر آپ بڑے ہوکر کتابیں پڑھنے کے قابل ہوجاؤگے تو تمہیں کتاب ملے گی”اور لائن کٹ گئی“تم کو پڑھنے کے لئے ”پارلیمنٹ سے بازار حسن تک“ملے گی۔۔کتابوں کی دکان کے کسی گوشے میں ”حمودالرحمن کمیشن“گردوغبار میں لپٹے ملے گی۔تم پڑھو گے”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“۔۔تم یہ اداکاریاں پڑھ پڑھ کر تھک جاؤگے۔پھر یہ زندگی تمہیں کچھ نہیں دے سکے گی۔تم اپنے آپ کوایک اور مخلوق سمجھوگے۔ادھر تم روٹی کی تلاش میں سرگردان ہوجاؤگے۔۔

تمہارے بچے بلک بلک کررونے لگیں گے۔ادھر سرکار روٹی کی قیمت بڑھائے گی۔۔اس کو احساس نہیں ہوگا کہ غریب کاکیا حال ہے تم اپنی فریاد کہیں نہیں پہنچاسکوگے۔تمہارا نمائندہ پارلیمنٹ ہاؤس میں موج میلے میں ہوگا۔۔باہر نکل کر شہر کی کشادہ سڑکوں پر فراٹے بھررہا ہوگا۔تم کچی پک ڈنڈی میں ٹیکسی کے ساتھ گہری کہائی میں گرجاؤگے۔تمہارے سرکار کی محلات قمقوں سے روشن ہونگے تم بجلی کا بل ادا نہ کرسکوگے اور کالی راتوں میں ٹامکوئیاں کھاتے رہوگے۔لیکن بیٹا تقریریں ہونگی۔۔الیکشن ہونگے وعدے وعیدہونگے۔۔تمہیں ووٹ دینے کے لئے گھسیٹ گھسیٹ کرلے جایا جائے گا۔تم اپنا حق رائے دہی استعمال کروگے

بس”کارسرکار“میں یہ تمہارا حصہ ہوگا۔۔باقی سرکار تمہیں بھول جائے گی۔۔گھنٹی بجی تو استاد پوری زندگی کا سبق پڑھا کر کلاس سے باہر تشریف لے گئے۔۔استاد کے چہرے کی افسردگی اب بھی مجھے یاد ہے۔۔اور اس کے تبصرے کے حرف حرف درست ثابت ہورہے ہیں۔۔دنیا میرے آگے ہے۔گذری سرکار کے بارے میں موجودہ سرکار جتنی بھی سچ بولے مخالفین ماننے سے انکار کریں گے۔۔نہ بے قاعدہ گیاں مانیں گے۔۔ نہ کرپشن مانیں گے۔۔نہ قومی خزانے میں بے قاعدہ گیاں مانیں گے۔اس طرح ہوتا آیا ہے۔۔پھر وہی سرکار ہوگی۔۔کہے گی۔۔ہم صحیح ہیں۔۔یہ غلط ہے۔ہم یہ سب سمجھنے سے قاصر ہونگے۔ہم صرف مہنگاہی اور بے روزگاری کا رونا روتے زندگی کے دن کاٹیں گے۔عمر گزرجائے گی۔۔پھر کوئی نالائق شاگرد یہی سبق پڑھتے ہوئے شکوہ کرے گا۔۔پھر کوئی مجبور استاد اپنا درد اس کو سنائے گا۔اور آخر میں نصیحت کرے گا۔۔کہ اگر سرکارمہنگائی اور بے روزگاری کم کرے توپھر”کارسرکار“میں مداخلت نہ کرنا۔۔۔اور نہ کھبی کہنا کہ سرکار بُری ہے۔۔۔۔


شیئر کریں: