Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بچوں کی تربیت میں ماحول کا بنیادی کردار……ڈاکٹرمحمدیونس خالد

شیئر کریں:

           بچوں کی تربیت میں ماحول کا کردار بنیادی ہوتا ہے، ماحول عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں اردگرد یا گردوپیش وغیرہ۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے چنانچہ فرمایا:  مثلھم کمثل الذی استوقد نارا فلمااضاء ت ماحولہ ذھب اللہ بنورھم(۰۱)”ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اندھیری رات میں آگ جلائی، جب آگ کی روشنی سے اس کا ماحول(اردگرد) روشن ہوگیا تو اللہ تعالی نے وہ روشنی سلب کرلی۔“

          بچے کی شاندار تربیت کے لئے بہترین ماحول انتہائی ناگزیر ہے، اگر ماحول سازگار نہ ہو اور  اس ماحول میں بھی کوئی شخص اعلی اقدار یا اچھی تربیت کے حصول کا خواہاں ہو تو اسکے لئے سخت کٹھن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔جب بچہ اپنے ماحول سے اچھا دیکھے گا، اچھا سنے گا، نیک جذبات اچھے خیالات اور اچھے کرداروں کا مشاہدہ کرے گاتو اچھا (input) اس بچے کے دل ودماغ میں داخل ہوگا۔ یہ ان پٹ اس کے دل ودماغ پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گااورپروسس ہوکر بہترین (out pt) کی شکل میں اس بچے کے اعضاءوجوارح سے اچھے رویوں اور مثبت کرداروں کی شکل میں سرزد ہوگا۔

          اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ بچے کی تربیت اور اس کی تشکیل کردار میں کون کون سے عناصراس کے ماحول میں سے حصہ لیتے ہیں اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کے ماحول میں سے پہلی درس گاہ ماں کی آغوش ہے۔بچے کوماں کے ساتھ زبردست لگاؤ ہوتا ہے کیونکہ وہ نو ماہ تک ماں کے پیٹ میں رہتا ہے اور پھر جس لمحے اس نے شعور کی آنکھ کھولی ہوتی ہے تو پہلا چہرہ اس کے سامنے ماں کا ہی آتا ہے۔ ماں ہی ہے جس نے رات دن اس کی تمام ضروریا ت کا خیال رکھا ہوتا ہے۔ چنانچہ بچہ ماں کے مزاج سے بہت زیادہ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اب بچہ کے لئے ماں کی آغوش پہلا مدرسہ ہے جہاں سے وہ اپنی تربیت کی شروعات کرتاہے۔ وہ ماں کی نشست وبرخاست، اس کی حرکات وسکنات اورا س کی عادات واطوار کو اپنائے بغیر نہیں رہ سکتا۔  ماں اگر پڑھی لکھی ہے ،سلیقہ مند ہے وہ خود تربیت یافتہ ہے تو ابتدائی مرحلے میں ماں کی یہ سب عادات بچے میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ماں کے بعد باپ کا نمبر آتا ہے جو بچے کے ابتدائی ماحول میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ چنانچہ باپ کے مزاج، اس کی نشست وبرخاست، اس کے انداز گفتگواس کے نفرت ومحبت کے رویوں سے بچہ سیکھنا شروع کرتا ہے۔ یوں اس بچے کا ماحول گھر کے اندر وسیع ہوکر دادا، دادی، بہن بھائی،چچا تایا، نانا،نانی اور دیگر گھرکے افراد تک پھیلتا ہے۔ پھر کچھ عرصے میں گھر سے باہر قریبی پڑوسیوں اور ان کے بچوں سے ہوتا ہوا اس کا ماحول محلے کے بچوں، خاندان کے افراد اور رشتہ داروں تک پہنچتا ہے۔ اس کے بعد بچہ مکتب میں اور پھر اسکول میں داخل ہوتا ہے جہاں اس ادارے کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین سے اس کا واسطہ پڑتا ہے یوں وہ بھی اس بچے کے ماحول میں داخل ہوکر اس کی تعلیم وتربیت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

          بچے کا پھیلتا ہو ا یہ ماحول خوش قسمتی سے اگراچھا رہا ہواس میں خیر کا پہلو غالب رہا ہووہاں کے لوگ پڑھے لکھے اور سلیقہ مند ہوں،  دینی اقدار کی پابندی کی جاتی ہو۔ وہاں کے لوگوں میں ایک دوسرے کے لئے  ہمدردی اورخیر خواہی پائی جاتی ہو۔  لوگ صحت مندلائف اسٹائل کے ساتھ صاف ستھرے ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہاں دوسروں کوعزت دی جاتی ہو پیار محبت اور نرمی کا رویہ روا رکھا جاتا ہو، لڑائی اور شور ہنگامہ سے دور رہتے ہو۔ اس ماحول کے لوگ ملنسار ہوں اور دیگر اچھی اقدار کے حامل ہوں۔ یقینا اس ماحول میں پرورش پانے والا بچہ بھی ان اقدار اور ان خصوصیات کا حامل ہوگا۔اس بچے کو ان خصوصیات کو حاصل کرنے میں زیادہ دشواری  پیش نہیں آئےگی۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ پچاس فیصد رویے انسان موروثی طور پر لے کر دنیا میں آتا ہے اور پچاس فیصد اپنے ماحول اور اردگرد سے حاصل کرتا ہے اس میں اس کی جبلتوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر وراثت اچھی ملی اور ماحول بھی آئیڈیل ہوا تو بچہ انشاء اللہ بہترین خصوصیات کا حامل ہوجائے گا ورنہ وہ اپنے خراب ماحول سے متاثر ہوکر خود اپنے لئے اور دنیا کیلئے مضربن سکتا ہے۔


شیئر کریں: