Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈاکٹر عادل خان کی شہادت: سوال تو اٹھے گا….خاطرات: امیرجان حقانی

شیئر کریں:

 ہفتہ 10اکتوبر 2020کو شام کے وقت نماز مغرب کے بعد جامعہ دارالعلوم کراچی سے واپسی پرشمع شاپنگ سینٹر شاہ فیصل کالونی کراچی میں موٹرسائیکل سواروں نے شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر محمدعادل خان کو شہید کردیا۔ان کے ساتھ ان کا بیٹا مولانا عمیر عادل بھی تھا جو محفوظ ہیں  اور معجزاتی طور پر بچ گئے ہیں جبکہ ڈرائیور مقصود بھی موقع پر ہی جان بحق ہوئے۔ڈاکٹر عادل خان انتہائی علمی اور تحقیقی شخصیت ہونے کیساتھ ایک بہت بڑے دینی ادارے جامعہ فاروقیہ فیز ٹو کے چانسلر اور شیخ الحدیث بھی تھے۔ڈاکٹر صاحب صحیح معنوں میں اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن اور تحریک کا درجہ رکھتے تھے۔میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا  پُرعزم انسان نہیں دیکھا۔ البتہ کتابوں میں ضرور پڑھا ہے۔

مولانا عادل خان 20اپریل 1958کو پیدا ہوئے۔ آپ شیخ المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خان کے فرزند ارجمند تھے۔اور صحیح معنوں استاد محترم مولانا سلیم اللہ خانؒ کے جانشین بھی تھے۔

1973   جامعہ فاروقیہ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔جامعہ فاروقیہ کے علاوہ دیگر کبار علماء سے قرآن اور حدیث کا علم حاصل کیا۔ 1976 میں جامعہ کراچی سے بی اے کیا ، 1978 میں ایم اے عربک اسلامک اسٹیڈیز کیا ، 1992 میں پی ایچ ڈی اسلامک کلچر میں کیا ۔ آج کل پوسٹ ڈاکٹریٹ کے طالب کے طور پر تیاریوں میں مصروف تھے ۔ ان کا تحقیق و تجسس اور علمی تدقیقات کا سلسلہ ہنوز جاری تھا۔

2010 سے 2018 تک انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائشیا میں کلیہ معارف الوحی و انسانی علوم میں پروفیسر بھی تعینات رہے ہیں ۔ آپ کی انہی خدمات کی بدولت ملائشیا میں2018 کو تحقیق  و ریسرچ  اور تصنیف پر ہایئر ایجوکیشن ملائشیا کی جانب سے فائیو اسٹار رینکنگ ایوارڈ دیا گیا تھا ۔حضرت شہید کی ملائشیا میں متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ملائشیا میں قیام و تدریس کے دوران  ملائشیا یونیورسٹی میں ایم اے کا کورس بھی مرتب کیا تھا۔آپ  دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک کا تبلیغی اور مشینری سفر کر چکے تھے۔پانچ سال نئی دنیا امریکا میں مقیم رہے اور جہاں ایک بڑا اسلامی سینٹر بھی قائم کیا تھا۔ امریکی مسلما ن بھی حضرت کی دینی خدمات کو قدر کا نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

 استاد محترم علما ایکشن کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔کراچی کے علماء کے روح رواں تھے۔کراچی کے تمام علماء کو ایک پلیٹ فارم میں جمع کرنا اور تحریک ناموس رسالت ﷺ اور دفاع ناموس صحابہ  پر مساجد کے آئمہ و خطباء اور مدارس و جامعات کو متحرک کرنا آپ کا عظیم کارنامہ تھا۔اسی طرح ملک بھر کے سیاسی و مذہبی قائدین اور دینی مدارس وجامعات کے ذمہ داروں کو ایک پلیٹ فارم پر بٹھانا اور انہیں افہام و تفہیم کی راہ دکھانا استاد محترم کا مشن خاص تھا۔مفتی منیب الرحمان صاحب سے مل کر اہل سنت کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے تھے۔کافی عرصے سے استاد جی نے اسلام مخالف عناصر اور دین دشمنوں کو للکارنا شروع کیا تھا۔مدارس وجامعات کی بندش ہو یا مساجد پر ابتلاء، اہل علم کا بہیمانہ قتل ہو یا اصحاب رسول ﷺ پر تبرا اور گستاخیاں، ان تمام معاملات میں استاد محترم نے کھل کر حکومت پر بھی تنقید کی اور متعلقہ لوگوں کو بھی للکارا۔اورملی وحدت کے لیے عوام و علماء کو یکجا بھی کیا۔وہ دو ٹوک بات کرنے کے قائل تھے۔لیت ولعل اور اور غیر ضروری مصالحت کے قائل نہیں تھے۔ انتہائی معتدل ہونے کیساتھ انتہائی صاف گو بھی تھے۔ضروریات دین کے متعلق منافقانہ اعتدال اور مداہنت کو کبھی پسند نہیں کرتے تھے اور نہ ہی فرقہ پرستی اورفرقہ وارانہ تشدد کی حمایت کی تھی نہ اچھا سمجھتے تھے۔ ہر چیز قانونی اور آئینی دائرے میں رہ کر انجام دینے کے نہ صرف قائل تھے بلکہ عملی اقدام بھی کرتے تھے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی کمیٹی کے سینئر رکن، وفاق المدارس کی مالیات، نصابی اور دستوری کمیٹی جیسی اہم کمیٹیوں کا حصہ بھی رہے ہیں ۔ ماہنامہ الفاروق  جو جامعہ فاروقیہ کا ترجمان رسالہ ہیں۔ یہ رسالہ عربی، اردو، انگریزی اور سندھی میں شائع ہوتا ہے۔ 1980 سے اب تک بدستور شائع ہو رہا ہے ۔مولانااس کی نگرانی فرمایا کرتے تھے۔2017 میںاستاد محترم حضرت مولانا شخ الحدیث سیلم اللہ خان انتقال ہوا تو آپ ملائشیا سے پاکستان شفٹ ہوئے اور ملکی سطح پر متحرک ہوئے ۔ملک بھر میں ان کے تحریکی فکر اور سلسلوں کو انتہائی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ہر جگہ اس کو جاری رکھنے کا عزم اہل علم کررہے ہیں۔

استاد محترم ڈاکٹر عادل خان شہید 1986 سے 2010 تک جامعہ فاروقیہ کراچی کے ناظم اعلی بھی رہے ہیں۔2009اور 2010ء میں مجھے بھی ان سے درس حدیث لینے کا شرف حاصل ہے۔انہی دو سالوں میں استادالمحدثین مولانا سلیم اللہ خان  سے بھی مشکواة اور بخاری کا معتدبہ حصہ پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔حضرت ڈاکٹر صاحب   کے علمی اور تبلیغی اسفاردنیا کے سینکڑوں خطوں میں ہوئے ہیں۔ دو دفعہ گلگت بھی تشریف لائے۔ 2018ء کو جامعہ نصرة الاسلام گلگت میںختم بخاری کا آخری درس حدیث دینے کے لیے تشریف لائے۔ پنتالیس منٹ کا مفصل اور مدلل درس دیا اوردرس حدیث سے پہلے جامعہ کی لائیبریری میں خصوصی طور پر شعبہ عربی کے حوالے سے اپنے تجربات ہم سے شیئر کیے اور ہمیں شعبہ عربی قائم کرنے کا مشورہ دے دیا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ استاد جی! فضلائے جامعہ فاروقیہ کی ایک مختصر نشست میرے گھر پر رکھیں گے۔حضرت نے فرمایا کیوں میاں؟ فاروقیہ والوں کی کیوں؟ اگر وقت ہوتا تو دیگرسب  مدارس کے نوجوان فضلاء سمیت ایک اہم نشست رکھتے۔استاد جی کے ساتھ اس سفر میں ہمارے استاد مولانا حبیب الرحمان ایبٹ آباد والے بھی تھے۔درس بخاری شریف کے فورا بعد میں اور مولانا حبیب اللہ دیداری نے استاد جی اور ان کی ٹیم کو باب گلگت سے رخصت کیا۔گلگت میں تین دن کا پروگرام تھا لیکن جہازوں کی پرواز مسلسل تعطل کا شکار ہونے کی وجہ سے بائی روڈ گلگت پہنچے اور پندرہ گھنٹے کے مختصر قیام کے بعد واپسی ہوئی تھی۔

استاد محترم جس  لیول کے مدرس اور خطیب تھے اسی ہی لیول کے محقق و مصنف بھی تھے۔ان کی کتاب ” اسلامی جمہوریہ پاکستان(جلد اول)” حال ہی میں منصہ شہود پر آئی ہے اور سپرہٹ ہوئی ہے۔ اس کتاب کے ورق ورق سے پاکستانیت ٹپک رہی ہے۔ا ستاد جی کی تصانیف میں اسلام اور تصور کائنات، اسلام اور اخلاقیات، اکیسویں صدی میں اسلام، المقالات المختار فی الکتاب والسنہ، اسلام اینڈ نالج، اسلام اور ایتھکس کے علاوہ ملائنشیا یونیورسٹی کے نصاب کی تین کتابوں کے بھی مولف ہیں جن میں نالج اینڈ سولائزیشن ان اسلام، ایتھک اینڈ فقہ فار ایوری باڈی، دی اسلامک ورڈ ویو شامل ہیں ۔

استاد جی بڑے بھائی تھے۔استاد محترم عبیداللہ خالد صاحب چھوٹے ہیں جبکہ محترم عبدالرحمان درمیانی بھائی ہیں۔ان کے علاوہ پسماندگان میں مفتی انس عادل، مفتی عمیر عادل، مولانا زبیر،مولانا حسن،ایک صاحبزادی اور بیوہ(ہماری اماں صاحبہ) ہیں۔حضرت کی طرح محترمہ بھی نیک اور صالح خاتون ہیں۔ اپنے بچوں کی جس طرح تربیت کی ہے بہت کم خواتین کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے۔استاد محترم عادل خان  کی اولادپر بڑے بڑوں کو رشک آتا ہے۔ میں خود سات سالہ تجربات کا گواہ ہوں۔نوجوانی میں ہی ان کی ملنساری، عاجزی،قابلیت اور للہیت کمال کی ہے۔اللہ نے علم نافع اور قدیم وجدید کے ساتھ عمل کا بڑا حصہ بھی ودیعت میں دے رکھا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ انہیں اپنے والد اور دادا جان کے صحیح معنوں میں جانشین بنائے۔

میری خوش قسمتی یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسی شخصیت کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب  کے سینکڑوں خطبات کے سوا درجہ سابعہ میں مشکوة شریف  اور دورہ حدیث میں بخاری شریف کا ایک حصہ ڈاکٹر صاحب  سے پڑھنے کا موقع ملا۔ وہ صحیح معنوں میں مدرس تھے۔ ان کا درس خطابت کی شان لیے ہوئے ہوتا تھا۔احادیث کے بیان میں کبھی کھبار پورا پورا خطیبانہ رنگ آجاتا۔ ان پر بھی وجد طاری ہوتا اور ہم طلبہ بھی وجد میں آجاتے اور کبھی کھبار فرطہ محبت میں کلاس میں ہی نعرہ بھی لگ جاتا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں زبان کی چاشنی سے نوازا تھا۔ اردو، انگریزی، عربی اور پشتو جس روانی سے بولتے تھے خال خال لوگوں کے حصے میں ایسی سلاست و روانی اور فصاحت و بلاغت آجاتی ہے۔حالات و واقعات بہت زیادہ ہیں تاہم کاغذ کے ان صفحات میں اتنی گنجائش کہاں کہ حضرت شہید کی خدمات کو سمویا جائے۔

حضرت  کی شہادت کی خبر سنتے ہی دماغ پھٹنے لگا۔ساری رات ٹہلتا رہا۔رات کے کسی پہر میرے دل و دماغ میں جو تاثرات وارد ہوئے وہ لکھ کر فورا سوشل میڈیا میں شیئر کیا۔ اہل علم و قلم اور دیندار طبقات کی طرف سے بہت پسند کیے گئے۔آپ سے بھی شیئر کرتا ہوں۔

”میرا سوال واضح طور پر ریاست سے ہے۔ریاستی اداروں سے ہے۔دھرتی ماں سے ہے۔میں آئین پاکستان کو مانتا بھی ہوں جانتا بھی ہوں، پڑھتا بھی ہوں اور پڑھاتا بھی ہوں۔آئین کی رو سے ایک شہری کی جان کا تحفظ ریاست اور اس کے اداروں کا فرض ہے۔آئین پاکستان کا بنیادی حقوق کا جدول میرے سامنے گھوم رہا ہے۔ اک اک شق مجھے للکار رہی ہے اور ریاست کا منہ چڑا رہی ہے۔ہر شق اپنی ناکامی اور بے بسی کا اظہار بھی کررہی ہے۔ارٹیکل 9 کی رو سے شہری کا حق ہے کہ وہ زندگی باعزت طریقے سے جیئے۔مگر یہاں تو زندگی چھین لی جاتی ہے۔

آئین کی ارٹیکل 24 کا، نافذ کرنا ریاست کا اولین فرض ہے۔

کیوں صاحب!

 کیا آپ اپنا فرض ادا کررہے ہیں؟

اگر ہاں تو پھر سربازار اتنے بڑے عالم دین، پی ایچ ڈی اسکالر اور خادم قوم وملت کا خون کیوں گرا؟

گولیوں کی برسات کرنے والے کیسے رفوچکر ہوگئے؟

تمہارے ہی سی سی ٹی وی فوٹیج سب بتارہے ہیں۔ سب دکھا رہے ہیں۔

کچھ ابہام رہتا ہی نہیں۔

کیا وہ پکڑے جائیں گے؟

کیفرکردار تک پہنچیں گئے؟

یقین تو بالکل بھی نہیں آرہا ہے۔

آپ کا کردار بھی کچھ اتنا اچھا نہیں کہ یقین کیا جائے۔

ماضی گواہ ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کے انہیں سڑکوں پر حضرت سے بھی بڑے ان ہی کے اساتذہ ومشائخ اور علما و شیوخ کا خون گرا مگر قاتل….اب تک معلوم ہی نہ ہوسکا۔پھر یقین کیسے کیا جائے؟

سوال تو اٹھے گا کہ قاتل کون ہے۔اگر قاتل معلوم نہیں تو پھر اس کی ذمہ داری ریاست کی ہی ہوتی ہے۔

قاتل کیوں نہیں پکڑا گیا؟

عدل کہاں گیا؟

آئین کی علمبرداری کیوں نہیں قائم کی گئی؟

قانون کی حکمرانی کا بھرم کیوں نہیں رکھا گیا؟

سیکورٹی کہاں تھی ؟

قومی سلامتی کے ادارے کیا کررہے ہیں؟                                             

کیا قانون نافذ کرنے والے کٹھ پتلیاں بن گئے ہیں؟

یا پھر پشت پناہ بنے ہوئے ہیں؟

بھارت کے کھاتے میں ڈال کر.،

دہشت گردی یا فرقہ واریت کا نام دے کر،

کیا ماقبل علماء کے قاتلوں کی طرح حضرت کے سفاک قاتلوں کی گرفتاری کا عمل بھی سردخانے میں ڈالا جائے گا؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ انہیں بچایا جائے گا؟

پھر ! کیا یہ خون رائیگاں جائے گا؟

 نہیں بالکل بھی نہیں۔

یہ ایک سفید ریش بوڑھے عالم دین کا خون ہے۔

 جس نے پاکستان کی پہلی عربی جامعہ کا آغاز کیا جہاں بیک وقت ہزاروں طلبہ مفت میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

کیا اس خون کے ہر قطرے سے پاکستانیت نہیں ٹپک رہی ہے؟

کیا اس خون سے اسلام کی خوشبو نہیں آرہی ہے؟

ڈاکٹر صاحب بوڑھے اور سفید ریش ضرور تھے مگر ان کا خون جوان تھا۔

اس خون کا کلر بالکل سرخ ہے۔

غور سے دیکھو!

خون جم گیا ہے۔

جما ہوا خون تمہیں آرام سے بیٹھنے نہیں دے گا۔

نیندیں اڑا کر رکھ دے گا اور چین حرام کردے گا۔

قبل اس کے، کہ دھرتی ماں خانہ جنگی کا شکار ہوجائے۔

اس ملک کے ہر محب وطن شہری کو اس جمے ہوئے خون کا حساب چاہیے۔

کیوں!

 جواب ملے گا؟

حساب ملے گا؟

انصاف ملے گا؟

قاتل بے نقاب ہوگا؟

کٹہرے پر کھڑا کیا جائے گا؟

اس خون کا ایک ایک قطرہ اس ریاست پر قرض ہے جس کو ہم نے ماں کا درجہ دے رکھا ہے۔

کیا ماں بچے کا خون جمتے دیکھ کر خاموش تماشائی بن بیٹھ سکتی ہے..؟

ڈاکٹر محمد عادل خان کوئی معمولی انسان نہیں تھے۔

وہ لاکھوں علما کا استاد تھا۔ملک بھر اور دنیابھر میں ان کی تلامذہ اور چاہنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

امریکہ سے ملائشیا تک اس نے درس و تدریس کا کام کیا۔دینی خدمات انجام دی۔

اس ملک کا بچہ بچہ ریاست اور اس کے اداروں سے سوال کرنے میں حق بجانب ہے۔

سوال تو اٹھے گا۔

 بار بار اٹھے گا۔

جواب

 انصاف کی شکل میں دینا آپ کا کام ہے۔

سوال کرنے والا ہر شہری ریاست کو ٹیکس دیتا ہے۔

ریاست کو جان سے عزیز مانتا ہے۔

ریاست کے لیے جان قربان کرتا ہے۔

یہ محب وطن شہری

 آئین کی علمبرداری چاہتا ہے۔

قانون کی حکمرانی کا علم بلند کررہا ہے۔

اور انصاف کا پرچار اس کا فرض اول ہے۔اور انصاف کا طلب بھی کررہا ہے۔

پھر

 ایک ایسا مطیع شہری سوال اٹھا سکتا ہے۔

سوال اٹھانے کا پورا پورا آئینی،قانونی،شرعی اوراخلاقی حق اسکو حاصل ہے۔

یہ حق ریاست نے بھی تسلیم کیا ہے۔اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔

پھر جان لو!

 اس خون کو رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔

 اگر رائیگاں جانے دیا تو خدا کی پھٹکار لازم ہے۔

جدید ٹیکالوجی کے اس دور میں قاتل کو پکڑنا کوئی مشکل نہیں۔

 آپ قاتل پکڑیں۔انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیجئے۔

یہ قوم آپ کا احسان مند رہے گی۔

 ورنا پھر آپ کی وفاداری پر سوال اٹھے گا۔

سندھ حکومت ماضی کی طرح سستی نہ کرے۔

وفاقی حکومت بھی اس معاملہ کو سنجیدہ لے۔

قومی سلامتی کے ادارے خاموش تماشائی نہ بنے۔

ملک کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اپنی ذمہ داری پر کمپرومائز نہ کیا جائے۔

گلگت بلتستان کے علماء کرام نے ڈاکٹر عادل خان رحمۃ اللہ کی شہادت پر فوری رد عمل دیتے ہوئے ایک ہنگامی میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل طے کیا گیا۔علماء کرام کی طرف سے پریس کانفرنس کے لیے میڈیا بریف لکھنے کی ذمہ داری مجھے دی گئی۔ میڈیا بریفنگ کے لیے جو اہم نکات پر اتفاق کیا گیا اور متفقہ طور پر دستخطوں کے ساتھ جاری کیاگیا اس کا متن حسب ذیل ہے۔ملاحظہ کیجئے:

”گلگت بلتستان کے ہیڈ کوارٹر گلگت   میں جملہ علماء کرام،دینی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں اوردینی مدارس و جامعات کے ذمہ داران کی ایک اہم میٹنگ مورخہ گیارہ اکتوبر ٢٠٢٠ کو حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے  محمدی  جامع مسجد کشروٹ گلگت میں فضلاء جامعہ فاروقیہ کراچی کی دعوت پر مولانا قاضی نثاراحمد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔اس میٹنگ میں مذکورہ اہم نکات پر اتفاق رائے کیا گیا۔

١۔گلگت بلتستان کے جملہ علماء کرام، دینی جماعتوں کے رہنماوں اورمدارس وجامعات کے ذمہ داران نے اس بہیمانہ اور سفاک واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانشین شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان  ، مولاناڈاکٹر محمد عادل خان کی شہادت کوالمناک قومی سانحہ قرار دیا اور کہا گیا کہ ناموس رسالت ۖ و دفاع ناموس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین  کے لیے غیرت مند قائد اور ملی وحدت کے لیے کوشاں شخصیت کا قتل پاکستان کے دینی تشخص پر حملہ ہے۔ علماء کرام نے سفاک قاتلوں کی گرفتاری تک سندھ حکومت اور موجودہ وفاقی حکومت کو مولانا کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔

٢۔گلگت بلتستان کے جملہ علماء کرام وفاقی حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور قومی سلامتی کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید کے سفاک قاتلوں کوفی الفور گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائے اور ان کے سرپرستوں کو طشت ازبام کرے۔

٣۔علماء کرام نے فیصلہ کیا کہ کل بروز پیر ١٢  اکتوبر کو کلمہ چوک کشروٹ میں احتجاجی اور مذمتی دھرنا دیا جائے گا۔ جمعہ المبارک تک شہر کی بڑی مساجد میں مولانا عادل خان شہید کا  ”مشن  ناموس رسالتﷺ و دفاع ناموس صحابہ”  کو جاری رکھنے کے لیے پروگرامات کا انعقاد کیا جائے گا۔ جمعہ المبارک  ١٦ اکتوبر کو پورے گلگت بلتستان کے علماء و عوام کا کلمہ چوک کشروٹ گلگت میں اہم احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ اور ساتھ ہی پورے گلگت بلتستان سے علماء و عوام کو جمع کرنے کے لیے وفود تشکیل دیے گئے۔ان پروگرامات میں عوام الناس کو شرکت کی پرزور دعوت دی جائے گی۔

٤۔ علماء کرام نے  اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اکابرین علماء کرام کی طرف سے ملنی والی ہدایات کی روشنی میں مولانا ڈاکٹر عادل خان کے مشن  اور تحریکی فکر کو گلگت بلتستان میں زندہ رکھنے کے لئے منظم عملی جدوجہد کی جائے گی۔

٥۔بہت جلد مولانا ڈاکٹر عادل خان کی قومی و ملی اور دینی و تعلیمی خدمات پر ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں مولانا شہید کے تلامذہ ، علماء کرام اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماء اپنے مقالات اور خطبات پیش کریں گے۔”

اس میٹنگ میں فضلاء جامعہ فاروقیہ نے خصوصی اور دیگر تمام علماء کرام نے عمومی شرکت کی۔حضرت  کی شہادت نے ہم سب کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ گلگت بلتستان کا ہر دیندار شخص غمزدہ ہے۔ دیگر مدارس و جامعات سے  حضرت شہید اور جامعہ فاروقیہ کا فیض گلگت بلتستان پر زیادہ ہے۔ گلگت بلتستان میں جامعہ کے ہزاروں فضلاء و طلبہ موجود ہیں۔حضرت کا نماز جنازہ جامعہ فاروقیہ فیز ٹو میں ادا کی گئی۔نماز جنازہ حضرت شہید کے برادر صغیر مولانا عبیداللہ خالد مدظلہ نے پڑھایا اور شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان نوراللہ مرقدہ  کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ حضرت رحمہ اللہ کی حقیقی اولاد سے تعزیت کی ہمت نہیں بن رہی ہے کیونکہ ہم خود بھی پسماندگان میں شامل ہیں۔ اللہ ہم سب کو صبر جمیل عطا کرے۔رب مغرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ آمین یا رب العالمین


شیئر کریں: