Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترالی نئی نسل اور چیلنجیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسر کریم بیگ

شیئر کریں:

چترال کی موجودہ آبادی ساڑھے چار لاکھ کے قریب ریکارڈ کی گئی ہے جس میں سے ہر سال سینکڑوں خاندان لواری کے پار شہری سہولیات کی تلاش میں ھجرت کر نے لگی ہے اور جو اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی مخمصے کا شکار ہیں کہ یہاں رہنا بہتر ہے یا اس ملک سے چلے جانا، یہ ان کی اپنی اپنی سوچ ہے کسی کی خانہ بدوشی پر ھمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے جو چلے گئے ہیں وہ اپنے نئے ما حول میں خود کو کیسے ایڈجسٹ کرلیتے ہیں یہ ان کا درد سر ہے،


جو آبادی چترال میں اپنی کسی نہ کسی مجبوری سے مستقل طور پر رہنا چاہتی ہے اس کے سامنے بھی چیلینجیز ہیں اور بہت ہیں۔ جغر افیائی حالات کا مقابلہ کرنا، سماجی مسائل کا حل سوچنا جو دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، نئے مسائل کو حل کرنا، اپنے خاندانی نظام کو متحد رکھنا وغیرہ۔ ان میں سے میری نظر میں اپنے بچوں کی تعلیم کی طرف بھر پور توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، بات در ا صل بچوں کی تعلیم یعنی سکول بھیجنے اور لا نے سے ذیادہ ان کی تربیت کا ہے۔ آ ج کے نئے شادی شدہ جوڑوں کے بچے تو پیدا فطری عمل سے ہوجاتے ہیں لیکن ان کے ماں باپ ان کی تربیت کے طریقوں سے ناواقف ہیں خود ان کا وقت ملازمت میں گذرتا ہے اور بچوں کی طرف صحیح معنوں میں توجہ نہیں دے پاتے اس لئے ہمارے سامنے بہت سے نا خوشگوار واقعات ہر سال گذرتے رہتے ہیں جن میں خود کشی کے واقعات قابل ذکر ہیں ۔؎

ٹی وی اور موبائل نے نئی نسل کے لئے ایک مصیبت برپا کر رکھی ہے، ان کا ذیادہ وقت ان کے ساتھ گذر جاتا ہے تعلیم اور ہوم ورک اکثر نا مکمل رہ جاتے ہیں گریڈ کمزور آتے ہیں ان کے ماں باپ کے سماجی رابطے زیادہ وسیع ہوگئے ہیں وہ گھنٹوں تک موبائل میں فضول گپ شپ لگاتے ہیں اور بچے ان کے سامنے یا پیچھے پڑھائی کی بجائے کھیلتے رہتے ہیں بچوں کی تربیت کو parenting کہا جاتا ہے اور یہ ہنر ہر جوان ماں باپ کو آتی نہیں، وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں اور یوں بچہ ہر مطالبہ منوانے کا طریقہ سیکھ لیتا ہے اور ماں باپ کو ڈرا دھمکا کر ان سے اپنی مرضی کی رقم بٹور لیتا ہے، سی پیک کی آمد آمد سے پہلے ہمیں اپنی نوجوان شادی شدہ جوڑوں کی ایسی تربیت کی ضرورت ہے جس میں ان کی ایک ماں اور باپ کی حیثیت سے کیا ز مہ د اریاں بنتی ہیں ان سے شناسائی ہوجائے اور وہ اس زمہ داری کے لئے زہنی طور پر تیار ہو سکیں۔

سی پیک ہمارے لئے روڈ کے ساتھ چینی ثقافت کی یلغار بھی لائے گا، پنجابی کالی ٹانگوں والی دامادوں کی جگہ چپٹی ناک والے چینی داماد آئیں گے، چینی زبان آئیگی، چینی گھریلو مال اور مصنوعی خوراک آئیگی،سانپ،چھپکلی، چوہے،مینڈک پکتے اور کھاتے دیکھے جاسکیں گے،بچے ولادت کے بعد دو ماہ تک آنکھیں نہیں کھول سکیں گی۔ آگے آپ خود سوچئے کہ کیا کچھ ہونے والا ہے۔چترالی ماں باپ کو اپنے بچوں پر بھر پور نظر رکھنی ہوگی اور ان کو قابو میں رکھنا آسان کام نہیں ہے، میں یہاں آپ کو اس بارے میں ایک واقعہ سناؤں کہ ایک خاص گاؤں میں ایک تعلیم یافتہ جوڑے کے دو بیٹے ہیں چھوٹا زیادہ لاڈلا ہے وہ ماں باپ کو کچھ اس طرح بلیک میل کرتا ہے کہ جب بھی اسے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اپنا ڈیمانڈ پیش کرتا ہے وہ بھی کم مقدار میں نہیں دس ہزارنقد ابھی ابھی نکالو، اگر مگر کی صورت میں بیٹا جا کر ایک بڑے اخروٹ کے درخت پر چڑھ کر انتہائی چوٹی پر جاکر نیچے چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہوکر چیختا ہے کہ دس ہزار روپے لاکر درخت کے نیچے رکھ دو ورنہ میں خود کو اس بلندی سے گرا دوں گا، خود کشی کروں گا۔ جلدی کرو، جلدی ورنہ کاوئنٹ ڈ اوئن شروع کرتا ہے اور ماں باپ مجبورا مطلوبہ رقم لاکر درخت کے نیچے رکھ دیتے ہیں تب وہ نیچے اتر کو پیسوں کو جیب میں ڈال کر مارکیٹ کا رخ کرتا ہے۔۔ یہ ہے ہماری آنے والی نسل: اس قسم کی نئی نسل کے لئے ماں باپ بن کے رہنا ہے اولاد پر گرفت مضبوط رکھنی ہے ورنہ نسل کا خدا حافظ ہے۔چترالی قوم کا یہ انجام ہونے والا ہے لہذا ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے


شیئر کریں: