Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بولنا مت غیرت کا مسلہ ہے۔ ……سید اولادالدین شاہ

شیئر کریں:

ویسے ہمارے اندر ایک چھپا ہوا پروفیسر بسا ہوا ہے جو کبھی نہ کبھی عیا ں ہو ہی جاتا ہے۔ تھوڑا سا موقع نہیں گنواتے کسی ٹائیٹ پاجامہ، کھلا چہرا ٹک ٹاک بناتی یا مسکراتی لڑکی دیکھ کر پھر نصیحتوں اور مشوروں کے انبار لگا دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم اپنے عادات کے ہاتھوں مجبور ہیں بلکہ اس کو فطرت کہوں تو غلط نہ ہوگا۔لیکن اس کے بر عکس کوئی بڑا معاملہ ہو مثلاً، انسانی حقوق، چائلڈ پروٹیکشن، قتل، ریپ وغیرہ کے معماملے ہمارا غیرت تیل لینے حقیقی دنیا سے جہاں ہم رہ رہے ہیں کوسوں دور چلی جاتی ہے۔ ہم جرم کو رشتے، قومیت یا مسلک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پھر ان جذبات کے ہاتھوں مجرم کو مجرم کہنے سے بھی کتراتے ہیں۔ بلکہ کچھ پڑھے لکھے حضرات اس مجرمانہ خاموشی کو کسی کی عیب پہ پردہ ڈالنا کہتے ہیں۔ ہمارے چترال میں حال ہی میں دو ایسے واقعات پیش آئے جو کم عمر بچیوں کی شادی سے متعلق تھے۔ان کیسز میں زیادہ تر دلالوں کا کردار ہوتا ہے۔ اگر ان دلالوں کو قانوں کے کٹہرے میں کھڑا کردیں شائد تھوڑی بہت قابو پا سکے۔ اور دوسرا لالچ کے ہاتھوں اپنے پھول جیسے بچیوں کو پنسٹھ سالہ باباؤں کے ساتھ بیاہ دیتے ہیں۔ اس فعل کو لالچ اور جہالت بولو غلط نہیں ہوگا۔ 


اس کے علاوہ حال ہی میں تین صاحبان ریپ کیس میں پکڑے گئے اور جس بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی عمر صرف نو سال ہے۔ اور یہ متاثرہ کسی غریب کا بچہ ہی ہو سکتا ہے۔ کوئی امیر کبیر اپنے معصوم بچے کو ان درندوں کے ہتھے نہیں چڑھا سکتا۔ اس کیس میں بھی ہم لوگوں نے شریفانہ خاموشی اختیار کی۔ کیونکہ ان صاحبان کا تعلق چترال سے ہے۔ اور ہم بہت شریف لوگ ہیں۔ ہم ان معاملات میں نہیں بولتے۔ اس کے بجائے اگر کوئی بچی ناچ رہی ہوتی، یا ٹائٹ پاجامہ پہن کر تصویر سامنے آچکی ہوتی پھر پورا چترال مذمت کر رہا ہوتا، اور اس کے ماں باپ بلکہ پورے خاندان کو کوس رہے ہوتے۔ شائد خودکشی پر بھی مجبور کر دیتے۔ یہ ایسا مسلہ ہے، آج اس نے پشاور میں یہ حرکت کی کل چترال میں بھی کر سکتا ہے۔ آج اگر پرائے کے ساتھ ہوا کل اپنے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ہم نے اس کیس میں خاموشی کو عزت کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ اور مجرم کو تو چسکا لگے گا۔  پھر کیا ہمارے لب ایسے ہی خاموش اور ہمارا قلم رکا رہے گا۔ یا منافقت کا میعار اپنائیں گے۔ دوسرے کیلئے خاموشی اپنے لئے بلند آواز، پھر اس آواز کو حق کی آواز کہیں گے۔ ایسے کیسز مجرم کی مکمل نشاندہی ضروری ہے تاکہ اردگرد کے دوسرے معصوم ان سے بچ سکے۔خیر اس کیس میں نے بھی اپنے شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی اور اخبار میں کوئی مضمون نہیں لکھا۔ باقی ہر کسی کی اپنی سوچ ہے۔ آپ کا میرے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔ 


شیئر کریں: