Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا حکومت اوروفاق کا پناہ گاہوں کو مذید فعال اورمنظم انداز میں چلانے پراتفاق

شیئر کریں:


پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق نے صوبے میں پناہ گاہوں کو مزید فعال اور منظم اندازمیں چلانے، ان کی استعداد کار کو بڑھانے اور ان میں فراہم کی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک مشترکہ پلان کے تحت ٹھوس اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقے کی زیادہ سے زیادہ تعداد اس سہولت سے مستفید ہو سکے۔


یہ فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ثانیہ نشتر کی ایک ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات میں صوبے میں احساس پروگرام کے تحت چلنے والے مختلف منصوبوں خصوصاً صوبے میں پہلے سے قائم پناہ گاہوں کے استعداد کارکو بڑھانے اور ضرورت کی بنیاد پر مزید پناہ گاہیں قائم کرنے سے متعلق مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبے میں پناہ گاہوں کی صورتحال، وہاں پر فراہم کی جانے والی سہولیات، مستقبل کے لائحہ عمل اور دیگر متعلقہ اُمور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود ہشام انعام اللہ اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز کے علاوہ احساس پروگرام اور محکمہ سماجی بہبود کے اعلیٰ حکام نے بھی بریفنگ میں شرکت کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں 31پناہ گاہیں قائم ہیں جن میں معاشرے کے کمزور اور نادار طبقوں کے لئے رات گزارنے ، کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کی مفت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے جن اضلاع میں پناہ گاہوں سے مستفید ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی وہاں پر پناہ گاہوں کی استعداد کار کو بڑھایا جائے گا اور اس سلسلے میں مجموعی طور پر صوبے کے 18پناہ گاہوں کو اپ گریڈ کیا جائیگا اور ان پناہ گاہوں میں مہمانوں کے پک اینڈڈراپ کے لئے گاڑیوں کی فراہمی کے علاوہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لئے انہیں شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹر زمیں مستقل پناہ گاہوں کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ایک منصوبہ شامل کر لیا گیا ہے ، جس کی مجموعی لاگت 93ملین روپے ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پناہ گاہوں کے قیام کو وزیراعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کی طرف ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور نادار طبقوں کا خیال رکھنا کسی بھی حکومت اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ پناہ گاہیں معاشرے کے ان کمزور اور نادار طبقوں کو رات قیام کرنے اور کھانے پینے کی مفت سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ان پناہ گاہوں کو مزید منظم انداز میں چلانے اور ان میں فراہم کی جانے والی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے پناہ گاہوں کے معاملات میں تعاون فراہم کرنے پر وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باہمی تعاون کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔


شیئر کریں: