Chitral Times

Feb 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زندگی صرف تنقید کا نام نہیں…..صہیب عمر

شیئر کریں:

زندگی کسی کی بھی آسان نہیں ہوتی زندگی کو آسان بنایا جاتا ہے پیار سے خلوص سے اپنائیت سے اور سب سے بڑھ کر برداشت سے کیونکہ زندگی ایک ایسا نغمہ ہے جس کی فرمائش کی جائے تو وہ دوبارہ نہیں چلتا۔اور زندگی کا ہمارے اوپر کتنا بڑا احسان ہے؟کہ ہم سے صرف ایک بار روٹھ جاتی ہے۔اور ذندگی ایک بنک کی مانند ہے جو کچھ اس میں جمع کرو گے وہی نکلوا سکو گے۔


زندگی میں جو چاہیں حاصل کرلیں، بس اتنا خیال رکھیں کہ آپکی منزل کا راستہ کبھی لوگوں کے دلوں کو توڑتا ہوا نہ گزرے۔تنقید کے لئے علم کا ہونا ضروری ہےجبکہ نکتہ چینی کے لئے جہالت ہی کافی ہے۔آجکل لوگوں کی جہالت اتنے حد تک بڑھ چکی ہے کہ مجھے لکھتے ہوئے خون کے آنسورونا آرہا ہے۔سوشل میڈیا پر ہم ہر کسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو انگلیاں دکھا رہے ہیں یا پھر کسی دوسرے انسان کا روپ بدل کر اپنی مر ضی سے جسم جانور کا اور سر کسی انسان کا لگا کر شرک کے مرتکب ہورہے ہیں۔اللہ پاک کا بنایا ہوا ہر شخص مکمل خوبصورت ہے بس خامی اور کمی ہمارے اخلاق اور رویوں میں ہے۔بیشک اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اعلی تعلیم یافتہ لوگ سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کے عظمتوں کو محفوظ ہونے نہیں دیتے۔وہ بلندی ہی فضول ہے جس پر انسان چڑھ کر انسانیت سے گر جائے۔کتنا آسان ہے دوسروں کے اوپر تنقید کرنا اور یہی لوگ اسی طرح دوسروں کو انگلی دکھا کر اپنے اخلاق کا تعارف کرواتے ہیں۔حق بات کیلئے کبھی بھی یکجا نہیں ہوتے بس بیٹھ کر تنقید کرتے ہیں۔
فیض احمد فیض فرماتے ہیں۔
چلتے ہیں دبے پاوں کوئ جاگ نہ جاے
غلامی کے اسیروں کی یہی خاص ادا ہے
ہوتی نہیں جو قوم حق بات پہ یکجا
اس قوم کا حاکم ہی بس ان کی سزا ہے۔
اگر ہمیں اپنے یا اپنے ملک کے حالات صحیح کرنا ہے تو ہمیں اپنے آپ سے شروع کرناہے۔اپنے آپ کا جائزہ لیں کہ میں کون ہوں؟کیا ہوں؟اور جو کچھ بھی کر رہا ہوں صحیح سمت پہ جارہا ہوں یا غلط راستے پہ چل کر اپنے پیاروں سے دور تو نہیں ہو رہا؟


خدارا!ہمیں ان کاموں سے باز آنا چاہئے کیونکہ انہی سیاسی مباحثوں کی وجہ سے رشتوں میں دراڑیں آجاتی ہیں۔اگر آپ صحیح ہیں تو کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔وقت خود آپکی گواہی دے گا۔تنقید کرنے والوں کو مطمئن کرنے کیلئے اگر آپ پانی پہ چل کر بھی دکھائیں گے تب بھی وہ یہی کہیں گے کہ تیرنا نہیں آتا اسلئے چل رہا ہے۔
دنیا میں اگر کوئ اپنی جگہ بنانی ہے سب سے خوبصورت جگہ کسی کی سوچ میں رہنا،کسی کی دعاوں میں رہنا،کسی کے دل میں رہنا ہے۔جب غلط فہمیوں کی سرد ہوائیں چلتی ہیں تو محبت کے دریچوں میں دسمبر ٹھہر جاتا ہے۔

تحریر:ایم۔فل سکالرصہیب عمر
ولد محمد ذکریا عمر۔
طالب علم:بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد


شیئر کریں: