Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپنے کام سے کام رکھیں…..(پہلا حصہّ)…..تحریر: سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

شیخ سعدیؒ اپنے ایک قصیدے میں فرماتے ہیں کہ

اے کہ دستت می رسد کارے بکن

پیش ازان کز تو نیاید ہیچ  کار

ترجمہ:اے انسان (اس وقت) جبکہ تیرا ہاتھ پہنچتا ہےتو کوئی کام کرلے اس سے پہلے کہ وقت تیرے پاس نہ رہےیعنی تجھ سے کچھ کام نہ ہوسکے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات بناکر اس دنیا میں اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کی دی ہوئی اس زندگی کو سستی اور کاہلی کے ساتھ نہ گزاری  جائے   بلکہ ہمت اور مضبوط حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ اُس کا مستقبل ہمیشہ آباد اور روشن ہوتا ہوا نظر آئے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جب بھی کوئی کام انجام دیا جائے تو کمزور اور پست خیالات کو دل سے نکال کر پھینک  دیا جائے اور مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ اپنے کام سے ایسا کام رکھیں کہ کامیابی تمہارے قدم چومے۔اس لئے دانا لوگوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں کوئی  بھی کام مشکل نہیں ہوتا جب اُس کو محبت اور لگن کے ساتھ انجام دیا جائے۔

محبت اور لگن دو ایسے خوبصورت  اصطلاحات ہیں جن پر عمل کرنے سے ہر انسان کسی بھی زمانہ جس میں وہ زندگی گزار رہا ہو کامیاب ہوسکتا ہے۔ناکام وہ لوگ ہونگے جن کے اندر محبت اور لگن نہیں ہوتے ۔البتہ وہ لوگ کامیاب ہوں گے جو پورے دل و دماغ کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں اور اپنے کام سے کام  رکھتے ہیں۔ آج زمانہ پہلے سے کہیں  زیادہ ترقی یافتہ ہے۔جس میں ہر انسان کو اپنے جوہر دکھانے اور اپنی قابیلیت کا لوہا منوانا پڑتا ہےتاکہ معاشرہ اس کو اُس کی صلاحیت کے مطابق عزت دے۔کیونکہ آج دنیا کی ہرچیز تبدیل ہوچکی ہے ۔نت نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جن کا ماضی میں تصوّر بھی  نہیں کیا جاسکتا تھا۔دانا انسان وہ ہے جو وقت کی تیز رفتار دنیا کو اپنی دور بین نگاہوں سے مشاہدہ کرسکے اور وقت اور حالات کے مطابق قدم  بڑھائیں ۔ اس لئے بزرگوں نے کہا ہے کہ زمانہ  بہ تو نہ سازد تو بہ زمانی بساز یعنی زمانہ تیرے مطابق نہیں چلتا بلکہ تجھے زمانے کے مطابق اپنا قدم بڑھانا ہوگا۔

آج کے اس صنعتی  علمی اور سائنسی انقلابات  کی دنیا میں وہی انسان جی سکے گا جو خود کو اِ س کے لئے تیار کریں کیونکہ آج کا انسا ن اکسویں صدی میں داخل ہوچکا ہے انسان کی برق رفتار ذہن نہ صرف زمین بلکہ آسمان کی وسعتوں کو بھی اپنی گرفت میں لے چکا ہے ۔ جس کے سامنے مسائلِ زندگی اپنی جگہ لیکن نئے نئے مواقع قدم قدم پر اُس کا  استقبال کررہے ہیں۔ہے کوئی ایسا  با صلاحیت انسان جو ان مقاقع سے فائدہ اُٹھائے؟  ظاہری بات ہے کہ جو اپنے کام سے کام رکھیں اور سخت محنت کریں وہی مستقبل کا بےتاج بادشاہ ہوگا باقی سست اور کاہل لوگ اُس کے غلام ہونگے۔

مختصر یہ کہ اس مادی دنیا میں اپنے آپ کو آباد رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی کام انجام دینا پڑتا ہے۔ اس لئے ہر کوئی اپنے مقصد کے حصول کے لئے تگ و دو کررہا ہے۔ فطرت کا بھی یہ ہی اصول اور قانون ہے کہ ہر چیز اپنے مدار کے اندر گردش کرکے اپنی ڈیوٹی سرانجام  دے۔فطرت کا یہ اُصول دنیا کو زبانِ حال سے یہ پیغام  دیتا ہےکہ زندگی اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے مسلسل کوشش کا نام ہے۔مثال کے طور پر اس کائنات کی  ہر  شئی اپنے مقررہ وقت پر کرنے کئے وضع کی گئی ہے جیسا کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے ۔ رات کو آسمان کے ستارے نکلتے ہیں اور دُنیا کو روشنی پہنچاتے ہیں۔ اگر وہ دن کے وقت نکلے تو اُنکی روشنی سورج کی بےانتہا روشنی کے سامنے ماند پڑجائیں گی۔ اس لئے آسمان کے ستاروں کا دن کے وقت نہ نکلنا اللہ کے قانون کے مطابق ایک کام ہے اور وہ فطرت کے قانون کے خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ  لالشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ  ٘ 36.40

ترجمہ:  نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے  اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے  اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں۔

اس آیہ کریمہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اس کائنات کے اندر  انسان  سمیت ہر مخلوق  کو ایک ذمہ داری دی گئی ہے  کہ وہ اپنے کام سے کام رکھ کر اپنی ذمہ داری  احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرے۔ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کاموں میں مداخلت کرے۔ شیخ سعدی ؒنے کیا خوب فرمایا ہے کہ

 ” اپنے حصےّ کا کام کئے بغیر دُعا پر بھروسہ کرنا حماقت ہے اور اپنی محنت پر بھروسہ کرکے دُعا سے گریز کرنا تکبرّہے ” ۔

اس لئے ہم سب کو فطرت کے اُصول کے مطابق اپنا کام خود کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ورنہ فطرت سے بغاوت کرنے کی صورت میں نتیجہ منفی آئے گا۔مولانا وحید الدین لکھتے ہیں کہ ” اس دنیا میں سب سے طاقت ور چیز فطرت ہے ۔کسی چیز کی جو فطرت اس کے خالق نے لکھ دی ہے اس سے ہٹنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ جمادات، نباتات، حیوانات، سب کے سب اپنی مقرر کی ہوئی فطرت پر چلتے ہیں، وہ کھبی اس سے نہیں ہٹتے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ انسان کے اندر بھی سب سے زیادہ طاقت ور چیز اس کی فطرت ہے۔ آپ اگر فطرت کا اسلوب اختیار کریں تو آپ سرکش ترین انسان کو بھی مسخر کرسکتے ہیں”۔     

     (کتابِ زندگی، مولانا وحید الدین خان ۔کراچی 2001، ص 109 )

دوسری اہم بات یہ کہ انسان کی یہ بُری عادت ہے کہ وہ  اپنے آپ کی اصلاح کرنے کے بجائے دوسروں کی  اصلاح کرنے میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔ افسوس کہ اُسے اپنے کردار کے اندر کوئی کمی نظر نہیں آتی بلکہ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے میں اپنی  ساری  توانائیاں صرف کرتا ہے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب فرمایا :

اتنی ہی دشوار اپنی عیب کی پہچان ہے

جس قدر کرنی ملامت اور کو آسان ہے

اوروں کے عیب ڈھونڈنے کا فن ہر کسی کو آتا ہے لیکن اپنی عیب کی پہچان بہت مشکل کام ہے۔ اچھا انسان وہ ہے جو اپنی عیب کو پہچان لے اور اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے۔ اسی میں اُس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔سوشل معاملات میں ایک دوسرے کی  کمی اور خامی کی نشاندہی کرنا  اصلاح کرنے کی حد تک تو صحیح ہے لیکن ہم حد سے تجاوز کرتے ہوئے انسانوں کے ایمان اور اعمال کو بھی ٹھیک کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔جس کی ہمیں قطعی طور پر اجازت  بھی نہیں ہےلیکن ہم  یہ    سمجھتے ہوئے بھی اپنے ایما ن کی نہیں دوسروں کے ایمان اور اُن کے اعمال کو ٹھیک کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔حالانکہ یہ کام اللہ پاک کا  ہے ۔وہ جس کو چاہے ایمان سے سرفراز کرے اور جس کو چاہے ایمان سے محروم رکھے۔

مستنصر حسین تارڑ نے ایک دفعہ یوں کہا تھا” لوگوں سے وہ سوال نہ کرو جو خدا نے انسانوں سے کرنا ہے مثلاََ تمہارا مذہب کیا  ہے؟ تم نے عبادت کی ؟ بلکہ لوگوں سے وہ سوال کرو جو انسان کو انسان سے کرنے چاہئے، مثلاََ کیا تمہیں کوئی پریشانی ہے؟ کیا تم بھوکے ہو؟ کیا تمہیں کچھ چاہئے؟”

یہ وہ سوالات ہیں جنہیں ہر ذی عقل انسان دوسرے انسانوں کی محتاجی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہئے جس سے کسی غریب کا مسئلہ  حل ہو؛  نہ کہ ہم اُس کے ایمان کو اپنی عقل کے ترازو میں تولنے کی کوشش کریں۔معلوم نہیں جس کی ہم اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہم سے بہتر انسان اور بہتر مذہبی ہو۔ ہم کو چاہئے کہ پہلے اپنا قبلہ درست کرلیں نہ کہ دوسروں کا۔ کیونکہ ہم سب کو ایک نہ ایک دن  خدا کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔ مالک یوم الدین وہی ہے سب کو اُسی کے پاس اپنے اعمال کے ساتھ جانا ہوگا ۔ کون صحیح کون غلط فیصلہ وہاں ہونا ہے۔        (جاری ہے)


شیئر کریں: