Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود…..لفظوں کا چناو….شہزادی کوثر

شیئر کریں:

فکرِانسانی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو مجتمع کر کے خوبصورتی کی تخلیق تبھی کرتی ہے جب فکر کو جذبے کی تھوڑی ٓانچ پہنچتی رہے چاہے وہ انسان کے اپنے دل کے نہاں خانوں سے پھوار بن کر نکلے یا کسی دوسرے فرد کی طرف سے الفاظ کا جامہ اوڑھ کر اس کے خوابیدہ ہنر کو متحرک کر دے ۔دیکھا جائے تو لفظ اور جذبے کا ایسا رشتہ ہے جو سوئی اور دھاگے کا ہوتا ہے دونوں ایک دوسرے کے بغیر بے کار اور بے مقصد لگتے ہیں ۔لفظ جذبے کے بغیر پھیکا اور جذبہ لفظ کے بنا ادھورا اور نا مکمل۔۔۔ انہی دونوں کے اتصال سے گھائل دلوں کی رفو گری ہونے پاتی ہے۔ یہاں الفاظ کا استعمال ان کے سلیقہَ استعمال پر منحصر ہے ،جو فکر اور جذبے کو تحرک دے کر فنی کارنا موں کو وجود میں لاتے ہیں ۔خوب سے خوب تر کی طرف بڑھنے کا اذن بھی لفظوں کے ذریعے ملتا ہے گویا لفظ اور جذبہ لازم وملزوم بن جائیں تو بڑے بڑے اور کٹھن مراحل بھی ٓاسانی سے طے ہو جاتے ہیں ۔اس کے برعکس دونوں میں ہم ٓاہنگی کا فقدان نا کامی کے اسباب پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔انسان کو ٓاگے برھنے کا حوصلہ لفظ ہی فراہم کرتا ہے ۔کسی بچے کے ہاتھ میں ترچھے پکڑے ہوئے پنسل اور اس سے کھینچی گئی ٹیڑھی لکیریں مستقبل کی طرف جانے والا ترقی کا راستہ تبہی بن سکتی ہیں جب کسی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اپنے اندر حوصلہ افزائی کی طاقت لے کر نکلیں۔ بچہ اپنی پہلی تخلیق کو کاغذ پر اتار کر جس فتح مندانہ انداز سے والدین کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہوتا ہےیہی وہ لمحہ ہے جو اس کے مستقبل کی طرف  اٹھنے والے قدمون کی سمت کا تعین کر دیتے ہیں۔ایسے میں اگر بڑوں کی طرف سے عدم توجہ یا نظر انداز کرنے والا رویہ سامنے ائے تو بچے کی دنیا شکست کا ڈھیر بن جاتی ہے ۔بعض دفعہ کسی فرد کی بہترین صلاحیتیں صرف اس وجہ سے دب جاتی ہیں کہ ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، کچھ لوگ بڑی نازک طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ذرا سی بات پر شکست تسلیم کرنے والے ۔۔۔۔ایسے افراد کو ہمت درکار ہوتی ہے جو وہ دوسروں کی زبان سے اپنے کام کی تعریف سن کر حاصل کر لیتے ہیں۔اگر انہیں دلاسہ ملے ان پر اعتماد کیا جائے تو وہ بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتے ہیں ۔کیونکہ جذبہ اور جوش ان کے اندر چھپا ہوتا ہے اسے سطح پر لانے اور کار ٓامد بنانے کے لیے تیشہِ فرہاد کی ضرورت ہوتی ہے جو تعریف کی شکل میں کارہاے نمایاں کی انجام دہی ممکن بناتا ہے۔ ذہن انسانی فکر اور اندیشوں کی ٓاماجگاہ ہے۔خیالات کبھی امید کی شکل میں دماغ میں گردش کرتے ہیں اور کبھی وہم اور وسوسے بن کر جینا حرام کرتے ہیں ان افکار کو قابل عمل بناتے ہوئے بعض دفعہ انسان تذبذب کا شکار ہوتا ہے کہ ان کو عملی طور پر اپنانامیرے حق میں درست ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں ،یقین اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت کسی نتیجے پر پہنچنے سے روکتی ہے ۔ایسے میں اگر دوسری جانب سے حوصلہ افزائی ملےتو انسان اعتماد کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے۔ بچوں کے معاملے میں خاص طور پر احتیاط کی ضرورت ہے کہ ان کی کسی بھی طرح سے حوصلہ شکنی نہ ہو کیونکہ ایسا کرنا ان میں احساس،محرومی پیدا کرتا ہے جس سے بچوں میں بہت سے نفسیاتی مسائل پروان چڑھتے ہیں خاص کر والدین سے بیزاری اور نفرت دلوں میں ڈیرے ڈال دیتی ہے۔ پھر وہ رشتہ کمزور دھاگے کی مانند ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے الفاظ کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے ۔غلط لفظ روح کو چھلنی کردیتے ہیں اور اس کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے ۔  لفظوں کا درست استعمال بہت بڑا فن ہے جس کے زریعے پتھروں کو موم کیا جا سکتا ہے ۔ایسے لفظ چننے کی ضرورت ہے جو تخریب کی جگہ تعمیر ۔اور ارفع افکار و اعمال کو پنپنے کا موقع فراہم کریں ۔بعض دفعہ کند ذہن بچہ اپنی کمزور ذہنی صلاحیت کی وجہ سے پریشانی کا سبب بن جاتا ہے وہ دوسرے بچوں کی نسبت جلد سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے اگر غصہ یا سختی سے سکھانے کی کوشش کی جائے تو انتہائی سنگین نتائج سامنے ٓاتے ہیں ۔ایسے بچے زیادہ ہمدردی اعتماد کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔انہیں اس بات کا احساس ہر گز نہیں دینا چاہیےکہ تم دوسرے بچوں سے کمتر ہو بلکہ اڈیسن کی ماں جیسی دانائی اپنانے کی ضرورت ہے جو مستقبل کے کئی سائنس دان پیدا کرنے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ایک سنگ تراش اور مجسمہ ساز کا ہاتھ جس نفاست اور باریکی سے سخت چٹانوں اور کھردرے پتھروں کو اپنے اوزاروں کی ضرب سے دلفریب صورت دیتا ہے بالکل اسی طرح والدین اپنے لفظوں کے مناسب چناواور ترتیب سے نونہالوں کے اندر چھپے ہوئے خزانوں کو دریافت کر سکتے ہیں جو یقینا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔۔


شیئر کریں: