Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جمہوری پارٹیوں کے غیر جمہوری رویے …..محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف رکھنے والے لیگی رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل شرقپوری اپنی پارٹی رکنیت کی معطلی پر ردعمل میں کہا ہے کہ اپنے حلقے کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے وزیراعلیٰ یا کسی حکومتی نمائندے سے ملنا پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں، ہم جمہوری طریقے سے چل رہے ہیں۔پارٹی قائد کا احترام کرتے ہیں لیکن جمہوریت میں پارٹی قیادت سے اختلاف رائے رکھنے کا تمام ارکان کو حق حاصل ہے۔ان کا کہنا تھاکہ پارٹی قائد کی نامناسب بات پراختلاف کا اظہار کرنے میں ناراض ہونے والی کونسی بات ہے۔اگر اس نے یہ کہا ہے کہ پارٹی قیادت کی ٹکراو کی پالیسی ملک کے لئے فائدہ مند نہیں،تو اس نے کیا غلط کہا ہے۔ٹکراؤ کی پالیسی سے مہنگائی کم نہیں ہوگی، سڑکوں پر احتجاج سے انتشار پھیلے گا۔جس کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکنوں کی ملکیت ہے اس میں خاندان کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے اور پارٹیوں کے اندر بھی جمہوریت ہونی چاہئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میاں جلیل ملک کے سیاسی اکھاڑے میں پہلی بار اترے ہیں وہ نظریاتی کارکن ہیں وہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں بھی برطانیہ، امریکہ، فرانس اور دیگر جمہوری ملکوں کی طرح کا جمہوری نظام رائج ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے جس میں ہر شخص کو اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ لیکن برصغیر میں رائج جمہوری نظام دیگر جمہوریتوں سے بالکل مختلف ہے۔ ہمارے ہاں کی جمہوریت میں سیاسی پارٹیاں توموجود ہیں مگر وہ مخصوص خاندانوں کی ذاتی جاگیر ہوتی ہیں۔پارٹی میں قائد کی حیثیت مطلق العنان بادشاہ کی ہوتی ہے۔ وہ جسے چاہئے اپنا ولی عہد مقرر کرسکتا ہے۔ پارٹی اجلاس میں صرف قائد کو سنا جاسکتا ہے کسی کو قائد کی رائے کے خلاف لب کشائی کی اجازت نہیں ہوتی۔اور اگر کسی نے ایسی گستاخی کی تو اسے غدار ٹھہرایاجاتا ہے اسے شوکاز نوٹس جاری کئے جاتے ہیں اس کی پارٹی رکنیت معطل کی جاتی ہے۔اگر وہ اسمبلی کا ممبر ہو تو اس سے زبردستی استعفیٰ لیا جاتا ہے۔ برصغیر کی سیاسی پارٹیوں پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو موروثی سیاست چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔بنگلہ دیش کی سیاست آج بھی مجیب الرحمان کے خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ بھارت میں پنڈت جواہر لعل نہرو کے بعد ان کی بیٹی اندرا گاندھی، اس کے بعد بڑا بیٹا راجیو گاندھی، پھر اس کا بیٹا راہول گاندھی کانگریس کی قیادت کر رہے ہیں۔ہمارے ہاں ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی بنائی ان کے بعد بیگم نصرت بھٹو چیئرپرسن بنی، ماں کے بعد بے نظیر بھٹو چیئرپرسن بنی، بے نظیر کی شہادت کے بعد ورثے میں قیادت داماد کو ملی، داماد نے اپنے بیٹے کو ولی عہد مقرر کردیا۔ مسلم لیگ ن کی داغ بیل میاں نواز شریف نے ڈالی، ان کی گرفتاری کے بعد بھائی شہباز شریف صدر بنے، تاحیات قائد نے نائب صدارت اپنی بیٹی کو عنایت کردی۔ اسی خاندان میں نصف درجن افراد مسلم لیگ ن کی آئندہ قیادت سنبھالنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں باچا خان کی پارٹی کی کمان ان کے فرزند عبدالولی خان نے سنبھالی ان کے بعد بیٹے اسفندیارولی مرکزی چیئرمین بنے، انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے ایمل ولی کو صدارت کے لئے چنا،مولانا مفتی محمود کے بعد مولانا فصل الرحمان نے اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالی جب عمر ڈھلنے لگی تو انہوں نے اپنے دو بھائیوں اور ایک بیٹے کو سیاست میں متعارف کرایا، پیپلز پارٹی سے الگ ہوکر اپنی الگ جماعت قومی وطن پارٹی بنانے والے آفتاب شیر پاؤ نے بھی اپنے بیٹے کو نائب مقرر کردیا،چوہدری برادران نے بھی مسلم لیگ ق کو اپنا خاندانی جاگیر بنادیا ہے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں صرف ایک ہی پارٹی جماعت اسلامی ایسی ہے جہاں موروثیت کے بجائے خدمات کی بنیاد پر ووٹ کے ذریعے قیادت کا انتخاب کیا جاتا ہے موجودہ حکمران جماعت میں عمران خان کے بعد ان کے خاندان سے پارٹی کا قائداب تک کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔ہماری سیاسی پارٹیوں میں صرف ضلعی اور تحصیل سطح پر الیکشن ہوتے ہیں صوبائی اور قومی سطح پر سلیکشن ہوتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں آتی اس ملک میں جمہوری نظام مستحکم نہیں ہوسکتا چاہے غیر جمہوری قیادت کے درمیان جتنے بھی میثاق جمہوریت طے پاجائیں۔کیونکہ جو، باجرہ اور مکئی کا بیج بو کر گندم کی پیداوار حاصل کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔جب تک ہمارے رویے جمہوری نہیں ہوں گے ہم خود کو جمہوریت کا علمبردار قرار نہیں دے سکتے۔ اپنے عوام کو فریب دینے کے لئے اگر ہم نے یہ دعویٰ کربھی لیا تو حقیقی جمہوریت کے علمبردار کبھی بھی ہمیں جمہوری تسلیم نہیں کریں گے۔


شیئر کریں: