Chitral Times

Apr 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجور زیست ….میرا ٹھکانہ کہاں ہے …..تحریر:دلشاد پری چترال

شیئر کریں:


دوران ڈیوٹی خواتین کے مسائل نمٹاتے نمٹاتے بہت سے تلخ حقائق سے واقف ہوگئی۔ایک عورت جب شادی کرتی ہے تو اس کے پلو کے ساتھ بہت سی نصیحتیں باندھی جاتی ہے ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی ہوتی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے برداشت کرنا اور ماں باپ کے عزت اب آپ کے ہاتھ میں ہے اور مرنا جینا اسی گھر میں ہے چاہے سسرال والے اس پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے مگرواپس پلٹ کے بیٹی نے نہیں دیکھنا۔جب سسرال والے بے یارومددگار سمجھ کے دھکے دے کر باہر نکال دیتے ہیں تو وہ قسمت کی ماری بنت حوا گھر کی چوکھٹ پہ قدم رکھتی ہے تو یہاں وہی گھر جہاں اس کا بچپن گزرا اور جوانی کی نئی بہاریں دیکھی وہی اس کے لئے مکمل پرایا ہو جاتا ہے اور اس گھر کے مکین بھی پرائے ہو جاتے ہیں اور یہاں سے اس کے ساتھ سوتیلا پن شروع ہوجاتی ہے۔بھائی اور بھابھی کو کھٹکنے لگتی ہے ماں باپ اگر زندہ ہو توپھر تھوڑے سکون اور رحم مل جاتی ہے اگر ماں باپ زندہ نہ ہو تو بھائی اور بھابھی کو تو اس کی موجودگی سے ہی الرجی ہو جاتی ہے۔رہی سہی کسر معاشرے والے طعنہ مار کر پوری کرتے ہیں۔دنیا جب اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے تو وہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہو جاتی ہے۔کبھی ادھر کھبی ادھر،اپنے گھر کے ہوتے ہوئے بے گھر۔ایسی خواتین سے بھی ملاقات ہو گئی جن کو سگے بھائیوں نے ان کے حق سے محروم کرکے گھر سے بے دخل کیا تھا اور کوئی اپنے بہنوں کو گھر میں رکھ کے یوں احسان جتا رہے تھے جیسے خیرات دے رہے ہو کسی بے کس کو۔

شریعت پہ لمبی لمبی تقریریں تو سب جھاڑتے ہیں لیکن اپنی بیٹیوں کو حق دینے کو کوئی بھی تیار نہیں جس پر شریعت نے سب سے زیادہ زور دیاہے۔اول تو کوئی بہن اور بیٹی کو کو ئی حق نہی دیتا اگر دیتا بھی ہے تو ہر رشتہ ناتا توڑ کے۔بعض ایسے بھائی بھی دیکھ لئے جو اپنی بہن کا حق کسی صورت دینے کو تیار نہیں اور اپنی بیوی بیٹی کو تو اس میں حصہ دار بنا رہے مگر جس بہن کا حق ہے اس سے اس کو نہ صرف محروم رکھا گیا ہے بلکہ اس کو اس زمین سے تنکا برابر دینے کو تیار نہیں۔ اپر چترال کی ایک ایسی بیٹی سے بھی ملی جو دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے در در بھٹک رہی تھی،پوچھنے پہ پتہ چلا کہ شادی ناکام ہوئی تو اپنے والدین کے گھر واپس چلی گئی مگر بھائیوں کو اس کے دو وقت کی روٹی مہنگی پڑی تو گھر سے نکال دیا۔مجبور ہوکے جب اپنا حق مانگا تو ہر رشتہ ناتا ختم کیا گیا۔یہ ظلم کب تک ہوتا رہے گا؟

ظلم کی داستان یہاں پہ ختم نہی ہو رہی۔کئی ایسے خواتین سے بھی ملی جن پر دنیا والوں نے اللہ پاک کی زمین تنگ کر رکھی تھی۔ظلم کرتے ہوئے اور دوسروں کا حق کھاتے ہوئے ہمیں کیوں ڈر نہی لگتا؟
شریعت میں وراثت کی جب بات اجاتی ہے تو ہر ایک پہلو پہ دین اسلام نے وراثت میں بیٹی کو برابر کا حق دیا ہے۔قرآن پاک میں عورتوں کے وراثت کے متعلق سورہ نساء آیت نمبر 7,11,12,13,19,,176 میں واضح زکر موجود ہیں پھر بھی ہم اللہ پاک کے واضع کردہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔جس دولت اور زمین پہ حق جتا کر مرد حضرات ماں، بہن کو گھر سے نکالنے کے درپے ہیں اگر اس کے عوض عورت کو رحم اور عزت دی جائے تو کو نسا قیامت اجائے گی۔جب ہر طرف سے عورت کے لئے زمین تنگ کی جاتی ہے تو وہ راہ سے بھٹک جاتی ہے یا اپنی جان لینے کے درپے ہو کرخودکشی جیسے اقدام لینے پہ مجبور ہو جاتی ہے۔اگر عورت کا کوئی غمگسار اور سائبان بن جائے تو عورت کبھی خود کو تنہا محسوس نہی کرے گی۔شادی کے بعد جب عورت کو سسرال میں مشکلات کا سامنا کرنا جب پڑتا ہے تو وہ اپنی تکلیف بانٹنے میکے اجاتی ہے تو یہاں بھی اسکے ساتھ سوتیلا جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔مجبور ہو کے عورت جب اپنا حق مانگتی ہے تو اس سے تعلق توڑا جاتا ہے۔اگر میکے والے اس کو اس کا جائز حق دے تو کبھی بھی اس کو مانگنے کی ضرورت پیش نہی آئے گی مگر ہمیں رشتوں سے زیادہ جائیداد پیاری۔آج تک ان فرسودہ رسم و رواجوں کی وجہ سے بہت سے خواتین اپنی زندگی گنوا دیئے اور پھر خودکشی کی اصل وجہ چھپا کر یہی گھر والے اس کو زہنی مریض یا مرگی کی مریض قرار دے کر اصل وجہ چھپانے سے بھی دریغ نہی کرتے۔۔کتنے خواتین بے گھر ہوئے اور بہت سے تو اج در بدر کی ٹھوکر کھا رہے ہیں۔اگر واقعی ہمیں اپنی عزت و ناموس پیاری ہیں تو ہمیں خواتین کو ان کا جائز حق دینی چاہئے جو اسلام نے متعین کیا ہے تاکہ اگر سسرال اور میکے کے دروازے اس کے لئے بند ہو تو اس کے پا س سر چھپانے کے لئے چھت میسر ہواور ایک عورت کو مجبور ہو کے عدالت پہنچ کے اپنا حق زبردستی لینے کی نوبت ہی نہ آئے۔


شیئر کریں: