Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ گلگت بلتستان کے زیر اہتمام عبوری آئنی صوبہ حوالے کل جماعتی کانفرنس

شیئر کریں:

گلگت بلتستان(چترال ٹائمز رپورٹ) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، گلگت بلتستان کے زیر اہتمام 29ستمبر بروز منگل مقامی ہوٹل گلگت میں ایک کُل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں گلگت بلتستان کے باشندوں کا حق ملکیت، حق حاکمیت اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کے دیرینہ مطالبے کے برعکس حکومت پاکستان کا تجویز کردہ”گلگت بلتستان۔۔۔ عبوری آئنی صوبہ“ کے عنوان سے جملہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان /ذمہ داران نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران شرکاء نے سیر حاصل گفتگو کے بعد مندرجہ ذیل قراردادیں متعلقہ طو رپر منظور کیں:

۔ شرکائے کانفرنس اس بات پر متفق ہیں کہ 84,471مربع میل پر محیط اور سوا دو کروڑ نفوس پرمشتمل ریاست جموں کشمیر (جس کی پانچ اکائیاں وادیئ کشمیر، جموں، لداخ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں) ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے۔

۔ شرکاء نے اس بات کو واضح کیا کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا جزولاینفک ہی نہیں بلکہ بذاتِ خود مسلہئ کشمیر کا حصہ ہیں۔
۔ شرکائے کانفرنس گلگت بلتستان کے باشندوں کے حق ملکیت، حق حاکمیت اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

۔ شرکاء حکومت پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق کی بحالی کی آڑ میں پاکستان کا عبوری آئنی صوبہ بنانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔

۔ شرکاء نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری آئنی صوبہ بنانے کی تجویز کو کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے منظور شدہ قرار دادوں کے منافی قراردیا۔

۔ شرکاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ریاست کے حصے بکھیرنے اور اس کے قومی تشخیص کو پامال کرنے کے بجائے منقسم ریاست کو جوڑنے کی کوشش کی جائے۔

۔ کانفرنس مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو باہم ملا کر ایک قومی انقلابی حکومت تشکیل دی جائے جس کے وزیر اعظم اور صدر ریاست بالترتیب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہوں۔ وگرنہ گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر طرز پر سیٹ اپ تشکیل دیا جائے یا گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے جس کا سینٹ یا کونسل مشترک ہو۔

۔ کانفرنس مطالبہ کرتا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) پروجیکٹ میں حکومت گلگت بلتستان کو حصہ دار بنایا جائے۔

۔ کانفرنس مزید مطالبہ کرتا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو باہم ملانے والے استور سے مظفرآباد، اسکردو سے کارگل سمیت دیگر قدیم اور قدرتی راستے بھال کئے جائیں۔

۔ شرکائے کانفرنس بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے بھارت تہاڑ جیل میں محبوس چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ جناب محمد یاسین ملک، حریت راہنما شبیر احمد شاہ اور کشمیر خاتون رہنما سیدہ آسیہ اندرابی سمیت جملہ حریت پسند اسیران کو بھارت سے غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

۔ شرکائے کانفرنس متطقہ طور پر ہندو انتہا پسند جماعت کی سربراہی اور نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں کشمیر میں 5اگست 2019؁ء کی ننگی فوجی جارحیت کے نتیجے میں اسے ضم کرنے اور دولخت کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

۔ شرکائے کانفرنس نے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے مجرمانہ خاموشی پر اقوام متحدہ سمیت اقوام عالم کی مذمت کرتے ہوئے انہیں پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلہ کشمیر کے فوری، مستقل اور پائیدار حل کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں۔


شیئر کریں: