Chitral Times

May 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لالچ کی سزا کا آنکھوں دیکھا حال……از قلم ندیم سنگال گرم چشمہ

شیئر کریں:

یہ فرضی کہانی نہیں ہے ایک سچا واقعہ ہے

بازار میں ایک آدمی رہتا تھا اس نے اپنے گلے میں پانی کی بالٹی لٹکا کر اپنے ہاتھ اس بالٹی میں ڈبو کے رکھتا تھا ایک روز کسی بزرگ نے اس آدمی سے پوچھا کہ آپ کیوں ہمیشہ اس بالٹی میں ہاتھ ڈالے رکھتے ہو تو آدمی نے کہا میں پانی سے ہاتھ باہر نکالتا ہوں تو ہاتھ جلتے ہیں جلن ہوتی ہے برداشت نہیں ہوتی تو بزرگ آدمی نے کہا ایسا کیا ہوا ہاتھوں پر جو یہ بیماری لگ گئی تو وہ آدمی کہنے لگا میرا ایک دوست بہت بڑا تاجر تھا اُس کی زمین جائداد بھی تھی مگر وہ بہت لالچی تھا پیسے کی ایسی لت لگ گئ تھی کہ سب کچھ ہونے کے باوجود وہ بھیک مانگنے لگا اور پیسے کو جمع کرتا رہا میں اسے بہت سمجھاتا تھا کہ دولت کی لالچ اچھی نہیں مگر وہ نہ سنتا خیر جب اس کا آخری وقت آیا تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مجھ سے وعدہ لیا کہ اگر میں مر گیا تو یہ ساری دولت تم میرے ساتھ میری قبر میں دفنا دوگے بلاآخر میرا دوست مر گیا اور اس کی وصیت کے مطابق اسکی دولت اسکے جسم کے ساتھ قبر میں دفنادی


کچھ عرصہ گزارا تو میرے دل میں لالچ آگیا اور سوچا کہ میرے دوست نے اتنا پیسا جمع کرکے قبر میں لے گیا وہاں اس کے کس کام کا میں اس کے پیسے نکال لاتا ہوں کسی کو خبر نہیں ہوگی
میں اُس دوست کی قبر پر گیا تھوڑی سی قبر کھودی جیسے ہی پیسے نکالنے کے لیے ہاتھ قبر میں ڈالے قبر سے ایسی آگ نکلی کہ میرے دونوں ہاتھ جل گئے وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں دنیا جہاں کے علاج کراے مہنگی سے مہنگی مرہم لگائی سرجری کروائیں مگر میرے ہاتھوں کی جلن کم نہیں ہوئی پانی میں ہاتھ ڈالتا ہوں تو تھوڑا سکون ملتا ہے اس دن سے میں بس میں یہی سوچ کر کہ آنسو بہاتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں کہ میرے دل میں لالچ آیا اور میرے ہاتھوں پر بس تھوڑی سی آگ پڑی تھی تو میرا یہ حال ہے وہاں میرے دوست کا کیا حال ہوتا ہوگا
وہ آدمی رو رو کر اپنی کہانی سنائے اور کہی جائے مجھے دنیا میں میرے لالچ کی سزا مل رہی ہے آخرت میں کیا بنے گا لوگوں میری طرف دیکھو میں عبرت کا نشان ہوں۔۔۔


شیئر کریں: