Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان کے الیکشن منسوخ کرکے عبوری آئینی سیٹ اپ فراہم کیا جائے۔۔قاری غلام اکبر

شیئر کریں:

گلگت (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے ازخود نوٹس لیکر گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو منسوخ کر کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں اور سابق وفاقی آئینی کمیٹی کے سفارشات کے عین مطابق عبوری آئینی سیٹ اپ فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1999؁ء میں انتخابی اصلاحات کے لئے وفاق کو تین سال کا عرصہ دیا تھا۔جس کے بنیاد پر تین سال بعد حلقہ بندیاں مکمل کر کے اکتوبر 2002؁ء میں وفاق میں انتخابات کا انعقاد کیا گیا جبکہ گلگت بلتستان کے اندر حلقے بڑھانے، حلقہ بندیاں مکمل کرنے کے لئے صرف تین مہینے کا وقت درکار ہے۔گزشتہ 70سالوں میں کبھی بھی گلگت بلتستان کے انتخابات کے انعقاد کے لئے وزیر اعظم پاکستان نے سمری صدر پاکستان کو نہیں بھیجا تھا آج تمام ادارے چیف جسٹس آف پاکستان کے توہین عدالت کی کاروائی سے ڈرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے لئے ایڈوائزی کونسل کے قیام کے موقع پر خصوصی پوزیشن کی بنیاد پر 25000کی آبادی پر ایک نشست دیا گیا تھا ضلع غذر کے چار قدیم ریاستوں کے لئے چار نشستیں تجویز ہوئی تھی۔ الیکشن 1970کے قریب حلقے چھیننے کا کھیل کا انعقاد کر کے ضلع غذر کے عوام کو دو نشستوں سے محروم کیا گیا۔ ضلع غذر کے عوام 50فیصد حلقوں اور 50فیصد بنیادی حقوق سے یکسر محروم چلے آرہے ہیں۔ ضلع گلگت پر آبادی کا بے تحاشا بوجھ ہے، سکردو، ہنزہ، دیامر اور دیگر بڑھے ہوئے آبادیوں کے اضلاع کے عوام کے حلقے بڑھانے حلقہ بندیاں مکمل کرکے انتخابات کے انعقاد کا پرزور مطالبہ ہے مفاد پرستوں نے 2009؁ء کے الیکشن کے موقع پر سابق وفاقی وزیر امور کشمیر قمر الزمان کائرہ کو غلط مشورہ دیکر12اضافہ شدہ نشستوں پر حلقہ بندیاں کرنے نہیں دیا۔ 2015میں حلقہ بندیاں نہ ہونا سابق ارکارن اسمبلی اور ارکان کونسل کی واضح نا اہلی تھی۔ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی و سیاسی شخصیت مرکزی رہنما عمائدین گلگت بلتستان قاری غلام اکبر نے ایڈوکیٹ مرتضیٰ کی قیادت میں ملنے والے یاسین کے ایک وفد سے گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاعمائدین گلگت بلتستان کے مخلصانہ کاوشوں کے بنیاد پر گلگت بلتستان کے اندر امن 25اپریل 2002کو عمائدین گلگت بلتستان کے عہد سے پیدا ہوا۔آج بھی گلگت بلتستان کے عوام عمائدین کو منتخب کر کے مفاد پرستوں کو مسترد کرنے کے پوزیشن میں ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کے مشترکہ طاقت کا اندازہ غلط طور پر لگایا جا رہا ہے۔ حلقے بڑھا کر حلقہ بندیاں مکمل کر کے عبوری آئینی صوبے کے قیام وفاق کے تمام اداروں میں بھرپور نمائندگی، بلدیات کے بھی حلقے بڑھا کر حلقہ بندیاں مکمل کر کے انتخابات کا انعقاد گلگت بلتستان کے عوام اور عمائدین کا پرزور مطالبہ ہے۔اس مطالبے کو نظر انداز کیا گیا تو مفاد پرستوں کو سیاست سے نکال باہر کرنے کے لئے عوام اور عمائدین ملکر سیاسی سطح پر مقابلہ کریں گے۔


شیئر کریں: