Chitral Times

Dec 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔وزیراعلیٰ

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) عالمی یوم سیاحت کے موقع پروزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ سیاحت بین الا قومی برادری کے لیے ناگز یر ہے اور سیاحت سماجی، ثقافتی اور اقتصادی حالات پر براہ راست اثر اندا ز ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو ایڈونچر ٹورازم،قدرتی خوبصورتی، مذہبی سیاحت اور تاریخی مقامات سے مالامال ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواکا ہرضلع اپنی مِثال آپ ہےاوریہاں آپ کو ہر قسم کا لینڈ اسکیپ ملے گا۔شمال مشرِق میں جہاں قراقرم اور ہِمالیہ کے بُلند و بالا اور حسین پہاڑی سلسلے ہیں وہیں شمال مغرب میں کوہِ ہِندوکش اپنی آن بان شان کے ساتھ ایستادہ ہے۔

وزیر اعلیٰ، خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہےجس میں پالیسیوں میں اصلاحات اور نئے سیاحتی مراکزمتعارف کرانا اہمیت کے حامل ہیں ۔سیاحتی صنعت سے وابستہ تمام افراد کے ذرائع آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

عالمی یوم سیاحت کے موقع پر سیکرٹری محکمہ کھیل، سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ موزیم و امور نوجوانان، خیبر پختونخو۱  محمد عابد مجید نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کی بحالی اور نئے مقامات پر سیاحتی سرگرمیاں شروع کرناصوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام عالمی ادارہ برائے سیاحت کا سال 2020 کی لئےعالمی یوم سیاحت کا تھیم” سیاحت اور دیہی ترقی ” ہے۔ جس کا مقصد اقتصادی ترقی کو چلانے اور بڑے شہروں سے باہر دیہی علاقوں میں مواقع مہیا کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے بشمول ان کمیونٹیز میں جو دوسری صورت میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ عالمی یوم سیاحت میں پوری دنیا میں ثقافت اور ورثہ کے تحفظ کیساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں اہم کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں مہمان نوازی کا کوئی ثانی نہیں، محکمہ سیاحت کے زیر انتظام  ہر ضلع میں سیاحتی مقامات میں سہولیات کو اس قابل بنانا ہے جہاں عوام کو روزگار کے نئے مواقع میسر ہوں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے  ان نئے مقامات کوقومی سطح پر سیاحت کے دھارے میں لانا ہے۔ میں سیاحت کے فروغ کیلئے متعدد منصوبوں پرہنگامی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے ۔کمراٹ تا مداکلشٹ، چترال کیبل کار کی منظوری، سفاری ٹرین کا دوبارہ سےآغاز، وادی چترال کی تاریخی ثقافت، کیلاش وادی کی ثقافت اس کی بحالی، بروغل فیسٹیول کو سالانہ کلینڈر ایونٹس میں شامل کرنا، سیاحتی مقامات میں ٹریفک کی روانی بحال رکھنے اور سیاحوں کی سہولیات کیلئے ٹورازم پولیس کی قیام، صوبائی حکومت کے زیراہتمام تمام سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور گیسٹ ہاؤسز کو نجی شعبے میں لیز پر دینے، صوبے کے 9 سیاحتی مقامات پر لگائے جانے والے اپنی نوعیت کےمنفرد کیمپنگ پاڈز کی نجی شعبے کو لیز پر منتقلی، آثارقدیمہ کی سائٹس پر ہیریٹیج ٹورازم کی بحالی سمیت صوبے کے چار مختلف مقامات پر ٹورازم زونز کے قیام پر تیزی سے کام جاری ہے۔

ترجمان محکمہ سیاحت لطیف الرحمان نے کہا کہ کورونا وبائی مرض کی وجہ سے سیاحت اور اس کے ساتھ منسلک تمام شعبوں کو بہت حد تک متاثر کیا ہے۔ سفری پابندی اور سیاحتی مقامات پر لگائے جانے والے لاک ڈاؤن سے بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں معاشی نقصان کیساتھ ساتھ نوجوانوں کو نوکریوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء سے سیاحت کی انڈسٹری کو 10 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے جس میں براہ راست ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے اس میں دکانداروں، پیٹرول پمپ وغیرہ کی آمدن شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سیاحت پر پابندی اٹھ جانے کے بعد13اگست سے اب تک لاکھ کی تعداد میں ملک بھر سے سیاحوں نے خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا ہے اور بتدیج اس میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کا استحکام، قدرتی حسن کی برقراری،صفائی ستھرائی اور ضروری انفراسٹرکچر کی دستیابی وغیرہ ہمارے رویوں سے جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کے چھوٹے ڈیمز کو تفریحی مقامات بنانے کا حال ہی میں فیصلہ کیا ہے جو یقیناً سیاحت کے فروغ اور مقامی افراد کے لئے روزگار کا بہترین ذریعہ ثابت ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں چھوٹے آبی ذخائر سے جہاں پانی کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں وہاں یہ ڈیمز سیروتفریح کے لئے بھی بہترین مقامات ہیں۔صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر 5ڈیمز کو سیاحتہ مقامات بنانے کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے جس میں کنڈل ڈیم صوابی، جلوزئی ڈیم نوشہرہ، تھانڈا ڈیم کوہاٹ، چھتری ڈیم  ہری پور اور جھنگڑا ڈیم ایبٹ آباد شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا کلچرل اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیراہتمام عالمی یوم سیاحت کی مرکزی تقریب خانپور ڈیم کے سیاحتی مقام پرمنعقد ہو گی جس میں فیمیلز کونہ صرف سیاحتی مقام کی سیر کرنے کا موقع ملے گابلکہ ساتھ ہی ساتھ مختلف ایڈونچر سرگرمیوں سے بھی لطف اندوز ہوسکیں گے۔ان سب کے علاوہ محکمہ سیاحت، ثقافت، کھیل،آثارقدیمہ،میوزیم اور امورنوجوانان کے زیراہتمام صوبے کے دیگر سیاحتی مقامات پر بھی عالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے آج خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی یوم سیاحت پر فیمیلز خانپور کے مقام پر کشتی رانی، زیپ لائننگ، ایئرگن شوٹنگ، لیک سوئمنگ، ویک ٹیوبنگ، جیٹ سکی رائیڈکے علاوہ ایئر بیلون شو، آرسی جہاز شو، بچوں کیلئے میجک شو، روایتی کھانوں اور روایتی موسیقی سے بھی خوب محظوظ ہونے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ عالمی یوم سیاحت کے حوالے سے ملاکنڈ ڈویژن میں سیدو شریف سوات میں اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں سوات ایئر فیسٹیول منایا جائے گا جو کہ سوات کی تاریخ میں پہلی بار بڑا ایئر شو ہو گا۔جس میں پیراگلائیڈنگ، ہینگ گلائیڈنگ، پیراموٹر فلائنگ، ٹرائیک فلائنگ، الٹرالائٹ فلائنگ، مائیکرو لایٹ فلائنگ، ڈرون فلائنگ اور ایئروماڈلنگ شو شامل ہے۔ہزارہ ڈویژن میں عالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے رنگ دے گلیات شامل ہے جس میں پینٹنگ، بون فائر، لائیو موسیقی، لائیو باربی کیو اور مختلف روایتی کھانے شامل ہیں۔ محکمہ سیاحت نے شہریوں کی تفریح کیساتھ ساتھ دیگر اقدامات بھی کئے ہیں جن میں کائیٹ پراجیکٹ کے تحت آثارقدیمہ کے مقامات کی نشاندہی اور سیاحوں کی آگاہی کیلئے 10 ڈسٹرکٹ میں 540 سائن بورڈز کی تنصیب کیلئے مفاہمتی یاداشت پر دستخط83 سائن بورڈ کی مردان میں تنصیب،تخت بھائی کے مقام پر 20 معلوماتی سائن بورڈ کی تنصیب کا پروگرام رواں دواں، تین مختلف مقامات میں کوڑا کرکٹ اور کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے مشینری کی تنصیب،صوبے کے پانچ سیاحتی مقامات گلیات، ٹھنڈیانی،شوگران، کمراٹ اور کیلاش میں ریسکیو 1122 سٹیشن قائم کرنے اور ایمرجنسی آلات کی خریداری کیلئے پروکیورمنٹ اور اقدامات شامل ہیں۔ ڈائریکٹریٹ آف ٹورسٹ سروسز اور کائیٹ پراجیکٹ کے تعاون سے سوات، ایبٹ آباد، نتھیاگلی، ناران، مانسہرہ اور پشاور میں سیاحت کے شعبے سے منسلک پبلک سیکٹر اداروں اور پرائیویٹ سٹیک ہولڈرز کے 700 سے زائدشرکاء کو سیاحتی مقامات میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ایس اوپیز پر عمل درآمد اور سیاحوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اسی طرح محکمہ امورنوجوانان کے زیراہتمام ایگل کیمپ 2020 پرواز جنون کے نام سے پانچ روزہ کیمپ کاکالام کے سیاحتی مقام پر انعقاد کیا گیا جس کی اختتامی تقریب 27 ستمبر کو منعقد ہوگی جس میں 100 طلباء و طالبات نے ملک بھر سے حصہ لیا اس کیمپ کا مقصد وادی سوات کے تاریخی مقامات کی رونمائی اور ان سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔ ڈائریکٹریٹ آف آرکیالوجی اور میوزیم کے زیراہتمام عالمی یوم سیاحت پرسکول و کالجزکے طلباء وطالبات کیلئے تاریخی عجائب گھر پشاور کی سیر اور معلوماتی دورے کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں عجائب گھر میں موجود ہزاروں سال پرانے بدھ مت کے آثارقدیمہ اور تاریخ سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔یونائٹڈ نیشنل ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن (یو این ڈبلیو ٹی او) نے سال 2020 کو سیاحت اور دیہی ترقی کے سال کے طور پر نامزد کیا ہے جس کا مقصداس سال ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ، قدرتی اور ثقافتی ورثہ کا تحفظ اورسیاحت کے شعبے کو فروغ دیناہے۔ 


شیئر کریں: