Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔بر طا نیہ کے اسلا می مدارس۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

بر طانوی اخبارات میں تعلیمی سر گر میوں کی خبریں اعدادو شما ر کے ساتھ دی جا تی ہیں حا لیہ رپورٹ کے مطا بق بر طا نیہ میں مسلمانوں کی آبادی 25لاکھ 16ہزار ہے سکو ل میں پڑھنے والے 15سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کی تعداد آبادی کے ایک تہا ئی کے برابر یعنی 8لا کھ ہے ان میں سے 3لا کھ بچے اور بچیاں مسلمانوں کے اپنے اسلا می مدرسوں سے میڑک اور ایف ایس سی کر لیتی ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بر طا نیہ کے طول و عرض میں اسلامی مدارس کی تعداد دو ہزار ایک سو ہے جن میں قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم کے ساتھ طلباء اور طا لبات کو جنرل سر ٹیفیکیٹ آف سیکنڈری ایجو کیشن (GCSE) او لیول اور اے لیول کے امتحا نا ت میں بٹھا یا جا تا ہے بڑی بات یہ ہے کہ 2020کے دوران سکو لوں کی جو در جہ بندی سامنے آئی ہے اس کی رو سے 28اسلا می مدارس کو بہترین سکو لوں کی سند دی گئی ہے جبکہ 8مدا رس کو اول در جے کے 20سکو لوں میں شا مل کیا گیا ہے جن میں مدرسہ تو حید لاسلا میہ بلیک برن کو پہلی پو زیشن دی گئی ہے دوسری پو زیشن پر بھی انگریزی سکول نہیں بلکہ بر منگھم کا مدرسہ العدن للبنا ت کا نام آیا ہے تیسرا نمبر بھی کسی انگریزی سکول کانہیں بلکہ کا ونٹری کے مدرسہ العون للبنا ت کو ملا ہے اس درجہ بندی میں جہاں اسلامی مدارس کے اسا تذہ کی محنت کا دخل ہے وہاں انگریزوں کی انصاف پسندی اور غیر جا نبداردرجہ بندی کو بھی داد دینی پڑتی ہے انہوں نے پہلے تین درجے گھما پھرا کر کسی چرچ کے سکول کو نہیں دیے رپورٹ میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ درجہ بندی میں سکول کے امتحا نی نتا ئج، نظم و ضبط، تر بیتی نظام اور طلباء و طا لبات کی ہمہ جہتی قابلیت کو مد نظر رکھا گیا ہے اسلا می مدارس کے طلباء اور طا لبات نے GCSE، اولیول اور اے لیول کے امتحا نا ت میں امتیا زی نمبر لئے اور ٹاپ سکو ر ر میں شا مل ہوئے نظم و ضبط بھی مثا لی تھا اور بچوں، بچیوں کی عمو می تر بیت کا معیا ر بھی بہت بلند تھا رپورٹ میں اس بات کو سرا ہا گیا ہے کہ اسلا می مدارس کا سسٹم کسی بھی لحا ظ سے بر طا نیہ کے خزانے پر بوجھ نہیں یہ سسٹم طلباء و طا لبات کی فیسوں اور مخیر مسلما نوں کی عطیا ت سے اپنی تعلیمی، تر قیا تی اور دیگر ضروریات کی کفا لت کر تا ہے اس سسٹم کے اندر جسما نی ورزش اور کھیلوں کا مر بوط طریقہ کار ہے طلباء اور طا لبات کے لئے تفریحی اور تعلیمی دوروں کے انتظامات کا با قاعدہ کیلنڈر ہے نصا بی سر گر میوں کے ساتھ ہم نصا بی سر گر میوں کا مر بوط انتظام ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلا می مدارس کے طلباء و طالبات عربی اور انگریزی کے ساتھ فزکس، ریا ضی، کمیسٹری اور بیا لو جی میں بھی اے گریڈ لیتے ہیں مضا مین کی تفہیم اور تکرار کے ساتھ اظہار، بیان اور اسلوب نگارش میں بھی دوسروں پر سبقت لے جا تے ہیں رپورٹ میں ایک اسلا می مدرسہ کے منتظم نو مسلم یوسف اسلام کی رائے دی گئی ہے ان کا کہنا ہے کہ مسلمان ہو نے سے پہلے میں گلو کار تھا اسلامی طرز زندگی اپنا نے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے بچوں کے لئے اسلامی طرز کا سکول ہونا چاہئیے مجھے اسلا می مدارس کا سسٹم پسند آیا چنا نچہ مسلما نوں کے تعاون سے میں نے خود ایک اسلامی مدرسہ کھولا یہ میرا ذریعہ آمدن بھی ہے اور کمیو نیٹی کی خد مت کا ذریعہ بھی ہے ہمارے مدرسوں کے بچے اور بچیاں بر طانیہ میں پیشہ ورانہ تعلیم کے معیاری اداروں میں جا کر بہتر نتا ئج دیتی ہیں خصو صاً بچیاں اچھے نمبر لیکر ثا بت کرتی ہیں کہ پر دہ اور حجاب بہتر مستقبل کی راہ میں رکا وٹ نہیں بلکہ ممد اور معا ون ثا بت ہو تا ہے رپورٹ میں ایک مدرس شیخ عبد السلا م کا انٹر ویو دیا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ بر طا نیہ میں اسلامی مدارس کے اساتذہ صرف نو کری نہیں کر تے بلکہ مشن اور جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں ہم صرف ہُنر نہیں سکھا تے، لکھنا پڑھنا ہی نہیں سکھا تے اس کے ساتھ طلباء اور طا لبات کی روحا نی تر بیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دیتے ہیں اس وجہ سے لو گ اپنے بچوں اور بچیوں کے لئے ہمارے سسٹم کا انتخا ب کرتے ہیں رپورٹ میں ایک طا لبہ کی ماں محترمہ ساجدہ حا مد کا انٹر ویو بھی آیا ہے آپ کہتی ہیں کہ بر طانوی شہری ہونا اعزاز ہے لیکن یہاں بچوں کی اچھی تعلیم و تر بیت بہت مشکل ہے ما شا اللہ اسلا می مدارس میں زیر تعلیم بچے اور بچیاں فجر کی نماز سے لیکر عشاء کی نما ز تک تعلیمی سر گرمی میں مشغول ہوتی ہیں ماں باپ کی اطا عت کر تی ہیں اور قرآن و حدیث کے ساتھ انگریزی مضا مین اور سا ئنسی علوم میں بھی دوسروں سے بہتر نتا ئج دیتی ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلما نوں نے اپنے سکولوں کو انگریزی نا م نہیں دیے بلکہ ڈنکے کی چوٹ اسلا می مدرسہ کا نام دیا ہماری لغت میں مولا نا کی طرح مدرسہ کا نام بھی اپنے معنی بدل دیتا ہے انیسویں صدی میں علماء کو مُلا یا مولوی کہا جا تا تھا، نثر نگار، انشاپردازاور ادیب کو مو لا نا کہا جا تا تھا جیسے مو لانا محمد علی جو ہر مولا نا حسرت مو ہا نی وغیرہ اس طرح انگریزی سکولوں کو مدرسہ اور اسلا می سکولوں دارلعلوم کہا جا تا تھا پشتو میں مشہور مصرعہ ہے”سبق د مدرسے وائی، لہ پارہ د پیسے وائی“ (انگریزی سکول میں پڑھنا ہے نیت یہ ہے کہ دو پیسے کما ئے گا)آج کل مدرسہ کا لفظ دارلعلوم کی جگہ استعمال ہوتا ہے بر طا نیہ میں رہنے والے مسلما نوں نے اسلا می مدارس کے معیا ر کو بلند کر کے پوری دنیا کے مسلما نوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔


شیئر کریں: