Chitral Times

Jan 21, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قلعہ دراسن (موڑکہو )تاریخ کےآئینےمیں ….تحریر : سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

قلعہ’ دراسن’ چترال مرکز سے پچھاسی کلومیٹر کے فاصلے پر شمال کی جانب سطح سمندر سے 6850 فٹ کی بلندی پر قاق لشٹ کے دامن میں دریائے موڑکہو سے متصل اپنی تاریخی اورشاہانہ  شان و شوکت کے ساتھ سرزمینِ  موڑکہو میں واقع ہے ۔ یہ علاقہ 399 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے جو اس وقت لوئیر اور اپر چترال کی دوسری بڑی اور آبادی کے لحاظ سے تیسر ی   بڑی تحصیل ہے جسے ریاست کے دور میں ایک بڑے صوبے کا درجہ حاصل تھا  اور شہزادہ خدیوالملک(1927 ء تا 1942 ء) اس علاقے کےآخری حکمران  (گورنر) رہے  ہیں۔

پاکستان بننے کے بعد انتظامی نقطہ نظر سے ‘دراسن’ کی صوبائی حیثیت تو پہلے ہی سے ختم ہوچکی ہے لیکن ایک تحصیل کی حیثیت سے’ دراسن’  پورے موڑکہو  کا ہیڈکوارٹر رہا ہے جو لوٹ اویر سے شروع ہوکر تریچ شاگروم تک پھیلا ہوا ہے۔جس کے بہت ہی قریب بلندو بالا مشہور چوٹی تریچ میر اپنی( 25250 فٹ ) بلندی  اور دیو ہیکل گلیشرز کے ساتھ مغرب کی جانب واقع ہے جو ہر سیاح کو اپنی طرف  متوجہ کیا کرتا ہے۔جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے  ماضی میں ہر سال مغربی ممالک  سے   سیاح  اس کی طرف آتے تھے۔لیکن اب مختلف وجوہات کی بنا پر سیاحوں کا اس کی طرف آنا کم دیکھائی دے رہا ہے۔

عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کشم سے کوشٹ تک بہت سے قلعوں کے اثرات اور کھنڈرات اب بھی باقی ہیں جو سومالکی اور رئیس دورکے بنائے ہوئے قلعے تھے ۔اُن میں بعض کے آثرا ت صاف واضح ہیں جبکہ اکثر ناپید ہوچکے ہیں۔جن کے بارے میں شہزادہ تنویرالملک نے اپنی  کتاب ” موڑکہو تاریخ کے آئینے میں”  تفصیل کے ساتھ وضاحت کی ہے۔

تاریخ سے یہ شواہد ملتے ہیں کہ موڑکہو   پر  سومالک اول تا سومالک ثانی اور ان کی اولاد میں ہونے والے  حکمران  یاری بیگ بن شیر ملک حکومت کرچکے ہیں اور ان سب کا پا  یہ تخت موڑکہو ہی  رہا ہے جیسا کہ “1230 ء کو   جب  ایک غیر ملکی سردار نادر رئیس  کے ہاتھوں زندہ روح (زون ملک) کو شکست ہوئی اور وہ اپنے اہل و عیال اور امراء کے ساتھ بدخشان میں پناہ گزین ہوا۔ اس کے خاندان کے دوسرے افراد قتل ہوئےجو بچ نکلے وہ شغنان اور واخان جاکر پناہ لی۔ یوں مستوج پر زوندرے اقتدار کا اختتام ہوا  جبکہ تورکہو اور موڑکہو پر شیر ملک کے فرزند یاری بیگ کا اقتدار قائم رہا ” (تاریخ تعارف اقوام، اخونزادہ مرزا  افضل واحد بیگ، ص 148)                                                                                                                                       

ریاست موڑکہو میں” دراسن” دو اہم  اور تاریخی جگہوں  کا نام ہے ۔ ان میں سے ایک  قلعہ کوشٹ بالا میں ہے۔یہ کوئی  پرانہ تعمیر شدہ  قلعہ نہیں ہے  بلکہ شہزادہ تنویرالملک کے مطابق اس قلعے کو (1942ء) میں ہزہائنس محمد ناصرالملک نے اپنے ایک بھتیجے شہزادہ غلام جیلانی کے لئے تعمیر کروایا تھا۔کوشٹ کے سنگل کتہ رضا خیل لال کی  اٹھ چکورام  زمین میں  یہ  قلعہ تعمیر کیا گیا ہے۔جس کی کوئی نرینہ اولادنہیں تھی اور یہ زمین شہزادہ غلام جیلانی کو ہبہ کے طور پر  دیا گیا تھا ۔کہتے ہیں کہ اس جگہے میں دیو  اور جنات کثرت سے رہتے تھے جو اس علاقے کے مکینوں کو بہت زیادہ تنگ کرتے تھے  ۔انہوں نے  اطہول  گاؤں سے میرمُلا  کو  جو (اطہول چی داشمن) کے نام سے معروف  تھے  بلایا تاکہ وہ  دم شم اور منتر کے ذریعے اُن کو  نکال دے۔میر مُلا نے حسبِ تواقع ایسا ہی کیا  جس کے نتیجے میں مذکورہ  یہ زمین فی سبیل اللہ انہیں دی  گئی۔لیکن  بعد میں شہزادہ موصوف نے  بمباغ میں بیالیس چکورام زمین  جو ایک بے آب و گیاہ بیابان تھا  انہیں عنایت کر کے   اس کے متبادل کوشٹ کی یہ زمین  اُن سے واپس لے لی۔بمباغ میں میر مُلا کے اس جائیداد  میں اب  اس کے خاندان کے دس گھرانے آباد ہیں ۔ بمباغ میں  پہلا مدرسہ تعمیر کرنے  کا سہرا  بھی میرمُلا کو ہی جاتا ہے جس نے  خشت اول کی بنیاد رکھ کر علم کے لئے راہ ہموار کیا۔جس کے مدرسے میں پڑھنے والے ہونہارطلبہء میں ذائینی پیشالدوری سے مکمل شاہ سنگالے لال  اور موردیر کے محمد بیگے  خاندان سے تعلق رکھنے والے  شرف الدین خان لال  ہیں جو بعد میں اپنے پورے خاندان کو  نہ صرف تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا بلکہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ریاستی فوج  میں لیفٹیننٹ اور کوارٹر  ماسٹر کے عہدے پر  فائض رہ کر وقت اور حالات کے مطابق لوگوں کی خدمت  کرکے اپنا نام روشن کیا۔

دراسن کوشٹ قلعے کے فصیل اب بھی اپنی جگہ خستہ حالت میں قائم ہے جبکہ اندرونی نقشے میں کافی ردوبدل کیا جاچکا ہے۔جس کے  آس پاس محمد بیگے، رضاخیل،ولئے،اوکیلے وغیرہ قومیت کے معزز لوگ آباد ہیں میر ولی المعروف باورچی موژ دہ کوشٹ کے ایک معزز قبیلے (ولئے)سے تعلق رکھتے ہیں نہ صرف ہزہائینس ناصرالملک مہترِ چترال کے باورچی  رہ  چکے ہیں بلکہ تیس سال کے لمبے عرصے تک دراسن کوشٹ  اور بمباغ کے ان قلعوں  میں شہزادہ غلام جیلانی  کے ہاں بحیثیت باورچی اپنی خدمات بہ حسنِ خوبی انجام دے چکے ہیں۔میر وزیر  موصوف کے ایک ہونہار فرزند ہیں جو کوشٹ موژدہ میں  ایک اہم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، جو  اپنے والدمیر ولی (باورچی) کی طرح مذہبی،سماجی اور سیاسی معاملات میں ایک مثبت کردار برسوں سے نہ صرف  ادا کرتے آرہے ہیں  بلکہ اپنی پرآثر اور معلوماتی گفتگو  سے ہر انے والے کے دل  کو بھی  جیت لیتے ہیں۔

  اس خوبصورت قلعے کی ملکیت، شینجورآن  کے علاوہ    بمباغ کے دوسرے قلعے کے ساتھ  اب  شہزادہ نثار جیلانی  اور شہزادہ  ڈاکٹر فیض الملک جیلانی  کے پاس ہے۔جو اس وقت اپر چترال ڈسٹرکٹ  ہیڈکوارٹر ہسپتال میں میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔

   جبکہ دوسرا  ‘دراسن’  خلقہ سہت کے دامن میں پلمتی گاؤں سے متصل ایک خوبصورت جگہے کو ‘دراسن’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہےجو پورے علاقہ موڑکہو کا پایہ تخت رہا ہے۔ جہاں شرعی، ملکی ، سماجی اور معاشرتی  مسائل کے حل کے لئے اہم فیصلے ہوتے تھے،مجرموں کو سزائیں ہوتی تھیں اور ان کو کال کوٹھری میں میں بند کیا جاتا تھا۔جب محمد نادر خان المعروف چارویلو خان جو دوش لال کے بڑے بیٹے تھے کو سزا ہوئی  تو اس کو ‘دراسن’ موڑکہو کے زیندان میں رکھا گیا تو اس نے اپنی اسیری کے دوران  ایک گیت تخلیق کیا تھا  جو “چارویلو خانو دَنی” کے نام سے  اب بھی مشہور ہے جس میں اپنی اسیری کاذ کر کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

دراسنہ مہ زیدانی دونیان ہائے مہ دردانو کان تہ عشقہ باندی

مہ ہردی شیشو چقہ کہ اوچھیتائے ژان برارگنیان نوبوئے پیوندی

ترجمہ: اے میرے محبوب ! قلعہ دراسن میں مجھے قید میں ڈال دیا گیا ہے ۔ میرا دل شیشے جیسا نازک ہے اگر ایک بار ٹوٹ گیا تو پھر دوبارہ نہیں جڑا جاسکتا ہے۔     (موڑکہو تاریخ کے آئینے میں، شہزادہ تنویرالملک ۔ص248 )

اس قلعے کے بالکل سامنے گورنمنٹ بوائز  ہائی اسکول ہے   جس کے عقب میں علاقہ سہت کے بہت ہی مشور و معرو ف شخصیت   الحاج  سردار آمان شاہ  المعروف( سہتو چیر مین) کی آخری  آرام گاہ موجود ہےجو اپنی ذہانت اور صلاحیت کے ناطے کشمیر کی جنگ کے بھی ہیرو رہ چکے ہیں ۔ قلعے کے آس پاس کٹورے، دشمنے ، آخونزادہ ، خوشے، زوندرے اور وغیرہ  برادریوں کے معزز اور تعلیم یافتہ لوگوں کی بستی قائم ہے جو اس قلعے کی ہمسائیگی کا حق برسوں سے ادا کرتے ہوئے آرہے ہیں۔البتہ ‘پالمتی دراسن’ کے اصل باشندہ  دشمنے قبیلے کے مشہور نام چراغ باشی جنہیں مقامی لوگ (چرابوشے)  کہتے ہیں کی نسل آباد ہے ۔ دشمنے قومیت  کے دوسرے وہ لوگ ہیں  جو  تریچ ، کشم اور سہت سے یہاں اکر شہزاگانِ دراسن سے زمین خرید کر  آباد ہوگئے ہیں۔ جبکہ ‘دراسن’ کے آخونزادہ گان وہ لوگ ہیں جنہیں’ دراسن ‘کے گورنر  شہزادہ خدیو الملک   نے انہیں اپنی ریاست کے اندر مذہبی درس وتدریس کے کاموں کے علاوہ  ‘دراسن’ کے شاہی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے کے  لئے شاہی  اراضی سے زمینیں مہربانی کرکے کشم سے یہاں  لاکر آباد کیا ہے۔

آجکل یہ قلعہ اگرچہ اپنی اصلی حالت میں نہیں ہے تاہم کئی نامور حکمرانوں کا مسکن ہونے کی وجہ سے اُسے تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ اس قلعے میں  کٹور  شاہی خاندان کے محترم شاہ کٹور ثانی ، شاہ امان الملک اور افضل الملک جیسے حکمرانوں نےاپنی زندگی کے دن بسر کئے ہیں۔

یہ وہ قلعہ ہے جہاں (1850ء )کے عشرے میں میر افضل خان جو تختِ چترال کا دعویدار تھا بحالتِ اسیری زندگی کے دن گزار کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔شیر افضل کا  بیٹا شاہ نادر بھی انگریزوں کی فوج کی پسپائی کے لئے دراسن کے اس قلعے کو اپنا مرکز بنایا۔ یہ وہ قلعہ ہے جہاں شہزادہ خدیو الملک جو اس علاقے کا آخری گورنر بھی رہ چکے تھے اپنی زندگی کے آخری  شب و روز گزارے اور اب یہ خوبصورت قلعہ اُن کے پوتوں شہزادہ افتخار الملک ،تنویر الملک، مبشر الملک، اور مدثر الملک جو شہزادہ فخرالملک فخرؔ کے فرزندان ارجمند ہیں کی ملکیت ہے جو چترال شہر میں آباد ہیں جبکہ شہزادہ اقبال الملک اور شہزادہ سعیدالملک جو شہزادہ عمادا لملک کے بیٹے ہیں اس وقت’ دراسن’ کے اس تاریخی قلعے  کے مالک ہیں اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات  اس قلعے میں بسر کررہے ہیں۔یہ شہزادہ گان اگرچہ شاہانہ طرزِ زندگی میں پرورش پائے ہیں۔تاہم اپنے اعلیٰ اخلاق  اور رویے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں   اب بھی راج کررہے ہیں۔اور وہ معاشرتی زندگی میں ایک عام فرد کی حیثیت سے تمام معاملات  میں  بڑھ چڑھ کر حصّہ لیکر  ایک عام شہری ہونے کے ناطے اپنے فرائض کماحقہُ انجام  دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

شہزادہ تنویرالملک اپنی کتاب “موڑکہو تاریخ کے آئینے میں” رقمطراز ہیں۔” یہاں کٹور حکمران محترم شاہ ثانی کا (1782ء) کا تعمیر کردہ قلعہ موجود ہے ۔ یہ قلعہ کم و بیش آٹھ چکورام علاقے کو گھیرا ہوا ہے جس کے ارد گرد پچیس فٹ اونچی اور پانچ فٹ موٹی فصیل موجود ہے اور چاروں کونوں پر فصیل کے اوپر نگرانی کے لئے تین منزلہ بُرج تعمیر کئے گئے تھے اور فصیل کے باہر چاروں طرف باغات موجود ہیں۔ یہ قلعہ اندر سے دو حصوں میں منقسم ہے ۔ قلعے کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوکر ریاستی عمال کے دفترات اور رہاشی کمرے ، توشہ خانہ ، بازخانے اور مسجد موجود تھے۔قلعے کا دوسرا حصّہ شاہی مہمانخانہ اور گورنر کی رہائیش گاہ اور دیگر عدالتی اور انتظامی کمیٹی کی مٹینگیں منعقد ہوتیں”۔  اب اس قلعے کی صرف فصیل کی دیوار اپنی اصلی حالت میں موجود ہےباقی سب کچھ تبدیل ہوچکا ہے”      (موڑکہو تاریخ کے آئینے میں) شہزادہ تنویرالملک ۔ ص 12 )

اس خوبصورت اور تاریخی قلعے کی شاندار عمارت کو دیکھ کر سعدی شیرازیؒ  کا یہ  پُرحکمت شعر یاد آتا ہے۔

ہر کہ آمد عمارت نو ساخت                              رفت و منزل بادیگری پرداخت

 ترجمہ: جو کوئی بھی اس دنیا میں حکمرانی کے تحت پر آیا اور نئی عمارت تعمیر کی ۔ لیکن جونہی وہ اس دنیا سے کوچ کر چلا گیا تو یہ عمارت دوسرے کو تفویض کیا ۔

آج قلعہ ‘دراسن ‘کی حیثیت بہت بدل چکی ہے کہاں قلعہ دراسن  جو کٹور، رئیس  اور سومالکی دور میں پا یہ تخت ہوا کرتا تھا  اور جس کی ہئیت اور وخشت سے سب لرزہ براندام تھے  اور کہاں تحصیل کی سطح  تک اکر منجمد ہونا ایک  قصہءپارینہ لگتا ہے۔ (1947 ء) کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بھی قلعہ دراسن صوبے کا ایک ہیڈ کوارٹر ہوا کرتا تھا اور یہ سلسلہ (1969ء)  تک  جب کہ  ہز ہائینس  محمد سیف الملک ناصر چترال کےآخری حکمران رہے قلعہ ‘دراسن ‘کی مرکزی حیثیت اپنی جگہ برقرار تھی۔ پھر پورے  چترال  کو صوبہ سرحد  کا ایک ضلع بنا کر موڑکہو کو  اس کے زیرِ انتظام تحصیل  کی حیثیت دی گئی ۔

اگر ماضی کو حال کے آئینے میں دیکھ لیا جائے تو معلوم ہوگا  کہ چترال کا مہتر بھی یہاں سے ہوتا تھا ، اتالیق اور حاکم بھی  اسی زمین سے ہوتے تھے  ۔اس پر طرہ یہ کہ  بڑے بڑے علماء، فقہاء،ادباء اور نامور شعراء بھی اسی جنم بومی کے پیداوار ہوا کرتے  تھے ۔ آج حالت یہ ہے کہ لوگ اپنی صلاحیت و قابلیت  سے اپنی  میراثِ گم گشتہ حاصل کرنے کے بجائے  ایک دوسرے کے خلاف نفرت و تعصب اور منفی رجحانات سے ایک دوسرے کو نیچا  دیکھانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ترقی کی راہیں مسدود ہو نے کے ساتھ ساتھ مشکلات اور مسائل  بھی پیش آتی ہیں۔لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ:

 آج چترال انتظامی طور پر  دو حصوّں میں منقسم ہوکر تحصیل موڑکہو کی انتظامی معاملات جیسے تعلیم، صحت ، ٹیلی کمیونیکشن، پولیس اور دیگر ترقیاتی کاموں میں کافی حد تک بہتری آنا شروع ہوچکی ہے اور مذید بہتری کی امید ہے۔اس سلسلے میں علاقے کے شہریوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ  موجودہ انتظامیہ سے مدد اور تعاون کرتے ہوئے اپنے معاشرے کو آگے لیجانےمیں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔معاشرے سے تعصب، نفرت ، لڑائی جھگڑے اور پارٹی بازی جیسے منفی رجحانات سے  اپنا دامن  بچاتے ہوئے اپنے معاشرے  کی ترقی اور اپنی آئندہ نسل کے لئے سوچیں۔  ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تحصیل موڑ کہو کے عوام آگے آئیں اور اپنی بہتر حکمت عملی اور محنت سے اپنا کھویا ہوا مقام اور اپنی مرکزی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے  اپنے قول و فعل میں یکسوئی پیدا کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی  کوشش کریں۔ بقول فدا علی ایثارؔ ہنزوی

گفتار میں کردار میں ہوجائے یگانہ                             تادرسِ عمل تم سے ہی لے اہلِ زمانہ


شیئر کریں: