Chitral Times

Jan 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بچوں میں صبرو تحمل کے عملی مظا ہرےکویقینی بنانے کا فن…تحریر: آمینہ نگاربونی اپر چترال

شیئر کریں:

صبر و تحمّل غم اور خوشی میں معتدل رہتے ہوئے شریعت کے حصار کے اندر رہنے  کا نام ہے ۔ صبر و تحمّل اور برداشت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔

ترجمہ: ” بیشک آللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”

صبر کے عمل میں ارادے کی مظبوطی اور عزم کی پختگی ضروری ہے۔صبر کا تانا بانا استقلال و ثابت قدمی سے قائم رہتا ہے۔  اس وصف کو قائم رکھنا ہی صبر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مو جودہ دور میں بچوں کے اندر صبر و تحمل کا فقدان ہے جس  کی وجہ سے ان کی زندگیوں  میں مشکلات روز بروز بڑھ  رہی ہیں  نتیجے کے طور پر والدین پریشانی کے دلدل میں پھنسے جا رہے ہیں ۔روزمرہ کے چھو ٹے چھو ٹے کاموں میں عجلت  اُنہیں زندگی میں آنے  والی مصیبتوں کو صبرو تحمل  سے حل کرنے سے روکتی ہیں  اور وہ حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے  حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی زندگی اجیرں بن جاتی ہے۔ یہ بات مشاہدے میں ائی ہے کہ اِس دور کے بچے ہر کام میں برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے  ہیں اور زرا سی دیر ہونے پر ہنگامہ اتنا کہ قیامت بپا ہو جاتی ہے ۔ کھانا پکنے یا لگنے میں دیر، انٹیرنیٹ  کے چلنے میں سستی ، کسی تقریب میں بیٹھ کر اس کے ختم ہونے کا انتظار، طویل سفر میں بے صبری و بے چینی   وغیرہ وہ عوامل ہیں جوکہ اُنہیں  حوصلے سے کسی مصیبت کا سامنا کرنے کی عظیم  ہمت کو پست  کرتے ہوئے اُنہیں بے دست پا کر دیتے ہیں    ۔بچوں کو یہ بات سمجھانے کی اشد ضرورت ہے کہ اپنے اپ کو حالات کے مطابق ڈھالنے کا واحد زریعہ صبروتحمل ہے جو کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر بہتر فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے  ۔

 ذیل میں چند تدابیر دی گئی  ہیں جو کہ بچوں کے اندر صبرو تحمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی  ہیں۔

  • صبر کا مطلب صرف انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ انتظار کے دوراں اچھے رویے کا مظاہرہ کرنا ہے لہذا کو شش کریں کہ دوران انتظار اپ کے رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی دوسروں کی نظروں میں اپ کو حقیر نہ  بنائے ۔ صبر اختیار کرنے سے ہی  مشکلات  کو قبول کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔
  • ·        ذیادہ پریشانی اور غصے کی حالت  میں اگر صبر کا دامن چھوٹ جائے  تو اپنے آپ کو ارام کرنے کا موقع دیں۔ اور کچھ دیر کے لئے الگ تھلگ بیٹھ کر اپنی  پریشانی اور حالات کے بارے میں سوچیں کیوں کہ جلد بازی میں کیا ہوا فیصلہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے  ۔  اور یہی ایک پل  کا صبر اور  مثبت سوچ غصے  کی حالت میں انسان سے  سرزد ہونے والےکسی بھی نا خوشگوارواقعےکو روک سکتا ہے۔ 
  • ·        عبادت و بندگی میں باقاعدہ گی بے سکونی اور پریشانی سے بچا سکتی ہے  اور یہی  صبر اور سکون حاصل کرنے کا بہترین زریعہ ہے۔
  • کو ئی ایسی پریشانی جو کہ طویل عر صے  دامن گیر رہی ہو تو معمول سے ہٹ کر کو ئی  اور کام کرنےسے اپنے آپ کو ترو  تازہ رکھنے کا موقع ملتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ وقت بچوں کے ساتھ کھیل کر گزاریں گے تو طبیعت میں تازگی آ جائے گی اور وقت گزر جائے گا۔
  • اپنے سننے کے عمل کو مظبوط کرنے سے صبر کی طاقت ذیادہ ہوگی۔ کسی بھی بات کا جواب جلدی دینے کے بجائے کچھ سوچ کے جواب دینا ،بے تُکی بحث سے گریز کرنا، خاموش رہ کر صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا کوئی کمزوری نہیں بلکہ  مظبوطی اور طاقت  کی علامت ہے۔
  • اگر گھر کے کوئی کام مثال کے طور پر برتن دھونا، کپڑے دھونا اور گھر کی صفائی وغیرہ ادھوری رہ جائے تو اپنے آپ کو پریشاں کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صبرکر کے یہ سوچنا مناسب ہو گا کہ ہر کام اپنے وقت پر ہی ہوتا رہے گا۔ کام کا جلد یا بدیر ہونا ہماری مرضی سے ذیادہ وقت کی مرضی پر منحصر ہے ۔  
  • کچھ چیزوں کی عملداری سے صبر کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ مثلاً دماغ کو سوچنے کا موقع دینا، کسی پسند کی چیز کو لینے سے پہلے ارادتاً دیر لگانا اور سوشل میڈیا پر کوئی چیز پوسٹ کر کے بار بار نہ دیکھنا وغیرہ صبر کی صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

 مذکورہ گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ صبر وہ ہتھیار ہے جو کہ انسان کو بڑے بڑے مسائل سے اطمیناں کے ساتھ نمٹنے میں مدد دیتا ہے اور انسان کے اندراپنے آپ کو مضبوط بنا کر کسی بھی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کا

حو صلہ پیدا کرتا ہے۔ لہذا بچوں میں صبر کی صلاحیت کو فروغ دے کر انھیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کاموقع دینا لازمی ہے۔تا کہ وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر کسی بھی نا خوشگوار واقعے کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح سینہ تان کے سامنا کرنے کا فن جان سکیں ۔  


شیئر کریں: