Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حملے کی زد میں آنے والی زبانیں…..تحریر: شمس الحق نوازش غذری

شیئر کریں:


یہ دنیا کی واحد خاتون تھی جس کے گھر میں بیسیوں لوگ یوں سر جھکائے کھڑے رہتے تھے۔ جیسے انتہائی فرمانبردار بیٹے ماں کی محبت میں دست بدستہ کھڑے رہتے تھے۔اس کی بینائی کمزور ہو چکی تھی سماعت بھی متاثر ہوئی تھی، اسے دل کا عارضہ بھی لاحق تھا، وہ دمہ اور کھانسی کی مرض میں بھی مبتلا تھی، ان کے علاوہ بھی دیگر کئی عارضے اسے لاحق تھے۔اس کی خدمت میں مامور لوگوں میں سے کوئی ان کے لئے کھانے کی انتظام میں مصروف ہوتا تو کوئی ان کی بوٹ پالش کرنے اور کپڑے استری کرنے میں لگا رہتا۔کسی کو ان کی ادویات کی فکر ہوتی تو کسی کو ان کی پسندیدہ مشروبات اور پھل فروٹ کے اہتمام کا خیال رہتا۔لیکن انتہائی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس 109سالہ بڑھیا سے ان افراد کا کوئی روحانی رشتہ تھا نہ ہی خونی۔۔۔۔۔یہ خاتون کسی کی مذہبی پیشوا تھی اور نہ ہی سیاسی۔۔۔اس بڑھیا کو خاتو ن اول کا درجہ حاصل تھا اور نہ ہی یہ خاتون کسی بادشاہ کی ملکہ تھیں۔لیکن ان سب کے باوجود پھر بھی کوئی نہ کوئی وجہ تھی کہ دنیا کے اس منفرد خاتون کو تمام انسانوں میں دنیا کا اہم ترین فرد اور وی آئی پی کا درجہ حاصل تھا۔یہ خاتون نیپال کی تھی اور “سومہ دیوی”نام سے اس کی شہرت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔”سومہ دیوی”کے گھر میں 20بڑے اداروں کے کارکن ہر وقت موجود رہتے تھے۔کوئی ان کے نہیب بدن سے پرانے گیتوں کے سر نکالنے کی تگ ودو میں رہتا تو کسی کو ان کے خیالات سمیٹ کر محاورات اور ضرب الامثال تلاش کرنے کی فکر دامن گیر رہتی۔ کسی کے ذمہ میں قصے کہانیاں سننا تھا تو کسی کو اس کی ضعیف یادداشت میں سے افسانے تلاش کرنے کا جنون سوار رہتا۔یوں دنیا کے شہرت یافتہ اداروں کے اہم کارکن اور عہدیدار اس کی گفتگو سے فیضیاب ہونے کیلئے گفتگو کے عنوانات آپس میں تقسیم کر رکھے تھے۔اس عمر میں پہنچنے والے اکثر انسان اپنے جگر گوشوں کے منہ سے دو بول کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں اس جیسے نانیوں اور دادیوں کے ساتھ چند جملوں کے تبادلے کے لئے کسی کے پاس کوئی وقت نہیں ایسے عالم میں یہ دنیا کی خوش قسمت خاتون تھی جن سے نہ صرف لوگ گفتگو کیا کرتے تھے بلکہ ان کی گفتگو کو تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے ریکارڈبھی کیا کرتے تھے۔109سالہ “سومہ دیوی”دادی اماں اپنوں سے لیکر غیروں کی محبت اورتوجہ کا مرکز اس لئے بنی تھی کہ ان کے وجود میں “دیورا”نامی زبان سانس لے رہی تھی اور دنیا میں “دیورا”زبان کی بقاء کا ذریعہ یہی واحد خاتون رہ گئی تھی۔کیونکہ اس کی موت کے ساتھ ہی دنیا میں بولی جانے والی “دیورا”زبان بھی دم توڑنے والی تھی۔


یوں دنیا کے مختلف رفاہی تنظیموں کے ہزاروں کارکن، لسانیت کے سینکڑوں ماہرین کروڑوں ڈالروں کا انبار لگا کر اس بڑھیا کی زندگی کی آخری دم تک دیورا زبان کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔مختلف رفاہی اداروں اور لسانیات کے ماہرین کا خیال تھا کہ سومہ دیوی دنیا سے رحلت کے بعد دنیا میں سومہ دیوی جیسی لاکھوں بڑھیائیں تو موجود ہونگی لیکن دیوار زبان کی سانس نکلنے کے بعد دنیا میں دیورا جیسی کوئی زبان نہیں ہوگی۔اس لئے سینکڑوں رفاہی ادارے، درجنوں اشاعتی فرم اور کئی یونیورسٹیاں اس بڑھیا کی پشت پر کھڑی تھیں۔بالآخر سومہ دیوی کی روح پرواز کر گئی اور دیورا زبان بھی اپنی زندگی کی بازی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہار گئی۔کیونکہ دنیا کی تاریخ میں موت اور زندگی کی جنگ میں شکست ہمیشہ زندگی کو ہی ہوئی ہے۔نیپالی عوام نے سومہ دیوی کو قبر میں اور دیورا کو لیبارٹری میں دفنانے کے بعد غمزدہ دل کی تسکین کے لئے دنیا کی طرف دیکھ لیا تو ساری دنیا نے بھی دیورا زبان کی موت پر عالمی طور پر ماتم کیا۔کیونکہ سومہ دیوی کے بجائے دیورا زبان کی عالمی طور پر آنسو بہانا اس لئے بھی مقصود تھا کہ دنیا میں سومہ دیوی جیسی لاکھوں بڑھیائیں موجود تھیں لیکن دنیا کے 6ہزار زبانوں میں نیپال کے دیورا زبان کی طرح زبان کا کہیں وجود نہیں تھا۔


جی ہاں!اس سال کو بھی ہم نے حسب معمول مادری زبانوں کا عالمی دن منایا۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں پروگرام کئے، لوگوں کے خیالات سنے، ماہرین سے رائے لئے، سیمینار منعقد کئے لیکن گلگت میں بولی جانے والی مقامی زبانوں کے مستقبل سے بدستور خائف رہے۔ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ وطن عزیز میں 61زبانیں جبکہ صوبہ سرحد اور گلگت بلتستان میں 26زبانیں بولی جاتی ہیں۔اس وقت گلگت بلتستان میں بولی جانے والی بلتی، بروشسکی، وخی، شینا اور کھوار زبان کو انگریزی اصطلاح میں Threatend Languageکہا جاتا ہے جس کا اردو ترجمہ”حملے کی زد میں آنے والی زبان “۔ چترال سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی حملے کی زد میں آنے والے زبان کی جامع تعریف یوں کرتے ہیں۔”اس کے بولنے والوں کی تعداد 10ہزار سے زائد یعنی لاکھوں میں ہو مگر اس زبان میں بچے تعلیم حاصل نہ کرتے ہوں،جو درسی زبان کے طور پڑھائی نہ جاتی ہو۔ جس کے بولنے والے آپس میں گفتگو کسی اور زبان میں کرتے ہوں، مادری زبان کے طور پر بولنے والوں کے گھروں میں بچے اور بچیاں دوسری زبانیں بولتے ہوں، جو میڈیا کی زبان نہ ہو، اس معیار میں سے کسی ایک پر بھی پوری اترنے والی زبان حملے کی زد میں آنیوالی زبان کہلاتی ہے”۔


ہمارے ملک اور ہمارے علاقے میں زبان ادب اور ادیب کا مسئلہ ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے۔ ادیب، شاعر اور دانشور ملکوں، معاشروں اور زبانوں کے محسن ہوتے ہیں لیکن ہم نے ہر دور میں اپنے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کو رسوا کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔وہ عمر بھر اس ملک میں کسمپرسی کا شکار رہے۔اگر ہم ایک لمحے کے لئے اس حقیقت پر غور کریں کہ وہ کونسی سہولتیں، کونسی عزت اور کونسی توقیر ہے جس کی تلاش میں ہمارے ادیب، شاعر اور دانشور ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ قومی سطح پر مقامی زبانوں کی تحفظ کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر مقامی زبانوں کی تحفظ کا کوئی اہتمام۔ ہمارے غیر ثقافتی رویے، ہماری زبان دشمنی اور ادب کُش پالیسیوں نے اس ملک میں ادب، فکر اور فن کو معیار بننے دیا نہ ہی فنکار، مفکر اور ادیب کو ہیرو۔زبان و ادب اور ثقافت کی ترویج اور فروغ کا سلسلہ اس ملک میں کیسے رواج پائے گا جس ملک کے باسیوں کی ڈکشنری میں زبان و ادب اور ثقافت کی اہمیت کچی سیاہی کی طرح مٹ گئی ہو۔ اس ملک میں زبان و ادب کے نام سے ثقافتی “اسٹیج شو”پر تو لاکھوں روپے خُرد برد ہو جاتے ہیں لیکن زبان و ادب پر تخلیقی کام کرنے کے لئے یا ادیب اور دانشور کے تخلیقی مواد کو منظر عام پر لانے کے لئے کہیں ادارہ موجود ہے اور نہ ہی اس فالتو کام کے لئے کہیں فنڈ مختص ہے۔ یہاں زبان و ادب کی تخلیقات کو بالکل بے معنی اور لا یعنی عمل سمجھا جاتا ہے۔ علمی، ادبی اور تخلیقی کام کرنے والے دانشور قوموں اور ملکوں کے محسن ہوتے ہیں لیکن ہم نے ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے محسنوں کو رسوا کردیا۔چاہے وہ نصرت فتح علی خان ہوں یا مہدی حسن، قراۃ العین حیدر ہوں یا فیض احمد فیض۔ وہ گلگت کا امین ضیا ہو یا جمشید خان دکھی اور عبد الخالق تاج، وہ ہنزہ کا شیر باز علی برچہ ہو یا سکردو کا حسن حسرت اور یوسف حسین آبادی، وہ غذر کا جاوید حیات کاکا خیل ہو یا چلاس کا شمالی اور فراق۔ان لوگوں کاجرم یہ ہے کہ یہ لوگ کسی ترقی یافتہ ملک میں پیدا نہیں ہوئے۔اگر ان کے پاس عزت اور اختیار ہوتا تو یہ لوٹا بن کر یا کرپشن کی بد بو دار نہر میں غوطہ زن رہ کر بینک بیلنس بناتے۔ اگر یہ علمی قد آور شخصیات، یہ جینوئن ادیب اور شاعر تخلیق کے بجائے سیاست شروع کر دیتے، یہ علم کے چشمے بننے کے بجائے نوکریاں بیچتے، یہ ادبی اور علمی تخلیق کار کے بجائے ضمیر کے بیو پاری بن جاتے تو آج اس ملک میں یہ لوگ نامور بھی ہوتے اور قد آور بھی۔ان کا جرم یہ ہے کہ یہ جینوئن اور علمی قد آور شخصیات امریکہ، یورپ،برطانیہ اور بھارت کے بجائے پاکستان اور گلگت بلتستان میں پیدا ہوئے۔ ان نادان دانشوروں اور ادیبوں کو پتہ ہی نہیں کہ یہ اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں جس ملک میں ادیب، شاعر اور دانشور کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے یہ اس ملک کے باسی ہیں جہاں ضمیر، نظریہ، ایمان اور وفاداری بزنس کی ایک فورم کا نام ہے قصہ مختصر یہ اس ملک کے شہری ہیں جہاں شاعروں، دانشوروں اور ادیبوں کو جینے ہی نہیں دیا جاتا۔


گلگت بلتستان کے یہ تمام ادیب و شاعر اور دانشور اپنے معصوم خواہشوں کو تاریخ مستقبل کے حوالے کرنے کے لئے تاریخ کے نئے صفحوں کے منتظر ہیں اور اللہ کے حضور دعا گو ہیں کہ کل کو کوئی مورخ تاریخ کے صفحہ میں یہ جملہ نہ لکھے”آج گلگت بلتستان کے سومہ دیوی نامی بڑھیا انتقال کر گئی اور اہلیان گلگت بلتستان نے سومہ دیوی کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے مقامی زبان دیورا کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔”


شیئر کریں: