Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں گولن گول بجلی گھر سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کیلئے باقاعدہ معاہدہ کرنے کافیصلہ

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپور ٹ) خیبرپختونخوامیں بجلی کے نظام کی بہتری،لوڈشیڈنگ میں کمی اور بجلی کی خریداری وفروخت کے عمل میں حائل رکاوٹیں دورکرنے کے لئے صوبائی محکمہ توانائی اورپشاورالیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) نے صوبے کے بہتر مفا د کو نظر رکھتے ہو ئے تمام معاملات باہمی اتفاق سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ صوبے میں صنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر بجلی کی فروخت کے سلسلے میں ویلنگ ماڈل کوتوسیع دی جائے گی۔ضلع چترال میں گولن گول بجلی گھر سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے لئے باقاعدہ طورپر معاہدہ کرنے اورمستقبل میں صوبے کے کسی بھی مقام پر توانائی منصوبہ شروع کرنے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے پر زوردیا گیا۔منگل کے روز مشیر توانائی حمایت اللہ خان کی زیرصدارت پیسکوحکام کے ساتھ مذکو رہ امو ر اور صوبے میں بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری اوربجلی کی فروخت کے سلسلے میں ادائیگیوں کے مسائل کے حوالے سے پشا ور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں سیکرٹری توانائی محمد زبیر خان،چیف ایگزیکٹوپیسکو انجینئرجبارخان،چیف ایگزیکٹوپیڈو انجینئرنعیم خان،ایڈیشنل سیکرٹری پاورظفرالاسلام، ایڈیشنل سیکرٹری اقبا ل یو سفزئی،چیف انجینئرپیسکوحبیب خان،جنرل منیجرہائیڈل انجینئرزاہد اخترصابری اورچیف انجینئرمقصود انورنے شرکت کی۔اجلاس میں پیسکوچیف انجینئرجبارخان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بجلی کاناجائز استعمال،فیلڈسٹاف کی کمی،پرانا ٹرانسمیشن نظام،اوورلوڈڈٹرانسفارمراوربلوں کی عدم ادائیگی کاکلچر لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ کوروناایمرجنسی کی صورتحال میں بھی ہماری ریکوری مہم متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوں کی ادائیگی کرنے والے فیڈرزپر لوڈشیڈنگ زیروہے۔ مشیرتوانائی حمایت اللہ خان نے کہاکہ خیبرپختونخوامیں بجلی چوری دیگرصوبوں کسے قدرے کم ہے انہوں نے زوردیا کہ اس مسئلے کی اصل وجہ ہمارے صوبے کے صارفین کو ملنے والی سبسڈی دیگر صوبوں کی نسبت نتہائی کم ہو نا ہے۔ اجلاس میں پیڈوکے تکمیل شدہ مچئی،کوٹو اورجبوڑی بجلی گھر وں سے پیداہونے والی بجلی کی فروخت کے معاہدوں اورپیہوربجلی گھر کے بقایاجات کی ادائیگی سمیت ویلنگ ماڈل کی توسیع کے امورپر جامع بحث کی گئی اوران مسائل کے فوری حل کے لئے لائحہ عمل مرتب کیاگیا۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ صوبے کو وزیراعلیٰ اورسول سیکرٹریٹ میں شمسی توانائی سے پیداہونے والی بجلی کی نیٹ میٹرنگ سے ادائیگی کاعمل بھی آئندہ ماہ سے شروع ہوجائے گا۔اس موقع پر سیکرٹری توانائی زبیرخان نے پیسکوحکام کو یقین دلایا کہ بجلی بقایاجات کی ریکوری اورناجائز استعمال کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومت کاتعاون جاری رہے گا۔اس سلسلے میں صوبائی ٹاسک فورس نے پیسکوحکام کے ساتھ مل کرپہلے ہی تقریباً 2ارب روپے کی ریکوری کرلی ہے۔ اجلاس میں پیڈواورپیسکوحکام نے تمام معاملات صوبے کے بہترین مفاد کے لئے باہمی مشاورت اتفاق رائے اور تعا ون سے حل کرنے کا فیصلہ کیا۔


شیئر کریں: