Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خان صاب ہم گھبرا گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔گل عدن

شیئر کریں:

بچپن میں جب بڑے ہمیں قیامت کی نشانیاں بتاتے تھے تو سن کر کانپ اٹھتے تھے ۔لیکن پھر یہ سوچ کر اطمینان ہو تا تھا کہ قیامت ابھی بہت دور ہے۔اور ہم ان نشانیوں کے ظاہر ہو نے سے پہلے منوں مٹی تلے سو چکے ہوں گے ۔لیکن ہمیں کیا پتا تھا کہ جن لوگوں کی زندگیوں کا نقشہ قیامت کی نشانیاں بتا کر ہمیں ڈرایا جا رہا ہے وہ عبرتناک زندگیاں ہماری ہوں گی ۔وہ بدبخت لوگ ہم ہی ہوں گے ۔


آج مجھ سمیت اس قوم کی ہر خاتون جس کرب اور ذہنی اذیت سے گذر رہی ہے میرا قلم اسے بیان کرنے سے قاصر ہے ۔یہ بھی کو ئی زندگی ہےکہ جسکی صبح خوف و ہراس سے شروع ہو اور شام اذیت ناک واہموں کی نذر ہو جائے ۔ہر روز اک نیا اندوہناک حادثہ ۔کبھی چار سال کی زینب کےساتھ ۔کبھی چار بچوں کی ماں کے ساتھ ۔کبھی ماں کے بغیر سودا سلف لانے والا معصوم بچہ درندوں کا شکار تو کبھی بچوں کیساتھ جانے والی ماں ۔اور تواور ان درندوں نے تو قبروں میں پڑے لاچار مردوں کو بھی نہیں بخشا ۔درندہ لفظ بھی بہت چھوٹا محسوس ہو رہا ہے کہ اتنی سفاکیت نہیں ہو تی ہو۔گی ۔چوری کر نے والوں پر افسوس ہو تا ہے قتل کرنے والوں پر غصہ آتا ہے مگر دوسروں کی عزت کو پامال کرنے والے شیطانی کارندوں سے صرف گھن آتی ہے ۔اور مجھے ان ناپاک شیاطین کے بارے میں کچھ نہیں لکھنا۔


ایک تو آئے روز دلخراش واقعات اوپر سے ہمارے عہدے داروں کے غیر ذمہ دارانہ روئے اور بے حسی ناصرف قابل مذمت ہےبلکہ شرمناک ہیں ۔وہ لیڈرز جو حکومت میں آنے سے پہلے ہمیں حضرت علی اور حضرت عمر کے اقوال سنایا کرتے تھے ۔کیا آپ بھول گئے کے ایک چرواہے کی بکری مرگئی تو اسے یقین آگیا کے آج حضرت عمر زندہ نہیں رہے ۔کیوں کے حضرت عمر ؓ کی ذندگی میں کوئی اسکے بکریوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرآت نہیں کر سکتا تھا ۔اور حضرت علی ؓ کی وہ ارشاد بھی آپکو یاد دلا دوں کے اگر نیل کی ساحل پر ایک کتا بھی پیاسا مرا تو اسکی ذمہ داری عمر پر عائد ہو گی ۔


یہ میں آپ کو اس لئے یاد دلا رہی ہوں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت سی پارٹیوں نے ہمیں روٹی کپرا مکان اور ترقی کے خواب دکھائے اور توڑ دئیے مگر پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جس نے سب سے پہلے تو اپنی پارٹی کا نام انصاف رکھ کرغریب کا ووٹ خرید لیا۔اور دوسرا وہ خواب دکھایا جو پہلے کسی جماعت نے نہیں دکھایا تھا ۔


ریاست مدینہ کا خواب ۔اور اس خواب کو توڑنے کی معافی نہیں ملےگی ۔روٹی کپڑا مکان کی خیر ہے روزگار کے جھوٹے وعدوں کی بھی خیر ہے مگر اب وقت آگیا ہے کہ ریاست مدینہ میں انصاف کی حکومت عوام کو انصاف دلا کر دکھائے ۔شریعت کے عین مطابق سزا دلا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرکے دکھائیں جو فرماتے تھے کہ اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اسکے ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔
میں بحثیت ایک مسلمان عورت کے اپنی ایمان کی اس درجہ کمزوری کیساتھ نہیں جی سکتی کے چپ چاپ

تماشائی بن کر دیکتھے رہیں ۔نہیں مجھے ایسی خاموشی گوارا نہیں ۔میں جب رب کے حضور جاؤں گی تو میں کہہ سکوں گی کہ میں نے آواز تو اٹھائی تھی لیکن وہ سنی نیہں گئی ۔ہماری آواز کو حکومت تک پہنچا نے والے ہمارے علاقے کے وہ منتخب نمائندے ہیں جنہوں نے ہم سے کتاب کے نام پر ووٹ لیا۔میں اس تحریر کے ذریعے آپکو اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہم نے پچھلے تین سال سے آپ سے کچھ نہیں مانگا۔مگر آج ہم اپنی ووٹ کا حق مانگ رہے ہیں ۔۔اب دیکھیں گے کہ مجرموں کو کتاب کے مطابق سزا دلوانے میں آپ کیا کردار ادا کرتے ہیں ۔


عوام کا بنیادی حق چاہے وہ کسی مذہب اور پارٹی کا ہو ۔عزت وآبرو اور جان کا تحفظ ہے ۔جس ملک میں عوام کی عزت محفوظ نہیں وہ ملک کیسے خوش حال ہو سکتا ہے ۔زینب کی ماں باپ بیہن بھائی کس اذیت سے دوچار ہیں ۔آپکو اندازہ ہے ۔ان لوگوں کی پل پل سسکتی زندگی کی ذمے دار نا صرف وہ شیاطین ہیں بلکہ وہ حکمران اور صاحب حثیت عوام وہ اعلیٰ افسران بھی ہیں جو ان درندوں کو سزا دینے میں نرمی دکھاتے رہے ہیں ۔


بہت پہلے ایک نظم پڑھی تھی نجانے کس نے لکھی تھی آج اسے پڑھا تولگا یہ تو ہم پرلکھی گئ ہے اور خون سے لکھی گئی ہے ۔


جگر کا خون پلا کر تم نےبنیادیں رکھیں تھیں کیوں ؟؟
ایک ایسے آشیانے کی ‘
کہ جس کے سب مکینوں کو سلاسل میں ہی پلنا ہے کہ جسکے صحن میں تازہ گلابوں کو بکھرنا تھا ۔۔
نہ شاہین پھر پھراتے ہیں
نہ تارے جگمگاتے ہیں
نہ سائہ لاالٰہ کا
نہ سکہ مصطفیٰ ﷺکا
خودی در در بھٹکتی ہے
مسلمانی سسکتی ہے
اگر وہ خواب سچے تھے تو یہ تعبیر کیسی ہے ؟؟
اگر معمار مخلص تھے تو یہ تعمیر کیسی ہے ؟؟!!


شیئر کریں: